بنگلہ دیش میں اب عصمت دری کے معاملے میں سزائے موت

Updated: October 14, 2020, 10:43 AM IST | Agency | Dhaka

عوامی احتجاج کے سامنے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے ،کابی عوامی احتجاج کے سامنے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے ،کابینہ اجلاس میں قانون منظور نہ اجلاس میں قانون منظور

Bangladesh Protest - Pic : INN
عوامی احتجاج کا ایک منظر۔ تصویر : آئی این این

بنگلہ دیش حکومت نے احتجاجی تحریک کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے  اب سےجنسی زیادتی کے مجرموں کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاع کے مطابق بنگلہ دیش میں حال ہی میں  خاتون سےہونے والی زیادتی کے بعد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ احتجاج سوشل میڈیا پرشیئرکئے گئے  ایک ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد شروع ہوا تھا۔ اس میں ایک  خاتون کوزیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ویڈیو دیکھنے کے بعد عوام کا غصہ بڑھنے لگا تھا اور وہ عصمت دری کرنے والوں کو سزائے موت دینے کا  مطالبہ کرنے لگے تھے۔ 
  احتجاج کی شدت کو دیکھ کر حکومت نے کابینہ اجلاس میں جنسی زیادتی کے مجرم کوسزائے موت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے بعد جلد ہی یہ قانون ملک میں نافذ ہوجائے گا ۔واضح رہے کہ اس سے قبل بنگلہ دیش میں عصمت دری کے مجرمین کیلئے عمرقید کی سزا مقررتھی۔
 احتجاج کے دوران وزیراعظم حسینہ واجد کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا کہ انہوں نے ان معاملات کی روک تھام کیلئے کبھی بھی عملی اقدام کیا۔جبکہ کچھ مظاہرین اتنے برہم تھے کہ انہوں نے وزیراعظم سے استعفے تک کا مطالبہ کیا۔   انسانی حقوق کے  مقامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ جنسی زیادتی کا شکار بہت کم خواتین کو انصاف ملتا ہے۔ زیادہ ترخواتین خوف کی وجہ سے رپورٹ ہی نہیں کرتی ہیں۔ اس سال بنگلہ دیش میں ایک ہزارسے زائد زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں یہ پانچواں گینگ ریپ تھا۔

bangladesh Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK