Updated: May 04, 2026, 8:05 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک اہم پالیسی تبدیلی کرتے ہوئے غیر ملکی ڈاکٹروں کے لیے ویزا اور امیگریشن پابندیوں میں نرمی کر دی ہے۔ یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسیز کی تازہ اپ ڈیٹ کے مطابق اب طبی پیشہ ور افراد کی درخواستوں پر دوبارہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے سے تقریباً ۳۹؍ ممالک کے متاثرہ ڈاکٹروں کو راحت ملی ہے، جبکہ امریکی صحت کے شعبے میں عملے کی کمی کو کم کرنے میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این۔
امریکی امیگریشن پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کے تحت ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے خاموشی سے غیر ملکی ڈاکٹروں پر عائد سخت پابندیوں میں نرمی کر دی ہے، جسے صحت کے شعبے کے لیے ایک بڑی راحت قرار دی جا رہی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ۲۰۲۶ء کے اوائل میں متعارف کرائے گئے توسیعی سفری اور امیگریشن پابندیوں کے باعث درجنوں ممالک سے تعلق رکھنے والے طبی ماہرین شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار تھے۔ ان پابندیوں کے تحت ویزا پروسیسنگ، ورک پرمٹ اور گرین کارڈ درخواستوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا تھا، جس نے نہ صرف ڈاکٹروں بلکہ امریکی صحت کے نظام کو بھی متاثر کیا۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطینی صحافتی یونین کی رپورٹ: ۲۰۲۶ء میں ۳۰۰؍ اسرائیلی خلاف ورزیاں، جنگ میں ۲۶۲؍ صحافی شہید ہوئے
تازہ پیشرفت کے مطابق یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسیز نے بغیر کسی باضابطہ اعلان کے اپنی ویب سائٹ کو اپ ڈیٹ کیا، جس سے واضح ہوا کہ اب طبی معالجین سے متعلق درخواستوں پر دوبارہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ اس تبدیلی کی بعد میں یو ایس ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکوریٹی کے ترجمان نے بھی تصدیق کی، جنہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کے لیے ویزا اور ورک پرمٹ کی درخواستیں مزید منجمد نہیں رہیں گی۔ حکام کے مطابق، اس اقدام سے ہزاروں متاثرہ غیر ملکی ڈاکٹرز کو اپنے امیگریشن عمل کو دوبارہ شروع کرنے کا موقع ملے گا۔ یہ خاص طور پر ان طبی پیشہ ور افراد کے لیے اہم ہے جو پہلے ہی امریکی اسپتالوں یا کلینکس سے وابستہ تھے یا جن کی تقرریاں زیر التوا تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی طرزِعمل سے یورپ میں ’اسرائیلائزیشن‘ کا خطرہ: فرانسسکا البانیز کا انتباہ
پچھلی پابندیوں کے باعث تقریباً ۳۹؍ ممالک کے ڈاکٹروں کو براہ راست متاثر ہونا پڑا تھا۔ ان میں سے کئی ایسے تھے جو امریکہ کے دیہی اور کم سہولیات والے علاقوں میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں پہلے ہی طبی عملے کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اسپتالوں اور صحت کے مراکز نے بارہا خبردار کیا تھا کہ اگر غیر ملکی ڈاکٹروں کی آمد مزید تاخیر کا شکار رہی تو مریضوں کی دیکھ بھال بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے ایک بڑی وجہ امریکہ میں بڑھتی ہوئی ہیلتھ کیئر ورکرز کی کمی ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں، جہاں مقامی ڈاکٹرز کی دستیابی محدود ہے، غیر ملکی تربیت یافتہ معالجین ایک کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طبی اداروں اور پالیسی سازوں کی جانب سے اس پابندی کو نرم کرنے کے لیے مسلسل دباؤ موجود تھا۔
یہ بھی پڑھئے: اب ٹرمپ کا کیوبا پر ’فوری قبضے‘ کی تیاریوں کا اعلان
یہ پیشرفت ٹرمپ کی وسیع تر امیگریشن پالیسی میں ایک قابل ذکر تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس سے قبل انتظامیہ نے ویزا معطلی، سخت اسکریننگ اور قانونی امیگریشن کے راستوں کو محدود کرنے جیسے اقدامات کیے تھے، جنہیں ناقدین نے سخت اور غیر لچکدار قرار دیا تھا۔ تاہم، حالیہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ مخصوص شعبوں، خاص طور پر صحت، میں عملی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی میں نرمی کی جا رہی ہے۔ اگرچہ یہ نرمی مکمل امیگریشن اصلاحات کی طرف اشارہ نہیں کرتی، لیکن ماہرین اسے ایک ’’ٹارگٹڈ ریلیف‘‘ قرار دے رہے ہیں جو امریکی صحت کے نظام کو فوری سہارا فراہم کرے گا۔ مستقبل میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ تبدیلی دیگر پیشہ ورانہ شعبوں تک بھی پھیلتی ہے یا نہیں۔