Updated: October 07, 2026, 4:06 PM IST
| Mumbai
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے عالمی غیر یقینی صورتحال اور مستقبل میں مہنگائی بڑھنے کے خدشے کے پیش نظر بدھ کو ریپو شرح میں ۲۵ء۰؍ فیصد اضافہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پالیسی کا رخ بھی سخت کر دیا گیا ہے، جس سے مستقبل میں شرح میں مزید اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔
سنجے ملہوترا۔ تصویر:پی ٹی آئی
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے عالمی غیر یقینی صورتحال اور مستقبل میں مہنگائی بڑھنے کے خدشے کے پیش نظر بدھ کو ریپو شرح میں ۲۵ء۰؍ فیصد اضافہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پالیسی کا رخ بھی سخت کر دیا گیا ہے، جس سے مستقبل میں شرح میں مزید اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ ریزرو بینک کی مالیاتی پالیسی کمیٹی کی آج ختم ہونے والی۳؍ روزہ میٹنگ کے بعد آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے بتایا کہ کمیٹی نے متفقہ طور پر ریپو شرح ۲۵ء۵؍ فیصد سے بڑھا کر۵۰ء۵؍ فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریپو شرح وہ شرح ہے جس پر مرکزی بینک تجارتی بینکوں کو قلیل مدتی سرمایہ فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مستقل جمع سہولت کی شرح ۲۵ء۵؍فیصد اور حاشیائی مستقل سہولت کی شرح ۷۵ء۵؍فیصد کر دی گئی ہے۔ دونوں شرحوں میں ۲۵ء۰؍ فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ریپو شرح میں اضافے کے بعد بینکوں کی جانب سے بھی صارفین کے لیے قرض مہنگا کیے جانے کا خدشہ ہے۔ اس سے گھریلو قرض، ذاتی قرض اور صنعتوں کے لیے سرمایہ کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔ملہوترا نے بتایا کہ کمیٹی نے اکثریتی رائے سے پالیسی کا رخ سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مستقبل قریب میں پالیسی شرحوں میں کمی کی توقع نہیں ہے۔ شرحوں میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا، یعنی آئندہ میٹنگوں میں یا تو انہیں موجودہ سطح پر برقرار رکھا جائے گا یا ان میں اضافہ کیا جائے گا۔ کمیٹی کے۶؍اراکین میں سے ۴؍ نے پالیسی کا رخ سخت کرنے کے حق میں ووٹ دیاجبکہ ۲؍اراکین کی رائے تھی کہ اسے غیر جانب دار رکھا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:شریا چودھری آیوشمان کھرانہ کے ساتھ’’مُپاپا‘‘ میں نظر آئیں گی ، اگلے سال فلم ریلیز ہوگی
آر بی آئی کے گورنر نے کہا کہ ان فیصلوں کے پیچھے اہم وجوہات میں مغربی ایشیا کے بحران کا اثر، تجارت کے حوالے سے جاری غیر یقینی صورتحال، عالمی سطح پر بانڈز سے حاصل ہونے والے منافع میں اضافہ اور مصنوعی ذہانت سے متعلق حصص کے مستقبل کے بارے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔ ستمبر میں مغربی ایشیا کا بحران ایک بار پھر گہرا ہونے سے رسد کا سلسلہ متاثر ہو رہا ہے۔ اس کا اثر ملکی مہنگائی کے منظرنامے پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریزرو بینک مہنگائی کی شرح کو قابو میں رکھنے اور مالی استحکام دونوں کے لیے کام کرتا رہے گا۔
آر بی آئی نے موجودہ مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کے لیے صارف قیمت اشاریے پر مبنی مہنگائی، یعنی خردہ مہنگائی کا اندازہ ۵؍ فیصد سے بڑھا کر ۲ء۵؍ فیصد کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پہلی سہ ماہی کے اچھے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد مجموعی گھریلو پیداوار کی شرح نمو کا اندازہ ۷ء۶؍ فیصد سے بڑھا کر ۱ء۷؍ فیصد کر دیا گیا ہے۔ بنیادی مہنگائی ۴ء۴؍ فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ملہوترا نے کہا کہ اگست میں غذائی اشیا اور ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے مہنگائی بڑھی ہے۔ تقریباً تمام غذائی اشیا میں مہنگائی کی شرح بلند رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:خشک سالی اور ایل نینو کا اثر: مہاراشٹر میں ۱۶؍ اکتوبر سے پانی کی سپلائی میں ۱۰؍ فیصد کٹوتی
موجودہ مالی سال میں مالیاتی پالیسی کمیٹی کی یہ چوتھی اور تقویمی سال میں پانچویں دو ماہانہ میٹنگ تھی۔ اس سال پالیسی شرحوں میں پہلی بار تبدیلی کی گئی ہے۔ گزشتہ سال مالیاتی پالیسی کمیٹی نے ۴؍ مرتبہ ریپو شرح میں مجموعی طور پر ۲۵ء۱؍ فیصد کی کمی کی تھی، جس سے عام لوگوں کو گھر اور گاڑی خریدنے میں کافی راحت ملی تھی۔ آخری کمی دسمبر میں۲۵ء۰؍ فیصد کی گئی تھی۔ فروری ۲۰۲۳ء کے بعد پہلی بار ریپو شرح میں اضافہ کیا گیا ہے۔ کووڈ کے دور میں مئی ۲۰۲۲ء سے فروری ۲۰۲۳ءکے درمیان ۶؍ مرتبہ اس میں مجموعی طور پر ۵ء۲؍ فیصد یعنی ۲۵۰؍ بنیادی پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا تھا۔