ریلوے کی چادر اوڑھے کچھ افراد کے بازار میں چہل قدمی کرنے کا ویڈیو وائرل ہوگیا، جس نے ایک بار پھر ریلوے کی اشیاء کی چوری کو اجاگر کردیا، اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد عوام میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے، ساتھ ہی شہری اخلاقیات پر سوال کھڑے کردئے۔
EPAPER
Updated: August 23, 2026, 10:26 PM IST | New Delhi
ریلوے کی چادر اوڑھے کچھ افراد کے بازار میں چہل قدمی کرنے کا ویڈیو وائرل ہوگیا، جس نے ایک بار پھر ریلوے کی اشیاء کی چوری کو اجاگر کردیا، اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد عوام میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے، ساتھ ہی شہری اخلاقیات پر سوال کھڑے کردئے۔
ریلوے کی چادر اوڑھے کچھ افراد کے بازار میں چہل قدمی کرنے کا ویڈیو وائرل ہوگیا، جس نے ایک بار پھر ریلوے کی اشیاء کی چوری کو اجاگر کردیا، اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد عوام میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے، ساتھ ہی شہری اخلاقیات پر سوال کھڑے کردئے۔واضح رہے کہ۲۰۲۲ء سے اب تک انڈین ریلوے سےایک کروڑ ۲۷؍ لاکھ سے زائد بیڈرول اشیاء چوری ہونے کے بعد، ایک نئی وائرل ویڈیو جس میں کچھ مرد عوامی مقام پر ریلوے کی چادریں اوڑھے ہوئے معمول کے مطابق چہل قدمی کرتے نظر آ رہے ہیں، اس واقعہ نے چوری اور ناقص شہری اخلاقیات پر شدید احتجاج کو جنم دیا ہے۔
واضح رہے کہ ہر رات، ہندوستانی ریل نیٹ ورک پر اے سی کوچ میں سفر کرنے والے لاکھوں مسافروں کو ان کے ٹکٹ کے ساتھ ایک بیڈرول کٹ دی جاتی ہے۔ بیشتر کے لیے، یہ سفر کا معمولی حصہ ہوتا ہے۔ لیکن ہر چیز واپس نہیں آتی۔مہینوں بعد جب دی انڈین ایکسپریس کی تحقیقات نے انڈین ریلوے پر بیڈرول چوری کے پیمانے کو اجاگر کیا۔ جبکہ ایک وائرل ویڈیو نے اس مسئلے کو دوبارہ توجہ میں لا کھڑا کیا۔ اس کلپ میں تین مرد ایک بازار میں معمول کے مطابق اپنے کندھوں پر شال کی طرح انڈین ریلوے کی چادریں ڈالے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ سفید کپڑے پر صاف طور پر ’’ویسٹرن ریلوے‘‘کے الفاظ تحریر ہیں، جو ظاہر کرتے ہیں کہ چادریں ویسٹرن ریلوے کی کسی ٹرین سے لی گئی تھیں۔
تاہم ان مردوں کی شناخت اور ویڈیو ریکارڈ کیے جانے کے عین مقام کا علم نہیں ۔یہ وائرل کلپ دی انڈین ایکسپریس کی تحقیقات کے نتائج کی عکاسی کرتی ہے، جس میں پتا چلا تھا کہ ہر رات تقریباً۸؍ لاکھ اے سی مسافر ریلوے کی فراہم کردہ بیڈرول استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ بیشتر مسافر سفر کے بعد انہیں واپس کر دیتے ہیں، تقریباً ہر۱۰۰۰؍ میں سے ایک مسافر کم از کم ایک شے ساتھ لے جاتا ہے۔ریلوے ڈویژنوں سے حاصل کردہ آر ٹی آئی ڈیٹا کے مطابق، جنوری۲۰۲۲ء سے مئی۲۰۲۶ء کے درمیان ایک کروڑ۲۷؍ لاکھ سے زائد بیڈرول اشیاء چوری ہونے کی اطلاع دی گئی، جس کے نتیجے میں۱۰۴؍ کروڑ۵۱؍ لاکھ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔
“चिन्दी चोर, चादर चोर!”
— ilyas khan (@ilyasilukhan) August 22, 2026
बाज़ार में तीन लोग Indian Railways की बेडशीट को शॉल की तरह पहनते नजर आए। सफेद कपड़े पर साफ़-साफ़ “WESTERN RAILWAY” लिखा दिखाई दे रहा है।#IndianRailways #WesternRailway #Railway #RailwayProperty #ViralVideo pic.twitter.com/QgDfOMJ7TW
یاد رہے کہ گم شدہ اشیاء میں۴۶؍ لاکھ۵۴؍ ہزار چہرے کے تولیے، ۴۱؍ لاکھ ۱۳؍ ہزار چادریں، ۲۳؍لاکھ۵۹؍ ہزار تکیے کے کور،۱۲؍ لاکھ ۹۵؍ ہزار کمبل اور۲؍ لاکھ ،۷۶؍ ہزار تکیے شامل تھے۔ بعد ازاں اس ویڈیو نے آن لائن شدید تنقید کو جنم دیا ہے، بہت سے لوگ اسے ناقص شہری ذمہ داری کی مثال قرار دے رہے ہیں۔ایک صارف نے لکھا، ’’یہ واقعی شرمناک ہے۔‘‘ایک اور تبصرے میں کہا گیا، ’’صفر شہری شعور اور اخلاقیات والے ہندوستانی کی ایک اور مثال۔‘‘جبکہ ایک صارف نے لکھا، ’’شہری شعور کے مسئلے کے لیے ہمیں سنگاپور کی طرح سخت سزائیں چاہئیں، جن میں کوڑے مارنا بھی شامل ہے۔ انڈین ریلوے ان لوگوں کے لیے جنت ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: پونے میں راہل کی دھوم، ’چھاتروں کی گونج‘ کو غیر معمولی کامیابی
ایک اور صارف نے پوچھا، ’’ایسے لوگوں کو ریلوے کی جائیداد چوری کرنے پر سزا کیوں نہیں دی جاتی تاکہ دوسروں کے لیے سبق ہو اور اسٹیشنوں پر اچانک جانچ پڑتال کی جائے؟ایک صارف نے بیڈرول کٹس کے لیے قابلِ واپسی سیکیورٹی ڈپازٹ متعارف کروانے کا مشورہ بھی دیا۔تبصرے میں کہا گیا، ’’آسان حل یہ ہے کہ ریلوے اسے صرف ۱۰۰۰؍ روپے کے ڈپازٹ پر دے۔ ڈپازٹ صرف اس صورت میں واپس ہو جب پیکیج کا تمام سامان بغیر نقصان کے واپس کر دیا جائے۔