Inquilab Logo Happiest Places to Work

آر بی آئی کا فیصلہ: ماہرین کے مطابق کاروباری اعتماد اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا

Updated: August 06, 2026, 5:03 PM IST | Mumbai

ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) کی جانب سے ریپو ریٹ میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کے فیصلے کو صنعتی حلقوں اور ماہرینِ معاشیات نے مثبت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کاروباری اعتماد مضبوط ہوگا، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ہندوستانی معیشت کی ترقی کی رفتار برقرار رہے گی۔

RBI Office.Photo:INN
آر بی آئی آفس: تصویر:آئی این این

ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) کی جانب سے ریپو ریٹ میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کے فیصلے کو صنعتی حلقوں اور ماہرینِ معاشیات نے مثبت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کاروباری اعتماد مضبوط ہوگا، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ہندوستانی معیشت کی ترقی کی رفتار برقرار رہے گی۔ ایسوسی ایٹڈ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری آف انڈیا (ایسوچیم) نے کہا کہ شرح سود کو مستحکم رکھنے کا فیصلہ کاروباری برادری کے لیے حوصلہ افزا اشارہ ہے۔ اس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا، نئی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی اور معاشی سرگرمیوں کو مزید تقویت ملے گی۔ ایسوچیم کے صدر نرمل کے منڈا  نے کہا کہ آر بی آئی کا فیصلہ ہندوستانی معیشت کی مضبوط بنیادی معاشی صورتحال پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق پالیسی شرح سود کو برقرار رکھنے سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا، اقتصادی ترقی کو سہارا ملے گا اور عالمی معاشی تبدیلیوں کے مطابق لچکدار ردعمل دینے میں بھی مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھئے:بارش کے باعث آئرلینڈ اور افغانستان کے درمیان پہلا ون ڈے منسوخ

انہوں نے کہاکہ ’’شرح سود کو برقرار رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ آر بی آئی اقتصادی ترقی، مہنگائی پر قابو اور مالیاتی استحکام کے درمیان متوازن حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔  ایسوچیم نے آر بی آئی کی جانب سے مالی سال کے لیے مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کا تخمینہ بڑھا کر۷ء۶؍ فیصد کرنے کا بھی خیرمقدم کیا۔ تنظیم کے مطابق یہ اندازہ اس کے اپنے تقریباً۷؍ فیصد  کے تخمینے کے قریب ہے۔
ایم کے گلوبل فنانشل سروسیز کی چیف اکانومسٹ  مادھوی اروڑا  نے آر بی آئی کی مانیٹری پالیسی کو  محتاط لیکن مثبت  قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی بینک نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، عالمی مالیاتی حالات کی سختی اور  ایل نینو سے جڑے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ملکی معیشت کی مضبوطی اور غیر ملکی زرمبادلہ کے مثبت بہاؤ کے درمیان متوازن پالیسی اختیار کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ پہلی سہ ماہی میں مہنگائی کی شرح آر بی آئی کے اندازوں سے کم رہی، لیکن مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے ایل نینو سے متعلق ممکنہ خطرات پر اپنی توجہ برقرار رکھی ہے۔ ان کے مطابق اگر مستقبل قریب میں قیمتوں پر دباؤ بڑھتا بھی ہے تو اس کی بنیادی وجہ رسد (سپلائی) سے متعلق مسائل ہوں گے، جب تک کہ اس کا اثر وسیع پیمانے پر مہنگائی پر نہ پڑے۔
دوسری جانب  بینک آف بڑودہ  کے چیف اکانومسٹ ڈاکٹر مدن سبنویس  نے کہا کہ آر بی آئی کے فیصلے کی تائید جی ڈی پی کی شرح نمو کے تخمینے میں ۱۰؍ بیسس پوائنٹس کے اضافے اور مہنگائی کے تخمینے میں ۱۰؍ بیسس پوائنٹس کی کمی سے ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:مغربی ایشیا میں کشیدگی کم ہونے سے روپے میں مضبوطی کا امکان: سنجے ملہوترا


انہوں نے کہا’’آر بی آئی کے بیان سے واضح ہے کہ معیشت کے مختلف اشاریے مضبوط ہیں، جس سے یقین پیدا ہوتا ہے کہ آئندہ عرصے میں اقتصادی ترقی کی رفتار مستحکم رہے گی۔ تاہم ڈاکٹر سبنویس نے خبردار کیا کہ موجودہ مالی سال کی دوسری ششماہی اور مالی سال  ۲۸۔۲۰۲۷ءکی پہلی سہ ماہی میں مہنگائی کا دباؤ دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں سال ۲۰۲۶؍ کے اختتام تک شرح سود میں اضافے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK