۲۰۰۸ء میں ۹؍ سال کی عمر میں آسکر ایوارڈ جیتنے والی فلم میں اہم کردار ادا کرنے والی لڑکی اب کہاں ہے اور کیا کررہی ہے
EPAPER
Updated: December 10, 2025, 9:14 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai
۲۰۰۸ء میں ۹؍ سال کی عمر میں آسکر ایوارڈ جیتنے والی فلم میں اہم کردار ادا کرنے والی لڑکی اب کہاں ہے اور کیا کررہی ہے
یاد ہے ۲۰۰۸ء میں آسکر ایوارڈ جیتنے والی فلم ’سلم ڈاگ ملینئر‘ میں مرکزی کردار لتیکا کے بچپن کا رول ادا کرنے والی روبینہ؟ بہترین اداکاری نے روبینہ کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔ فلم ساز ڈینی بائل کے ذریعہ اس فلم میں کام کرنے والے غریب بچوں کی تعلیم اور دیگر ذمہ داریاں نبھانے کی وجہ سے ان کی زندگیاں بدل گئیں جن میں روبینہ بھی شامل ہیں۔ تقریباً ۹؍ سال کی عمر میں لتیکا کا کردار نبھانے والی روبینہ علی قریشی اب شادی کے بعد روبینہ محمد جودیا والا ہوگئی ہیں اور اپنے شوہر کے ساتھ وسئی میں رہتی ہیں۔
اگرچہ سلم ڈاگ ملینئر فلم کے بعد انہوں نے کسی فلم میں کام نہیں کیا لیکن جس وقت یہ فلم بنی تھی روبینہ باندرہ ریلوے اسٹیشن سے متصل جھوپڑ پٹی میں رہتی تھیں۔ فلم کی کامیابی کے بعد اس فلم کو بنانے والے ڈینی بائل نے روبینہ اور دیگر غریب اداکار بچوں کی تعلیم اور رہائش کا انتظام کیا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ ایک بہتر جگہ پر رہنے لگیں اور بی اے تک تعلیم حاصل کی، اس کے علاوہ انہوں نے ’بیوٹیشین‘ کا کورس بھی کیا جس کی بنیاد پر شوہر کی مدد سے انہوں نے نالا سوپارہ میں ذاتی ’’روبینہ بیوٹی ہیئر اینڈ نیل‘‘ نامی سیلون شروع کیا لیکن دو برسوں میں اسے بند کرکے وہ اپنے شوہر کی تجارت میں ان کا ہاتھ بٹانے لگیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر کی دو کمپنیاں ہیں، برف بنانے کی کمپنی جودیا والا انٹرپرائزیس اور ٹریڈر جو دیا والا انٹر پرائزیس جو واٹر پروفنگ کی کمپنی ہے۔
زندگی کا معیار بلند ہوجانے کے باوجود ان کا باندرہ سے ناطہ نہیں ٹوٹا ہے۔ اگرچہ ان کے والد کا انتقال ہوچکا ہے لیکن باندرہ کی جھوپڑ پٹی میں روبینہ کے بڑے ابا محی الدین قریشی اب بھی رہتے ہیں اور وقفہ وقفہ سے وہ اپنی والدہ کے ہمراہ رشتہ داروں سے ملاقات کیلئے اس گھر پر جاتی ہیں۔ روبینہ کی ایک بڑی بہن تھیں جن کا انتقال ہوچکا ہے اور ان کا بھائی ان کی والدہ کے ساتھ رہتا ہے۔
سلم ڈاگ ملینئر میں موقع ملنے کے تعلق سے روبینہ بتاتی ہیں کہ وہ پہلے سے فلموں میں چھوٹے موٹے رول کیا کرتی تھیں۔ اس علاقے کے اکثر بچے فلموں کے سیٹ پر جاتے تھے اور عام طور پر فلموں میں جو بھیڑ دکھائی جاتی ہے اس میں انہیں بھیڑ کا حصہ ہونے پر ایک دن کام کرنے کے ۶۰؍ روپے اجرت ملتی تھی۔
فلم میں کام کرنے کیلئے روبینہ نے آڈیشن دیا تھا اور وہ ۵۰۰؍ بچوں میں سے منتخب کی گئی تھیں۔ اس آڈیشن میں روبینہ کے بھائی بہنوں نے بھی حصہ لیا تھا لیکن کامیاب روبینہ ہوئیں۔
یہاں دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ روبینہ کے والدین کو علم نہیں تھا کہ وہ کوئی آڈیشن دے رہی ہے۔ وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ جس طرح یومیہ ۶۰؍ روپے کیلئے بچے جاتے ہیں اسی طرح وہ بھی جارہی ہے۔ روبینہ نے کہا کہ ’’جو اَنکل ہم سب بچوں کو سیٹ پر لے جاتے تھے جب انہوں نے میرے والد کو ۵؍ ہزار روپے دیئے تب میرے والد کو آڈیشن اور فلم کے لئے میرے انتخاب کا پتہ چلا۔ ‘‘
وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ ہم سب کو فلم کے بارے میں معلومات تھی مگر آسکر ایوارڈ کیا ہوتا ہے یہ معلوم نہیں تھا اس لئے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ فلم آسکر جیسے ایوارڈ کیلئے منتخب ہوسکتی ہے۔
فلمی دنیا کے تعلق سے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’جب فلم آسکر کیلئے گئی تب ہماری زندگی تبدیل ہوگئی تھی۔ لیکن فلم لائن میں لوگ بہت جلد کسی کو بھول جاتے ہیں اس لئے کچھ عرصہ بعد زندگی دوبارہ اپنی پرانی حالت پر آگئی تھی۔‘‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’اگر آسکر ہمیں آج ملا ہوتا تو شاید بہت کچھ الگ ہوتا کیونکہ اب دور بدل گیا ہے آج سوشل میڈیا پر کسی کی ایک ریل بھی وائرل ہوتی ہے تو اس کی زندگی بدل جاتی ہے۔‘‘