Updated: October 09, 2026, 7:03 PM IST
| Mumbai
عالمی مالیاتی ادارے گولڈمین ساخس نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) جون ۲۰۲۷ء تک پالیسی ریپو ریٹ میں مزید تین مرتبہ اضافہ کرسکتا ہے۔ مجموعی طور پر شرحِ سود میں ۷۵؍ بنیادی پوائنٹس، یعنی۷۵ء۰؍ فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
آر بی آئی آفس: تصویر:آئی این این
عالمی مالیاتی ادارے گولڈمین ساخس نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) جون ۲۰۲۷ء تک پالیسی ریپو ریٹ میں مزید تین مرتبہ اضافہ کرسکتا ہے۔ مجموعی طور پر شرحِ سود میں ۷۵؍ بنیادی پوائنٹس، یعنی۷۵ء۰؍ فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود ہندوستان کی اقتصادی ترقی کی شرح تقریباً ۷؍فیصد برقرار رہنے کی توقع ہے۔ گولڈمین ساخس میں ہندوستان کے چیف اکانومسٹ شانْتنو سین گپتا نے جمعہ کو یہ اندازہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی معیشت کو بیرونی عوامل، خام تیل کی قیمتوں اور موسم سے متعلق خطرات کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود ترقی کی رفتار برقرار رہ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:پاکستان کے سابق کرکٹر باسط علی نے نانا پاٹیکر کو یاد کیا
این ڈی ٹی وی پروفٹ کی رپورٹ کے مطابق، شانْتنو سین گپتا کا خیال ہے کہ آر بی آئی دسمبر ۲۰۲۶ء، فروری ۲۰۲۷ء اور اپریل یا جون ۲۰۲۷ء میں ریپو ریٹ میں اضافہ کرسکتا ہے۔ اگر یہ پیش گوئی درست ثابت ہوتی ہے تو قرض لینے والوں کے لیے ہوم لون، گاڑیوں کے قرض اور دیگر اقسام کے قرضوں کی شرحِ سود پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، تاہم اس کا حقیقی اثر بینکوں کی پالیسی اور قرضوں کی شرحِ سود سے متعلق فیصلوں پر منحصر ہوگا۔ ریپو ریٹ میں اضافہ عموماً مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے، لیکن اس سے قرض کی لاگت بڑھنے اور صارفین کے اخراجات پر اثر پڑنے کا امکان بھی رہتا ہے۔
گولڈمین ساخس کے ماہرِ اقتصادیات نے ۲۰۲۷ء کے لیے ال نینو کو ایک اہم خطرہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، مالیاتی بازار کے متعدد شرکا نے اب تک اس ممکنہ خطرے کو پوری طرح اپنی پیش گوئیوں میں شامل نہیں کیا ہے۔ ال نینو بحرالکاہل کے سمندر کی سطح کے درجۂ حرارت میں غیر معمولی تبدیلی سے وابستہ موسمیاتی رجحان ہے، جو بارشوں کے نظام کو متاثر کرسکتا ہے۔ ہندوستان میں اس کے اثرات کمزور مانسون، زرعی پیداوار میں کمی اور غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آسکتے ہیں۔
سین گپتا کو امید ہے کہ ال نینو کا خریف کی فصلوں پر اثر محدود رہے گا۔ ان کے مطابق، موجودہ ذخائر بھی مستقبل قریب میں مہنگائی کے دباؤ کو کم رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ آبی ذخائر میں پانی کی سطح کم ہونے سے ربیع کی فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اگر ۲۰۲۷ء تک غذائی اشیا کے ذخائر میں کمی آتی ہے تو قیمتوں میں اضافے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ ان کے مطابق، ال نینو کا مکمل اثر فوری طور پر سامنے آنے کے بجائے بعد کے مہینوں میں زیادہ نمایاں ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:رونالڈو اور وین رونی یورپ کے دو بہترین کھلاڑی تھے: سرایلکس فرگیوسن
گولڈمین ساخس نے خام تیل کی قیمتوں کو ہندوستانی معیشت کے لیے اہم خطرہ قرار دیا ہے۔ ادارے کے اندازے کے مطابق، خام تیل کی قیمت ۸۵؍ سے ۹۵؍ ڈالر فی بیرل کے درمیان رہ سکتی ہے۔ تاہم، اگر قیمتیں مسلسل ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل یا اس سے زیادہ ہوجاتی ہیں تو اقتصادی ترقی اور مہنگائی دونوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ ہندوستان اپنی خام تیل کی ضرورت کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے بین الاقوامی بازار میں تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل بڑھتا ہے اور معیشت پر دباؤ پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایندھن، نقل و حمل اور پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہوسکتا ہے، جو بالآخر عام صارفین تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے آر بی آئی کے لیے بھی پالیسی فیصلوں کو مشکل بنا سکتا ہے۔
شانْتنو سین گپتا کے مطابق، رواں سال کمپنیوں کی آمدنی میں اضافے کی شرح درمیانی نوعیت کی دو ہندسوں والی سطح، یعنی تقریباً ۱۳؍ سے ۱۶؍ فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ دوسری جانب ہندوستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا بہاؤ کمزور ہے اور غیر ملکی سرمایہ کار ہندوستانی بازار سے رقم نکال کر دوسرے ممالک میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کررہے ہیں۔
ان کے مطابق، امریکہ، چین، جنوبی کوریا اور تائیوان جیسے ممالک میں مصنوعی ذہانت سے متعلق کاروبار اور ٹیکنالوجی کے مواقع عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت کی جانب بڑھ رہی ہے اور اس وقت بھارت کو درپیش کئی معاشی چیلنجز کا تعلق بیرونی حالات سے ہے۔ گولڈمین ساخس کی پیش گوئی کے مطابق، ہندوستان کی اقتصادی ترقی کی شرح تقریباً ۷؍ فیصد رہ سکتی ہے، لیکن یہ امکان خام تیل کی قیمتوں، مہنگائی، مانسون، زرعی پیداوار اور عالمی سرمایہ کاری کے رجحانات سے متاثر ہوسکتا ہے۔ اگر ال نینو کے باعث زرعی پیداوار کم ہوتی ہے اور خام تیل مہنگا رہتا ہے تو مہنگائی میں اضافے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس کے جواب میں آر بی آئی شرحِ سود میں مزید اضافہ کرسکتا ہے۔ اس طرح، آنے والے مہینوں میں ہندوستانی معیشت کے لیے ایک طرف ترقی کی رفتار برقرار رکھنے اور دوسری طرف مہنگائی پر قابو پانے کا چیلنج اہم رہے گا۔ گولڈمین ساخس کا یہ اندازہ مستقبل کے ممکنہ حالات پر مبنی پیش گوئی ہے، آر بی آئی کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کا حتمی فیصلہ نہیں۔