امریکی سینیٹ میں مباحثے کے دوران کسی نے اس معاہدے کو امریکہ کیلئے تباہی قرار دیا تو کسی نے اسے وقت کا ضیاع بتلایا، بیشتر کا ایران پر دبائو ڈالنے پر زور۔
EPAPER
Updated: May 26, 2026, 11:12 AM IST | Washington
امریکی سینیٹ میں مباحثے کے دوران کسی نے اس معاہدے کو امریکہ کیلئے تباہی قرار دیا تو کسی نے اسے وقت کا ضیاع بتلایا، بیشتر کا ایران پر دبائو ڈالنے پر زور۔
امریکی سینیٹ میں متعدد سینئر ریپبلکن نے امریکہ اور ایران کے درمیان زیر مذاکرات معاہدے پر شدید تنقید کی مہم شروع کر دی ہے۔ ان ریپبلکن نے خبردار کیا کہ یہ ممکنہ سمجھوتہ تہران کے خلاف حالیہ امریکی اسرائیلی فوجی مہم کے مقاصد کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور مہینوں کے تصادم کے بعد ایران کو خطے میں ایک مضبوط پوزیشن فراہم کر سکتا ہے۔ یہ تنقید اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ تنازع کو ختم کرنے کا معاہدہ مذاکرات کے لحاظ سے تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ رپورٹ بتاتی ہیں کہ مجوزہ فریم ورک میں ۶۰؍ دنوں کی جنگ بندی شامل ہے جس کا مقصد ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں اضافی گفتگوکیلئے راستہ بنانا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی جہاز رانی کیلئے آبنائے ہرمز کو بغیر کسی فیس کے دوبارہ کھولنا اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی محاصرے کا خاتمہ شامل ہے۔ اس کے بدلے میں تہران کئی محاذوں پر اپنی جارحانہ سرگرمیاں بند کرے گا اور لبنان میں حزب اللہ جیسے مسلح گروہوں کی حمایت بھی بند کرے گا۔
مجوزہ جنگ بندی پر تنقید
سینیٹ کی مسلح خدمات کی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر راجر وکر نے مجوزہ ۶۰؍ روزہ جنگ بندی کو ایک تباہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس غیر حقیقت پسندانہ مفروضے پر مبنی ہے کہ ایران نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ گزشتہ تین ماہ کے دوران حاصل کی گئی فوجی کامیابیوں کو بے وقعت بنا دے گا اور امریکی موقف کی کمزوری کا تاثر دے گا۔ دوسری طرف ٹرمپ کے اہم ترین اتحادیوں اور ایران پر دباؤ کی پالیسی کے حامیوں میں سے ایک سینیٹر لنڈسے گراہم نے بھی معاہدے کے بارے میں گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ ایرانی خطرات سے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر محفوظ نہ کر پانے کی وجہ سے کسی سمجھوتے تک پہنچنا تہران کو خطے میں ایک غالب طاقت کے طور پر دکھائے گا۔ اس صورت حال کو انہوں نے طویل مدت میں خطے کے لیے ایک ڈراؤنا خواب قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت ایک درست معاہدے تک پہنچنے کی ہے، نہ کہ جلدی میں کئے گئے سفارتی حل کو قبول کرنے کی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ فلوٹیلا معاملہ: ملائیشیا اسرائیل کو عالمی عدالت میں لے جانے کی تیاری میں
سینیٹر ٹام ٹلس نے بھی گردش کرنے والے موجودہ فارمیٹ میں اس معاہدے کو مسترد کرنے کا اعلان کردیا اور کہا کہ وہ کسی ایسے سمجھوتے کی حمایت نہیں کر سکتے جو ایران کے اندر جوہری مواد کی موجودگی کی اجازت دیتا ہو۔ انہوں نے اس سلسلے میں سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے موقف کی تائید کی جن کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ ایران کی جوہری صلاحیتوں کو حتمی طور پر بے اثر نہیں کرتا۔ کئی دوسرے ریپبلکن، جن میں سینیٹرز ٹام کاٹن اور ٹیڈ کروز شامل ہیں، نے حالیہ دنوں میں اسی طرح کی تنقید کا حصہ بنتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے میں یورینیم کی افزودگی کے لیے ایران کی صلاحیتوں کا مکمل خاتمہ، اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا حل اور خطے میں مسلح گروہوں کیلئے اس کی حمایت کا خاتمہ شامل ہونا چاہئے۔ سینیٹ کے ۵۲؍ ریپبلکن ارکان نے مئی ۲۰۲۵ء میں ٹرمپ کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کسی بھی ایسے معاہدے کو مسترد کر دیں جو ایران کو یورینیم افزودگی کی صلاحیتیں برقرار رکھنے کی اجازت دیتا ہو۔ ان ریپبلکن ارکان نے کہا تھا کہ کہ کوئی بھی سمجھوتہ تہران کیلئے جوہری ہتھیاروں کے حصول کا کوئی بھی ممکنہ راستہ باقی نہ چھوڑے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران معاہدے پر ٹرمپ کو متاثر کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے: نیتن یاہو
سب سے پہلے امریکہ
متعدد ریپبلکن، جن میں گراہم اور کاٹن شامل ہیں، نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی مستقبل کے جوہری معاہدے کو کانگریس کے سخت جائزے کے تابع کیا جائے۔ بالکل اسی طریقہ کار کی طرح جو ۲۰۱۵ء کے ایران جوہری معاہدے کے جائزے کے قانون کے تحت منظور کیا گیا تھا تاکہ اس کی وسیع قانون سازی کی حمایت حاصل ہو اور یہ امریکی قومی سلامتی کے معیارات کے مطابق ہو۔ دوسری طرف سینیٹر رینڈ پال نے اس رجحان کی مخالفت کی اور اپنے ریپبلکن ساتھیوں سے اپیل کی کہ وہ صدر کو’سب سے پہلے امریکہ‘ کے اصول پر مبنی سفارتی حل کی طرف بڑھنے کی گنجائش دیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگیں تقریباً ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے ہی ختم ہوتی ہیں۔ جیسے جیسے ممکنہ معاہدے کی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں ریپبلکن پارٹی کے اندر شدید مخالفت ایران سے نمٹنے کے بہترین طریقوں کے بارے میں بڑھتے ہوئے اختلافات کو ظاہر کر رہی ہے۔ اس مخالفت سے یہ سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا کسی حتمی معاہدے کو کانگریس کی رسمی منظوری کی ضرورت ہوگی یا اسے بڑی قانون سازی کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یاد رہے ابھی تک وائٹ ہاؤس نے مجوزہ فریم ورک کا مکمل متن شائع نہیں کیا اور نہ ہی ایرانی حکام نے گردش کرنے والی تمام شقوں کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔