ریاستی کانگریس صدرگووند سنگھ ڈوٹاسرا نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے کہنے پرکچھ منتخب اسمبلی حلقوں میں ایک خاص طبقے کے ووٹ کاٹنے کی کارروائی کی جا رہی ہے
EPAPER
Updated: January 19, 2026, 10:06 PM IST | New Delhi
ریاستی کانگریس صدرگووند سنگھ ڈوٹاسرا نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے کہنے پرکچھ منتخب اسمبلی حلقوں میں ایک خاص طبقے کے ووٹ کاٹنے کی کارروائی کی جا رہی ہے
راجستھان پردیش کانگریس کے صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا اور کانگریس لیڈر ٹیکارام جولی نے راجستھان اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر گڑبڑی کا الزام لگایا ہے۔ ڈوٹاسرا نے پیرکو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ اسمبلی حلقوں میں کانگریس کو صرف دو سے تین ہزار ووٹوں کے فرق سے کامیابی ملی تھی، وہاں ایک خاص طبقے کے ووٹ کاٹنے کی کارروائی کی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ جو لوگ ڈبل انجن سرکار سے ناراض ہیں، ساٹھ برس سے زیادہ عمر کے ہیں یا جن کی نوکری سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے زمانے میں لگی تھی، ان کے ووٹ کاٹے جا رہے ہیں۔
کانگریس لیڈر نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ لیول ایجنٹ (بی ایل اے) راجستھان میں جعلی دستخط کرکے ووٹ فارم جمع کرا رہے ہیں اور مخصوص طبقے کے ووٹ کاٹے جا رہے ہیں۔۱۴؍ جنوری تک ایک لاکھ ۴۰؍ ہزار ووٹ رجسٹر کئے گئے، لیکن ویب سائٹ پر ڈیٹا نظر نہیں آ رہا ہے۔ اس کے برعکس بی جے پی کے بی ایل ایز جعلی دستخط کرکے۱۰؍ سے ۱۵؍ ہزار فارم جمع کرا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے اسمبلی حلقے میں بھی اسی طرح کی من مانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بی جے پی کے لیڈر اور وزیر تک ایس ڈی ایم کو فون کرکے دھمکیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے جمہوری عمل متاثر ہو رہا ہے۔
بی جے پی اور الیکشن کمیشن کو خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ جمہوریت کیلئے سنگین خطرہ ہے، اسے روکنے کیلئے ہر ممکن قانونی اور انتظامی کارروائی کی جائے گی۔ عوام کی آواز دبانا اور جعلی ووٹنگ کے ذریعے انتخابی عمل کو متاثر کرنا جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔
اسی طرح کانگریس لیڈر ٹیکا رام جولی نے الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان میں جتنے بھی چھپے ہوئے فارم آئے ہیں، ان سب کی فورینسک جانچ ہونی چاہئے۔ یہ معلوم کیا جانا چاہئے کہ یہ فارم کہاں چھپے اور کون انہیں جے پور لایا۔انہوں نے کہا کہ اس جانچ کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام فارم ایک ہی جگہ چھاپے گئے ہیں اور چھپنے کے بعد جے پور بھیجے گئے ہیں۔ اس کیلئے بی جے پی کے اراکین اسمبلی، اسمبلی امیدواروں اور پانچ وزراء کو بھی خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے۔ انہوں نے پرنٹ شدہ فارم افسران تک پہنچائے، اس کی بھی جانچ ہونی چاہئے۔