کمشنروں کی تقرری میں حکومت کو جو بالادستی حاصل ہوئی اسی سے بنگال کے ایس آئی آر کی بنیاد رکھ دی گئی تھی۔ یہ انصاف کا کھلا مذاق ہے جس کی اصلاح میں ہماری عدالتوں نے بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔
EPAPER
Updated: May 26, 2026, 11:35 AM IST | Julio Ribeiro
کمشنروں کی تقرری میں حکومت کو جو بالادستی حاصل ہوئی اسی سے بنگال کے ایس آئی آر کی بنیاد رکھ دی گئی تھی۔ یہ انصاف کا کھلا مذاق ہے جس کی اصلاح میں ہماری عدالتوں نے بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔
بنگال میں جن لوگوں کو ووٹ دینے کی اجازت دی گئی، انہوں نے حال ہی میں اپنی پرانی لڑاکا لیڈر ممتا بنرجی کو مسترد کر دیا اور اپنی محبوب سرزمین کیلئے وزیراعظم مودی کے ’’ڈبل انجن‘‘ کو منتخب کیا۔ اس تبدیلی کا بنگال کے لوگوں پر کیا اثر پڑیگا اور دیگر ریاستوں میں رہنے والے شہری کس طرح متاثر ہونگے، اس پر بعد میں گفتگو کرینگے، پہلے تو جمہوریت کو لاحق اس خطرہ پر بات کرتے ہیں جو ایک ایسے ادارے کے زوال سے پیدا ہوا ہے جو جمہوریت کے تصور کیلئے بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے، یعنی الیکشن کمیشن آف انڈیا۔
الیکشن کمیشن کا احترام ہندوستان تک محدود نہیں تھا بلکہ دیگر ممالک بھی اسے قدر و منزلت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ ان کیلئے ہندوستانی الیکشن کمیشن کی کارکردگی کسی عملی معجزے سے کم نہیں تھی۔ اسے بجا طور پر اس بات پر فخر تھا کہ وہ پہاڑوں میں واقع کسی دور افتادہ بستی میں بھی، جہاں سو سے بھی کم افراد رہتے ہوں، نہ صرف حق ِ رائے دہی کو یقینی بناتا تھا بلکہ ان شہریوں کیلئے اس حق کے استعمال کی ضمانت بھی فراہم کرتا تھا۔
افسوس کہ مغربی بنگال کے الیکشن کے بعد یہ سارا وقار ختم ہو گیا! میرے شہر ممبئی میں مقیم ایک فکرمند شہری کا یہ تبصرہ صورتحال کی مکمل عکاسی کرتا ہے کہ ’’دو انتہائی قابلِ احترام سیاستداں، اُس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور وزیر داخلہ ولبھ بھائی پٹیل، نے ہمارے ملک میں جمہوریت کی مضبوط بنیاد رکھی تھی۔ نہرو اور پٹیل کی تعمیر کردہ اس عمارت کو اب تباہ کیا جا رہا ہے۔ ‘‘ موجودہ حکومت نے جس مستعدی اورچالاکی سے الیکشن کمشنروں کی تقرری کی، اس پر سپریم کورٹ نے بھی منفی تبصرہ کیا ہے۔ حیرت کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے طنزیہ انداز میں کہا کہ حکومت کو سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری میں بھی ایسی ہی مستعدی اور دلچسپی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے ہی حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ وزیراعظم، چیف جسٹس آف انڈیا اور اپوزیشن لیڈر کے ذریعے الیکشن کمشنر کی تقرری کے عارضی نظام کی جگہ مستقل نظام کیلئے جلد از جلد قانون سازی کرے۔ اس عارضی نظام کے تحت منتخب کئےگئے تین الیکشن کمشنروں میں جو سب سے سینئر ہوتا، وہ چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: مویشی لے جا رہے افراد کی بجرنگ دل کارکنان سے جھڑپ، ایک کی موت
حکومت نے جب ۲۰۲۳ء میں چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری کا قانون بنایا تو اس نے تقرری کمیٹی سے چیف جسٹس آف انڈیا کو خارج کر دیا اور ان کی جگہ وزیر اعظم کے منتخب کردہ ایک کابینی وزیر کو شامل کرکے اپنے پسندیدہ امیدوار کی تقرری کو یقینی بنانے کیلئے کمیٹی میں ایک کے مقابلے اپنی دو کی اکثریت یقینی بنا لی۔ مودی نے موجودہ الیکشن کمشنروں کے تقرر کی کمیٹی میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ اپنے دست ِ راست امیت شاہ کو شامل کیا لہٰذاجو تقرریاں ہوئیں، وہ پہلے سے طے شدہ تھیں۔
راہل گاندھی نے گجرات سے تعلق رکھنے والی اس جوڑی کے انتخاب پر اعتراض کیا مگر بی جے پی کے ان دونوں طاقتور لیڈروں نے (کمیٹی میں اپنی اکثریت کی بنیاد پر) اس اعتراض کو مسترد کر دیا۔ متکبرانہ بالادستی کے اسی ایک اقدام سے بنگال کے ایس آئی آر کی بنیاد رکھ دی گئی تھی۔ لاکھوں ’’درانداز‘‘، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی، حق ِ رائے دہی سے محروم کر دیئے گئے! یہ انصاف کا کھلا مذاق تھا جس کی اصلاح کرنے میں ہماری عدالتوں نے بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا۔
ناموں کے اخراج کی قانونی حیثیت جانچنے کیلئے ایک ڈراما اُس وقت بھی رچا گیا جب مختلف ہائی کورٹس کے ۱۹ ؍ججوں کی تقرری عمل میں آئی۔ ان کے پاس لاکھوں اپیلوں پر غور اور فیصلے کیلئے ایک ماہ سے بھی کم وقت تھا۔ کولکاتا ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس، جسٹس سیواگنانم، کے پاس ۲۰؍ دنوں کا وقت تھا اور انہوں نے ان ۲۰؍ دنوں میں ایک ہزار ۷۱۷؍ اپیلوں کا فیصلہ کیا۔ ان کے سامنے آنے والی ہر اپیل میں ووٹ کا حق بحال ہوا، جس سے یہ ثابت ہوا کہ جن لوگوں کو ’’گھس پیٹھیا‘‘ (درانداز) کہا گیا، ان کی شہریت کے فیصلوں میں تعصب اور جانبداری کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: گرمی سے ملک جھلس رہا ہے، کئی ریاستوں میں پارہ ۴۵؍ ڈگری کے پار
طارق رحمان کی قیادت میں بنگلہ دیش کی نئی حکومت نے اپنے بڑے ہمسایہ ملک کی جانب مفاہمت کا انداز اختیار کرتے ہوئے پیش رفت کی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری مشرقی سرحد پر ہمیں دشمن کا سامنا نہ ہو تو احتیاط اور سفارتی تدبر سے کام لینا ہوگا۔ پاکستان کی آئی ایس آئی یقینا ً ایسے بنگلہ دیش سے فائدہ اٹھائیگی جس کا رویہ ہندوستان کے ساتھ معاندانہ ہو اور جو آئی ایس آئی سے متاثر دہشت گردی کیلئے اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت دینے کو تیار ہو۔ بنگلہ دیش کی حکومت آسام کے وزیراعلیٰ کو پہلے ہی خبردار کر چکی ہے، جو اکثر آسام میں مقیم بنگالی مسلمانوں کو بنگلہ دیشی کہہ کر نشانہ بناتے ہیں۔ انہیں (ہیمنت بسوا شرما کو) بولنے سے پہلے سوچنے کا مشورہ دینا چاہئے۔
اب بنگال میں بی جے پی کی شاندار فتح کی طرف واپس آتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بی جے پی اپنے اقتدار والی دیگر ریاستوں میں جس طرح ترقیاتی کام کرتی ہے، ویسے ترقیاتی کاموں سے مغربی بنگال کو بھی فائدہ ہوگا۔ ترقی معیشت کو فائدہ پہنچاتی ہے، حالانکہ اس فائدہ کا بڑا حصہ ان لوگوں کو ملتا ہے جو پہلے ہی خوشحال طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہی طبقہ بی جے پی کا بنیادی حمایتی گروپ بھی ہے۔ بی جے پی حکومتیں جرائم سے نمٹنے کیلئے سخت طریقے اپنانے سے نہیں گھبراتیں۔ تشدد سے متاثرہ بنگال میں بھلے ہی کچھ وقت لگے مگر اس محاذ پر بھی بی جے پی حکومت اپنی چھاپ چھوڑے گی۔ بدعنوانی ایک الگ مسئلہ ہے، یہ ایسی مچھلی کی طرح ہے جسے پکڑنا مشکل ہے، خاص طور پر اس لئے کہ بی جے پی بنگال میں اپنا تنظیمی ڈھانچہ ٹی ایم سی کے سابق کارکنوں کو شامل کرکے کھڑا اور مضبوط کر رہی ہے۔
ملک کی ہر ریاست میں بی جے پی نے لالچ اور دیگر طریقۂ کار استعمال کرکے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کو اپنی طرف راغب کیا اور انہیں گلے لگایا۔ ان میں سے زیادہ تر غیر قانونی طور پر دولت جمع کرنے کیلئے بدنام رہے ہیں۔ بی جے پی میں آنے کے بعد وہ ’’بدعنوانی‘‘ کے اپنے تجربات کو استعمال کریں گے۔ بنگال کے عوام بلا شبہ جرائم میں کمی اور سیاسی تشدد کے خاتمے کا خیر مقدم کریں گے مگر خود بنگال کے لوگ اور دیگر ریاستوں کے ان کے ہم وطن کبھی عظیم، آزاد اور پوری طرح غیر جانبدار رہنے والے الیکشن کمیشن کے زوال اور ناکامی پر افسوس کرتے رہیں گے۔
(مضمون نگار سبکدوش آئی پی ایس افسر ہیں جو ممبئی کے پولیس کمشنر رہ چکے ہیں )
(بشکریہ: ’دی ٹربیون‘)