راجستھان ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریاست میں قائم تقریباً ۳؍ ہزار مدارس کے مؤثر انتظام، ضابطہ بندی اور کام کاج کو یقینی بنانےکیلئےکیے جانے والے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 1:29 PM IST | Agency | Jaipur
راجستھان ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریاست میں قائم تقریباً ۳؍ ہزار مدارس کے مؤثر انتظام، ضابطہ بندی اور کام کاج کو یقینی بنانےکیلئےکیے جانے والے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔
راجستھان ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریاست میں قائم تقریباً۳؍ ہزار مدارس کے مؤثر انتظام، ضابطہ بندی اور کام کاج کو یقینی بنانےکیلئےکیے جانے والے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔ جسٹس ونے کمار ماتھر اور جسٹس چندر شیکھرشرما پر مشتمل بنچ نے ریاست میں مدارس کے انتظامات سے متعلق قوانین اور ضوابط کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر یہ حکم جاری کیا۔ ۲۸؍ ستمبر کو جاری حکم میں کہا گیا ’’ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بی ایل بھاٹی کو ہدایت دی جاتی ہےکہ وہ ایک تفصیلی حلف نامہ داخل کریں، جس میںراجستھان ریاست میں مدارس کے مؤثر انتظام، کنٹرول اور کام کاج کیلئے کیےجانے والے مؤثر اقدامات کی تجاویزدی جائیں۔‘‘ عدالت نے کہا کہ حکومت مدارس کے کام کاج میںبہتری کیلئےدرخواست گزار کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر بھی غور کر سکتی ہے۔عدالت نے کہا کہ درخواست میں ریاست میں مدارس کے کام کاج اور انتظام کو منظم کرنے والے ضوابط سے متعلق ایک اہم سوال اٹھایا گیا ہے۔
عدالت نے اس امر کی نشاندہی کی کہ ریاستی حکومت یا تعلیم کے شعبے میں مہارت رکھنے والے مجاز حکام اور اداروں کی جانب سے مدارس کے لیے مؤثر کنٹرول، نگرانی اور ضابطہ جاتی نگرانی کا فقدان نظر آتا ہے۔ خاص طور پر مدارس کو ضروری تعاون، رہنمائی اور نگرانی فراہم کرنے کے حوالہ سے بھی صورت حال پر سوال اٹھایا گیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مدارس کے کام کاج سے متعلق موجودہ رہنما اصول بھی مؤثر انتظام اور نگرانی کے لیے مناسب نہیں ہیں، اس لیے ریاست میں ایک مؤثر نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے۔درخواست میں دعویٰ کیا گیاکہ راجستھان مدرسہ بورڈ ایکٹ-۲۰۲۰ء میں مدارس میں تعلیم کی فراہمی کو مناسب طریقے سے منظم اور کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر دفعات یا نظام موجود نہیں ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ ریاست کو مدارس کے مناسب انتظام کے لیے ایک جامع فریم ورک تیار کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت دی جائے کہ وہاں تعلیم مستند اور اہل اساتذہ کے ذریعے دی جائے۔