داہود میں راہل گاندھی کی للکار، ’’نیا گجرات بنانا ہوگا ‘‘

Updated: May 11, 2022, 7:29 AM IST | ahmedabad

آدیواسی ستیہ گرہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ قدرتی وسائل پرقبائلیوںکا حق ہے اورکو ئی بھی ترقیاتی کام ان کے وجود کی قیمت پر نہیںہوگا

Rahul Gandhi addressing the Tribal Satyagraha Rally in Dahod. (PTI)
راہل گاندھی داہود میںآدیواسی ستیہ گرہ ریلی سے خطاب کے دوران۔(پی ٹی آئی )

گجرات میں اس سال کے آخر میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس سے قبل کانگریس نے گجرات میں سیاسی میدان کو مضبوط کرنے کی تیاری تیز کردی ہے۔ گجرات میں انتخابی مہم کو تیز کرتے ہوئے کانگریس لیڈر راہل گاندھی منگل کو گجرات کے داہود پہنچ گئے۔ یہاں راہل گاندھی نے آدیواسی ستیہ گرہ ریلی سے خطاب کیا۔اس دوران راہل گاندھی نے نوٹ بندی، جی ایس ٹی، کورونا اور منریگا  کے حوالے سے مودی حکومت کو سخت نشانہ بنایا۔
  راہل گاندھی نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’ وزیر اعظم مودی نے لوک سبھا میں منریگا کا مذاق اڑایا۔ انہوں نے کہا، میں اسے منسوخ کرنا چاہتا ہوں لیکن نہیں کروں گا، کیونکہ ملک کو یاد رکھنا چاہئے کہ کانگریس پارٹی نے کیا تھا۔ لیکن آج کورونا کے وقت منریگا اسکیم نہ ہوتی تو آپ جانتے ہیں ملک کی کیا حالت ہوتی؟راہل گاندھی نے کہا، اگر گجرات میں کانگریس کی حکومت بنتی ہے تو دریا کو جوڑنے کے منصوبے کو روک دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت صرف دو سے تین لوگ حکومت چلا رہے ہیں۔ اب ہمیں نیا گجرات بنانا پڑے گا۔ ہم گجرات کو ایسا ماڈل دیں گے، جب ہم سب مل کر کام کریں گے۔
  راہل گاندھی نے کہا’’ عوام اور نوجوانوں کو ایک ساتھ کھڑا ہونا ہوگا اور بغیر کسی خوف کے سچائی کے لیے لڑنا ہوگا۔راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم آئے، نوٹ بندی کی، جیب سے پیسہ نکالا، آپ سے کہا، کالے دھن کے خلاف لڑائی ہے۔ پورے ملک کو بینک کے سامنے کھڑا کر دیا۔ پورے ملک نے کمایا ہوا پیسہ بینک میں ڈالا، کالے دھن کے خلاف کچھ نہیں ہوا۔ ارب پتیوں کو فائدہ ہوا۔‘‘ راہل گاندھی نے کہا’’گجرات میں کورونا سے۳؍لاکھ لوگ ہلاک ہو گئے، گنگا ماں لاشوں سے بھر گئی تھی، ہندوستان میں کورونا  سے پچاس ساٹھ لاکھ لوگ مرے لیکن یہ لوگ اس پر بات نہیں کرتے، یہ لوگ کہتے ہیں، تھالی بجاؤ، لائٹ جلاؤ۔‘‘راہل گاندھی نے کہا کہ یہ عوامی جلسہ نہیں ہے۔ یہ ایک تحریک کا آغاز ہے۔ یہ ستیہ گرہ کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ۲۰۱۴ء  میں نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم بنے۔ اس سے پہلے وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔ مودی نے ملک کو دو ملکوں میں تقسیم کر دیا۔ پہلا ہندوستان امیروں کا اور دوسرا غریب اور عام لوگوں کا ہندوستان۔ لیکن کانگریس دو ہندوستان نہیں چاہتی۔ ہم صرف ایک ہندوستان چاہتے ہیں، جس میں تمام لوگوں کو تعلیم اور صحت کا مساوی حق حاصل ہو۔راہل گاندھی نے کہا کہ اگر گجرات میں کانگریس کی حکومت بنتی ہے تو پار تاپی اور نرمدا ندیوں کو جوڑنے کے منصوبے کو روک دیا جائے گا۔واضح رہےکہ  ان ندیوں کو جوڑنے کے پروجیکٹ کی ولساڑ ، نوساری ، تاپی اور سورت جیسے اضلاع کے قبائلی باشندے مخالفت کررہے ہیں۔ راہل گاندھی کاکہنا ہےکہ قدرتی وسائل  پرقبائلیوںکا حق ہے اورکو ئی بھی ترقیاتی کام ان کے وجود کی قیمت پر نہیںہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں آنے والے انتخابات میں کانگریس پارٹی کی حکومت بنے گی۔ اس تحریک کے بعد حکومت میں قبائلیوں کی آواز ہوگی۔ قبائلی ایم ایل اے ہوگا۔ گجرات کی حکومت وہی کرے گی جو قبائلی چاہیں گے۔ گجرات کی حکومت پانی، جنگل اور زمین کی حفاظت کرے گی۔
 راہل گاندھی نے کہا کہ قبائلیوں کی زمین اور پانی بی جے پی کا نہیں ہے لیکن اس کا فائدہ قبائلیوں کو نہیں مل رہا ہے۔ یو پی اے حکومت میں ہم نے کوشش کی کہ تمام عام لوگوں، دلتوں اور قبائلیوں اور نوجوانوں کو تمام فوائد ملیں۔ منریگا سے۱۰۰؍ دن کے کام کی گارنٹی حاصل ہوئی۔ اس سے لاکھوں لوگ مستفید ہوئے۔ یہی نہیں، کانگریس تحول اراضی قانون لے کر آئی جس کے تحت آپ کی زمین اجازت کے بغیر نہیں لی جا سکتی۔
  راہل نے کہا کہ کانگریس پھر گجرات میں وہی کوآپریٹیو امول ماڈل لائے گی۔ گجرات میں اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر نے والوںپرپولیس مقدمہ درج کردیتی ہے۔نوجوان لیڈر جگنیش میوانی نے اپنے حقوق کیلئے تحریک چلائی تو انہیں۳؍ ماہ کی قید کی سزا سنا دی گئی ۔گجرات میں پہلی بار سنا ہے کہ احتجاج کرنے پر بھی سزا دی جاتی ہے۔ راہل کے مطابق کانگریس نے اپنے دور حکومت میں جنگل کی زمین اور پانی پرقبائلیوں کو حقوق دئیے لیکن بی جے پی نے اقتدار میں آتے ہی قبائلیوں سے ان کے وسائل اور زمینیں چھیننا شروع کر دیں۔ بی جے پی یہ زمینیں اپنے صنعتکار دوستوں کو دینا چاہتی ہے۔
 راہل نےکہا کہ آدیواسیوں کو کچھ نہیں ملا۔ گجرات میں سڑکوں، عمارتوں اور  ترقی میں قبائلیوں کا خون پسینہ لگا ہے۔ آج وزیر اعظم نریندر مودی نے اسکولوں، اسپتالوں اور کالجوں کو پرائیویٹ گروپس کے حوالے کر دیا ہے، جہاں آپ اب نہیں جا سکتے۔اس نظام میں قبائلیوں کو کچھ نہیں ملا، کانگریس نے راجستھان اور چھتیس گڑھ میں۱۰؍ لاکھ روپے تک کے علاج اور مفت دوائیوںکی اسکیمیں شروع کی ہیں۔ مودی جی نے گجرات میں رہ کر جو کیا، اب وہی کام ملک میں کر رہے ہیں، بڑی بڑی سرکاری کمپنیاں اور وسائل پرائیویٹ ہاتھوں میں دیئے جا رہے ہیں جبکہ ان  تمام وسائل پر ملک کے عام لوگوںکا حق ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK