معروف ادیب، صحافی اور بچوں کے مقبول رسالے ’’گل بوٹے‘‘ کے مالک و مدیر مرحوم فاروق سید کی یاد میں ایک پُراثر تعزیتی نشست سنیچر، ۲۳؍ مئی مئی کو احمد زکریا ہال، انجمن اسلام، سی ایس ٹی، ممبئی میں انعقاد پزیر ہوئی
EPAPER
Updated: May 26, 2026, 11:34 AM IST | Mumbai
معروف ادیب، صحافی اور بچوں کے مقبول رسالے ’’گل بوٹے‘‘ کے مالک و مدیر مرحوم فاروق سید کی یاد میں ایک پُراثر تعزیتی نشست سنیچر، ۲۳؍ مئی مئی کو احمد زکریا ہال، انجمن اسلام، سی ایس ٹی، ممبئی میں انعقاد پزیر ہوئی
معروف ادیب، صحافی اور بچوں کے مقبول رسالے ’’گل بوٹے‘‘ کے مالک و مدیر مرحوم فاروق سید کی یاد میں ایک پُراثر تعزیتی نشست سنیچر، ۲۳؍ مئی مئی کو احمد زکریا ہال، انجمن اسلام، سی ایس ٹی، ممبئی میں انعقاد پزیر ہوئی، جس میں ممبئی کی ممتاز ادبی، سماجی، سیاسی اور صحافتی شخصیات نے شرکت کی اور نہایت جذباتی انداز میں مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تعزیتی نشست کا آغاز مرحوم فاروق سید کی ایک ویڈیو سے ہوا، جس میں وہ والد کے موضوع پر ایک نظم پڑھ رہے ہیں۔ ویڈیو کے اختتام پر ہال کا ماحول جذباتی ہوگیا۔ اس تعزیتی نشست کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں شہر ممبئی اور مضافات ہی کی نہیں، بیرونی شہروں کی بھی مقتدر شخصیات نے شرکت کی اور مرحوم فاروق سید سے اپنے دیرینہ مراسم کا حق ادا کیا۔ اس دوران اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے سابق وزیر نواب ملک نے کہا کہ فاروق سید کا انتقال اردو زبان کا ہی نہیں بلکہ اردو تہذیب کا بھی بڑا خسارہ ہے۔ انہوں نے فاروق سید سے اپنے دیرینہ مراسم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ محبت، خلوص اور تہذیبی اقدار کے امین تھے اور اردو زبان و ادب کے فروغ کیلئے ہمیشہ سرگرم رہے۔ ایسے بڑے شخص کو ہم لوگ جیتے جی پہچان نہیں سکے۔
یہ بھی پڑھئے: ۳۰؍ جون سے ایس آئی آر کیلئے بی ایل او گھر گھر جائیں گے
معروف خطیب اور علمی، ادبی اور سماجی شخصیت علی ایم شمسی نے فاروق سید کی سادگی، متانت اور شریف النفسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خصوصاً بچوں کے ادب کیلئے جو خدمات انجام دیں، وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’گل بوٹے‘‘ محض ایک رسالہ نہیں بلکہ نئی نسل کو اردو زبان اور تہذیب سے جوڑنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔
سابق رکنِ اسمبلی اور ماہر تعلیم پرنسپل ڈاکٹر سہیل لوکھنڈ والا نے مرحوم سے اپنے برسوں پر محیط تعلقات کا ذکر کیا اور کہا کہ فاروق سید نہایت ملنسار، مخلص اور خاموش طبع انسان تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اردو کی خدمت میں گزاردی۔ تاثرات کا اظہار کرنے والی دیگر شخصیات میں ڈاکٹر شیخ عبداللہ، مشتاق انتولے، ایڈوکیٹ یاسین مومن، سرفراز آرزو، وجیہ الدین، شاہد لطیف، حامد اقبال، آصف اقبال، نسیم صدیقی، بیگم ریحانہ احمد، پروفیسر سید اقبال، نظام الدین راعین، ایڈوکیٹ جلال الدین اور زیبا ملک کے نام نامی شامل ہیں جنہوں نے مرحوم کی مجموعی خدمات کا احاطہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ڈیوٹی نہ کرنیوالے اور تساہل برتنےوالے سپروائزر اور شمار کنندگان کیخلاف کیس ہوگا
ڈاکٹر قاسم امام نے فاروق سید سے اپنی چالیس سالہ رفاقت کا ذکر کیا اور کہا کہ فاروق بے حد محنتی، دیانتدار اور اردو زبان کا سچا عاشق تھا۔ انہوں نے خاص طور پر بچوں کے ادب سے فاروق سید کی غیر معمولی وابستگی کو یاد کیا اور کہا کہ وہ نئی نسل میں اردو زبان کے فروغ کیلئے ہمیشہ فکر مند رہتا تھا۔ آخر میں معروف سماجی خدمت گار سعید خان نے اپنے خطاب میں فاروق سید کی اردو دوستی، ادبی جنون اور تہذیبی وابستگی پر روشنی ڈالی۔ تعزیتی نشست میں سلطان مالدار، ڈاکٹر سلیم خان، ڈاکٹر عابد بینزاور ڈاکٹر شاہد (بینز ہاسپٹل)، ڈاکٹر مصطفیٰ پنجابی، سلیمان فاروقی، پروفیسر کلانیہ، جمشید علی سید، سلیم الوارے، عامر ادریسی، عمر لکڑا والا، اوصاف عثمانی، منصور جھٹام، فرید احمد خان، ایڈوکیٹ زبیر اعظمی، پرنسپل اسلم شیخ، پرنسپل ضیاء الرحمان اور مخلص مدعو (رئیس ہائی اسکول) اور مرحوم کے فرزند عاصم سید خصوصی طور پر موجود تھے جبکہ عبد الحفیظ (بسمت)، سلیم محی الدین (اورنگ آباد)، امتیاز خلیل (مالیگاؤں ) اور شیخ ادریس (سنگم نیر) صرف اور صرف اس نشست کیلئے تشریف لائے۔ اس کے علاوہ بھی کئی اہم شخصیات، ادباء، شعراء اور صحافیوں نے شرکت کی۔
ویڈیو پیغام کے ذریعے ڈاکٹر ظہیر قاضی، کریم سالار اور نگار عظیم نے اپنے تاثرات پیش کیے، جبکہ شمس اقبال (قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان) کا تعزیتی پیغام بھی سنایا گیا۔ منور سلطانہ اور لنترانی میڈیا ہاؤس نے اس نشست کی لائیو اسٹریمنگ کی۔ پروگرام کی نظامت عرفان جعفری نے انجام دی، جبکہ نشست کو کامیاب بنانے میں کمال مانڈلیکر، صابر سید، ڈاکٹر قمر صدیقی اور عابد شیخ گلوبل پیش پیش تھے۔