Inquilab Logo Happiest Places to Work

راجیش ایکسپورٹس کا بُراحال، ۹۹؍ فیصد آمدنی فرضی ہونے کا شبہ، پروموٹر پر پابندی

Updated: June 06, 2026, 2:31 PM IST | Mumbai

۱۵؍ لاکھ کروڑ کا مبینہ گھوٹالہ بے نقاب ہونے کے بعد شیئرز کو سنبھالنا مشکل، لگاتار دوسرے دن لو وَر سرکٹ لگانا پڑا، ۲؍ دن میں  شیئر س کی قیمتیں  ۱۰؍ فیصد گھٹ گئیں، سرمایہ کاروں  کو بھاری نقصان۔

Rajesh J. Mehta, 60, founder and chairman of Rajesh Exports. Photo: INN
۶۰؍سالہ راجیش جے مہتا جو راجیش ایکسپورٹس کے بانی اور چیئرمین ہیں۔ تصویر: آئی این این

راجیش ایکسپورٹرس کا جمعہ کو بھی شیئر بازار میں  برا حال رہا۔ ۱۵ء۱۵؍لاکھ کروڑ کی مبینہ فرضی آمدنی دکھانے اور سیبی کے اشکالات کو دور کرنے میں  ناکام رہنے والی سونے چاندی کا کاروبار کرنےوالی کمپنی راجیش ایکسپورٹس لمیٹڈ کے شیئرز میں   جمعہ کو لگاتار دوسرے دن گراوٹ کا سلسلہ جاری رہا۔ اس بیچ شیئر بازار کو منضبط کرنےوالے ادارہ سیبی نےعالمی سطح پر بڑی گولڈ ریفائننگ کمپنیوں میں شمار ہونے والی راجیش ایکسپورٹس کے پروموٹر اور چیئرمین راجیش مہتا پر شیئر بازار میں ٹریڈنگ پر عبوری پابندی عائد کر دی ہے۔ شبہ ہے کہ کمپنی نے جس آمدنی کا دعویٰ کیا ہے اس میں  سے ۹۹؍ فیصد فرضی ہے۔ سیبی کوراجیش ایکسپورٹس کے شیئر میں جمعہ کو لگاتار دوسرے دن گراوٹ کو روکنے کیلئے ۵؍ فیصد کا ’لووَر سرکٹ‘ لگانا پڑا اورا س طرح  اس کے شیئر۴ء۹۷؍فیصد گر کر بی ایس ای پر ۹۹ء۴۵؍روپے کے لوئر سرکٹ تک پہنچ گئے۔ این ایس ای پر بھی کمپنی کا شیئر۴ء۹۹؍ فیصد گر کر۹۸ء۷۳؍ روپے پر آ گیا۔  راجیش ایکسپورٹس کے شیئرز میں   ۲؍ دنوں  میں مجموعی طورپر ۱۰؍فیصد کی غیر معمولی گراوٹ آئی ہے۔ 
یہ گراوٹ ان اندیشوں  کی وجہ سے ہے کہ کمپنی نے بیرونِ ملک اپنی ذیلی کمپنیوں، خصوصاً سوئزرلینڈکی ’وال کیمبی ایس اے‘ کے ذریعے گزشتہ ۵؍برسوں میں ۱۵؍لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی آمدنی کو اپنے مجموعی مالی نتائج میں شامل کر کے محصولات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) کی رپورٹ کے مطابق کمپنی کےان دعوؤں  کی خود ’وال کیمبی ایس اے‘ کے آڈٹ شدہ الگ مالیاتی گوشواروں سے تصدیق نہیں  ہوتی۔ ’وال کیمبی ‘ کی آڈٹ رپورٹ میں اس آمدنی کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہی نظر آتا ہے۔ سیبی نے کمپنی کی مالی حیثیت کی غلط نمائندگی پر سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔ اس کے مطابق راجیش ایکسپورٹ کی رپورٹ کردہ تقریباً تمام آمدنی بیرونِ ملک کی جن ذیلی کمپنیوں سے منسوب کی گئی ہے ان کے مالیاتی گوشوارے عوامی سطح پر دستیاب نہیں ہیں۔ بدھ کو جاری کردہ سیبی کے حکم کے مطابق ۲۰۲۱ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان راجیش ایکسپورٹس نے تقریباً ۱۵ء۱۸؍ لاکھ کروڑ روپے کی مجموعی آمدنی ظاہر کی۔ اس میں سے تقریباً ۱۵ء۱۵؍ لاکھ کروڑ روپے یعنی ۹۹ء۸؍فیصد آمدنی ذیلی کمپنی وال کیمبی سے منسوب کی گئی ہے مگر اُس کے الگ سے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں سے مطابقت نہیں رکھتی۔ وال کیمبی قیمتی دھاتوں کو صاف اور ریفائن کرنے والی کمپنی ہے، جس کی آمدنی کا ذریعہ ریفائننگ خدمات اور سونے چاندی کی اس کی اپنی برانڈیڈ مصنوعات کی فروخت ہے۔ سیبی نے جب اس کمپنی کی کمائی کا جائزہ لیا تو سوئس قانون کے تحت تیار کئے گئے اس کے مالی گوشوارہ میں  صرف پروسیسنگ چارجز یا ویلیو ایڈیشن کو آمدنی کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔ اگر یہ گھوٹالہ ثا بت ہوتا ہے تو ہندوستان کی شیئر بازار کی تاریخ کا سب سےبڑا گھوٹالہ ہوگا۔ 
’’ریوینیو اِنفلیشن‘‘ کیا ہے؟کچھ سوال وجواب سے سمجھتے ہیں :
۱)سیبی کو کیا بے ضابطگی ملیں جنہیں  ریگولیٹر نے حیران کن قرار دیا؟
سیبی نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق راجیش ایکسپورٹس نے اپنی مجموعی فروخت کو حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ کمپنی کا تقریباً۹۹؍ فیصد ریوینیو صرف کاغذی ہونے کا اندیشہ ہے۔ 
۲)ریوینیو میں بے ضابطگی کا حجم کتنا ہے؟
اگر سیبی کا دعویٰ صحیح ہےتو ریوینیو میں مبینہ بے ضابطگی کا حجم تقریباً ۱۵ء۱۵؍ لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ اسے کارپوریٹ دنیا کے سب سے بڑے مشتبہ ریوینیو معاملات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ 
۳) عام سرمایہ کاروں اور ایل آئی سی کوکیا نقصان ہو سکتا ہے؟
اتنے بڑے پیمانے پر ریوینیو میں جعلسازی کے الزامات کے باعث راجیش ایکسپورٹس کے شیئرس میں مزید بھاری گراوٹ آ سکتی ہے۔ شیئر س کی قیمت گرنے سے ایل آئی سی کی سرمایہ کاری کی مالیت کم ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ وہ چھوٹے سرمایہ کار جنہوں نے کمپنی کے حصص خرید رکھے ہیں، ان کی سرمایہ کاری کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ 
راجیش ایکسپورٹس کے ۱۰؍ فیصد سے زائد شیئر ایل آئی سی نے کیوں خریدے؟
اس مالیاتی بے ضابطگی کا براہِ راست اثر سرکاری بیمہ کمپنی ایل آئی سی پر بھی پڑا ہے جس نے راجیش ایکسپورٹس میں ۱۰ء۸؍ فیصد حصے داری خرید رکھی تھی۔ ایل آئی سی نے مارچ۲۳ء کے بعد سے راجیش ایکسپورٹس میں ۱۰ء۸؍ فیصد سے۱۱ء۱۸؍ فیصد کے درمیان اپنی حصے داری برقرار رکھی۔ گزشتہ ایک سال میں  کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں ۴۹؍فیصد کمی اور فروری ۲۳ءکی بلند ترین سطح کے مقابلے میں تقریباً۹۰؍فیصد کی کمی کے باوجود ایل آئی سی نے کمپنی سے سرمایہ نکالنے پر توجہ نہیں دیا۔ اس وجہ سے ایل آئی سی کے طرز عمل پر بھی سوال اٹھنا لازمی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK