• Thu, 01 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ضمانت یا مجرمانہ مقدمات کی سماعت میں جج اپنے ذاتی اخلاقی نظریات مسلط نہ کریں: سپریم کورٹ

Updated: October 01, 2026, 3:04 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ نے ضمانت سے متعلق ایک معاملے میں اہم مشاہدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجرمانہ مقدمات یا ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ کرتے وقت ججوں کو اپنے ذاتی نظریات اور اخلاقی تصورات مسلط کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ جسٹس اجل بھوئیاں اور جسٹس اتل ایس چندورکر کی بنچ نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا وہ حکم منسوخ کردیا جس میں معاشرتی نظام اور متاثرہ خاندان کی ’’اخلاقیات‘‘ پر ممکنہ اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے ملزم کی ضمانت مسترد کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ملزم ستمبر ۲۰۲۵ء سے ایک سال سے زیادہ عرصے سے حراست میں ہے اور مقدمے کی تکمیل میں مزید وقت لگ سکتا ہے، اس لیے اسے ضمانت پر رہا کرنا مناسب ہے۔

Supreme Court of India. Photo: INN
سپریم کورٹ آف انڈیا۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کسی ملزم کی ضمانت کی درخواست یا اس کے خلاف جاری مجرمانہ مقدمے کی سماعت کے دوران جج کو اپنے ذاتی خیالات اور اخلاقی تصورات کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرنا چاہئے۔ جسٹس اجل بھوئیاں اور جسٹس اتل ایس چندورکر پر مشتمل بنچ نے یہ مشاہدہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کرتے ہوئے کیا۔

عدالت نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے اس حکم کو منسوخ کردیا جس میں ملزم کی ضمانت اس خدشے کی بنیاد پر مسترد کردی گئی تھی کہ اس کی رہائی سے معاشرتی نظام اور متاثرہ کے خاندان کی ’’اخلاقیات‘‘ متاثر ہوسکتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس بنیاد کو ضمانت کے معاملے میں ذاتی اخلاقی نظریات کے استعمال کے طور پر دیکھا۔

بنچ نے اپنے حکم میں کہا، ’’ہماری رائے میں، عدالتوں کو ضمانت یا کسی ملزم کے ٹرائل سے متعلق معاملے کا فیصلہ کرتے وقت جج کے ذاتی خیالات یا اخلاقیات پر مبنی فیصلوں کو مسلط کرنے سے باز رہنا چاہئے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: این سی ای آر ٹی: نویں جماعت کے باب میں ترمیم، مغل اور سکھوں کی اقتدار کی لڑائی مذہبی قرار

ہائی کورٹ نے معاشرتی نظام اور اخلاقیات کا حوالہ دیا تھا

مقدمے کے مطابق اپیل کنندہ متاثرہ کے پڑوس میں کرائے پر رہتا تھا۔ الزام تھا کہ شادی شدہ ہونے کے باوجود اس نے متاثرہ کی بڑی بہن کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔ اس معاملے میں اس کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس)، پوکسو ایکٹ ۲۰۱۲ء اور درج فہرست ذاتیں و درج فہرست قبائل (انسداد مظالم) ایکٹ ۱۹۸۹ء کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ملزم نے اپنے خلاف عائد الزامات سے انکار کیا اور موقف اختیار کیا کہ اس کے خلاف قانونی کارروائی متاثرہ کے ساتھ اس کے مبینہ تعلق کی وجہ سے اسے ہراساں کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی ہے۔

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اس سے قبل اس کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔ ہائی کورٹ کے حکم میں ملزم کی رہائی کے ممکنہ سماجی اثرات اور متاثرہ کے خاندان کی ’’اخلاقیات‘‘ سے متعلق خدشات کا حوالہ دیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف ملزم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

یہ بھی پڑھئے: جاپان: بھکشو نے ۱۲؍ سال کیلئے گوشہ نشینی اختیار کی، ۲۰۳۸ء تک دنیا سے رابطہ منقطع

سپریم کورٹ نے ضمانت منظور کردی

سماعت کے آغاز ہی میں سپریم کورٹ کی بنچ نے ضمانت کے معاملے میں ذاتی اخلاقی تصورات کو بنیاد بنانے پر ہائی کورٹ کے طریقۂ کار سے اختلاف ظاہر کیا۔ عدالت نے اس بات کو بھی پیش نظر رکھا کہ ملزم ستمبر ۲۰۲۵ء سے حراست میں ہے اور مقدمے کی سماعت مکمل ہونے میں مزید وقت لگنے کا امکان ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا، ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ اپیل کنندہ پہلے ہی ایک سال سے زیادہ کی قید کاٹ چکا ہے اور ٹرائل مکمل ہونے میں مزید کچھ وقت لگے گا۔ ایسی صورتحال میں، ہماری رائے میں ضمانت دینا مناسب ہے۔‘‘

اس بنیاد پر سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا حکم منسوخ کرتے ہوئے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت کا یہ مشاہدہ ضمانت کے معاملات میں عدالتی صوابدید استعمال کرتے وقت ذاتی اخلاقی تصورات کے بجائے مقدمے سے متعلق قانونی عوامل کو بنیاد بنانے کے اصول سے متعلق ہے۔

یہ بھی پڑھئے:سنگاپور: مگرمچھ کی اے آئی سے بنی جعلی تصویر شیئر کرنے پر پر ایک شخص کو ۱۰ سال تک قید کا سامنا

ضمانت کے فیصلے میں قانونی بنیاد کی اہمیت

سپریم کورٹ کے تازہ مشاہدے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کسی ملزم کی ضمانت کا فیصلہ کرتے وقت عدالت کو قانونی اصولوں اور مقدمے کے متعلقہ حالات کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔ محض جج کے ذاتی اخلاقی خیالات یا معاشرتی تصورات کی بنیاد پر کسی ملزم کی آزادی محدود کرنے کا فیصلہ نہیں کیا جانا چاہئے۔

موجودہ معاملے میں عدالت نے ملزم کی طویل حراست اور مقدمے کی تکمیل میں ممکنہ تاخیر کو بھی ضمانت دینے کے حق میں اہم عوامل کے طور پر دیکھا۔ تاہم مقدمے میں ملزم کے خلاف عائد اصل الزامات اور ان کی قانونی حیثیت کا حتمی فیصلہ ٹرائل کورٹ کی کارروائی میں ہونا باقی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK