پونے میں کانگریس دفتر کے سامنے احتجاج کرنے پہنچے بی جے پی ورکروں کو مقامی باشندوں نے گھیر لیا ، احتجاج چھوڑ کر رخصت ہونا پڑا۔
EPAPER
Updated: July 24, 2026, 10:33 AM IST | Pune
پونے میں کانگریس دفتر کے سامنے احتجاج کرنے پہنچے بی جے پی ورکروں کو مقامی باشندوں نے گھیر لیا ، احتجاج چھوڑ کر رخصت ہونا پڑا۔
بی جے پی ورکروں کو پونے میں اس وقت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب مقامی باشندوں نے گھیر لیا اور سوال کیا کہ ’’ کیا آپ لوگوں کو شرم نہیں آتی؟ کیا آپ کے بچے امتحان میں شریک نہیں ہوتے؟‘‘ کانگریس کے خلاف ہونے والے اس احتجاج میں صرف ۱۵؍ یا ۲۰؍ بی جے پی ورکر جمع ہوئے تھے۔ انہیں بھی مقامی باشندوں نے جھاڑ دیا۔
یاد رہے کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے منگل کے روز وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا تھا جس کے جواب میں بی جے پی ورکروں نے بدھ کے روز مہاراشٹر کے مختلف علاقوں میں کانگریس دفاتر کے سامنے احتجاج کیا۔ ایسا ہی ایک پونے شہر میں واقع کانگریس کے دفتر کے باہر بھی کیا جانے والا تھا۔ بی جے پی نوجوانوں اور طلبہ کو جمع کرکے کانگریس دفتر کے باہر نعرے لگانے والی تھی لیکن ان کے احتجاج میں کوئی شامل نہیں ہوا۔ بڑی مشکل سے ۱۵؍ یا ۲۰؍ افراد جمع ہوئے ۔ حالانکہ پولیس نے بڑی تعداد میں اہلکاروں کو تعینات کر رکھا تھا اور ایک طرف کا ٹریفک بند کر دیا تھا۔ خود بی جےپی کے شہر یوتھ ونگ کے صدر اور مقامی کارپوریٹر بھی احتجاج میں نہیں شامل نہیں ہوئے۔ ۱۵؍ ۔ ۲۰؍ لوگوںکا یہ مورچہ جب کانگریس بھون پہنچا تو مقامی باشندوں نے انہیں گھیر لیا اور سوال کرنا شروع کر دیا۔ ان کا کہنا تھا ’’ کیا آپ کے گھر میں کوئی طالب علم نہیں ہے؟ کیا آپ نے طلبہ کا احتجاج نہیں دیکھا؟ کیا آپ آج صرف راہل گاندھی کی مخالفت میں احتجاج کر رہے ہیں؟ کیا آپ کو طلبہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے؟ ‘‘ آخر کار بی جے پی ورکروں کو کوئی جواب نہیں سوجھا تو وہ وہاں سے رخصت ہو گئے۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی کے بعد آج کولکاتا میں سی جے پی ریلی نکالے گی
بی جے پی ورکروں کا کہنا تھا کہ ملک کی آزادی کے بعد سے آج تک کسی وزیر اعظم کے گھر کے سامنے کوئی احتجاج نہیں ہوا۔ کانگریس ملک کی ثقافت کو خراب کرنے کا کام کر رہی ہے اور غلط قدم اٹھا رہی ہے۔ بی جے پی کا ایجنڈا طلبہ کو انصاف فراہم کرنا ہے۔ تاہم، کانگریس طلبہ کو بھڑکانے کا کام کر رہی ہے۔‘‘ بی جے پی ورکروں کے پاس کانگریس پر لگانے کیلئے تو کافی الزامات تھے لیکن لیکن پیپر لیک کے تعلق سے کوئی جواب نہیں تھا لہٰذا وہ وہاں سے چلتے بنے۔ بی جے پی کے اس احتجاج میں پروین گنجیوالے، ساگر شیٹے، سریش لیلے اور شیوم بالواڈکر نے حصہ لیا۔
یاد رہے کہ جب سے راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی کی رہائش گاہ کے سامنے احتجاج کیا ہے بی جے پی ورکروں نےان کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے وہ مہاراشٹر سمیت ملک بھر میں کانگریس دفاتر کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں۔ کئی مقامات پر دونوں پارٹیوں کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی ہے۔