لمی شہرت کے حامل ہندوستان کے ممتاز عالم دین، دار العلوم ندوۃ العلماء کے سابق استاذ حدیث ، جامعہ سید احمد شہید کٹولی ملیح آباد کے ناظم مولانا سلمان حسینی ندوی اتوار اور پیر کی درمیانی شب تقریباً تین بجے اپنی رہائش گاہ پر مالک حقیقی سے جا ملے۔
EPAPER
Updated: June 29, 2026, 11:56 PM IST | Lucknow
لمی شہرت کے حامل ہندوستان کے ممتاز عالم دین، دار العلوم ندوۃ العلماء کے سابق استاذ حدیث ، جامعہ سید احمد شہید کٹولی ملیح آباد کے ناظم مولانا سلمان حسینی ندوی اتوار اور پیر کی درمیانی شب تقریباً تین بجے اپنی رہائش گاہ پر مالک حقیقی سے جا ملے۔
لمی شہرت کے حامل ہندوستان کے ممتاز عالم دین، دار العلوم ندوۃ العلماء کے سابق استاذ حدیث ، جامعہ سید احمد شہید کٹولی ملیح آباد کے ناظم مولانا سلمان حسینی ندوی اتوار اور پیر کی درمیانی شب تقریباً تین بجے اپنی رہائش گاہ پر مالک حقیقی سے جا ملے۔ وہ صبح تہجد کیلئے اٹھے تھے ، نماز سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ ہارٹ اٹیک آیا جس سے وہ جانبر نہ ہوسکے اور داعی ٔاجل کو لیبک کہا۔
مولانا کی عمر تقریبا۷۲؍برس تھی۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ ۸؍ماہ قبل عارضہ قلب کے سبب انہیں پیس میکر لگایا گیا تھا۔ مولانا کے انتقال سے نہ صرف ہندوستان بلکہ عالم اسلام میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دنیا بھر کی اہم شخصیات نے اہل خانہ کو تعزیت پیش کی ہے ۔ مولانا کی نماز جنازہ ان کے بیٹے مولانا یوسف حسینی ندوی نے ادا کرائی اور کٹولی، ملیح آباد میں واقع جامعہ سید احمد شہید کے احاطہ میں جم غفیر کی موجودگی میں تدفین عمل میں آئی۔ مولانا سید سلمان حسینی ندوی نے معروف دینی درسگاہ دارالعلوم ندوۃ العلماء میںنصف صدی تک تعلیمی خدمات انجام دیں۔ وہ عالمی اتحاد برائے علمائے اہل اسلام کی ’’مجلس امناء‘‘ کے رکن رہے۔ انہوں نے پوری زندگی حدیث نبوی ؐکی خدمت ، تعلیمی و دعوتی کام میں صرف کردی ۔
مولانا سید سلمان حسینی ندوی کے انتقال پر عالم اسلام کی اہم شخصیات نے تعزیت پیش کی ہے ۔ ان میںاتحاد علماء کے صدر علی محسن القرضاوی داغی ، سلطنت عمان کے مفتی شیخ احمد بن حمد الخلیلی ،مفتی محمد الحسن ولد اددو ، ڈاکٹر علی السلاوی جنرل سکریٹری اتحاد علماء المسلمین سمیت درجنوں شخصیات شامل ہیں ۔ وہیں ہندوستان کے سینئر عالم مولانا سجاد نعمانی اور تبلیغی جماعت کے ذمہ دار مولانا سعد کاندھلوی کے علاوہ شہر لکھنؤ کے علماء اور اہم شخصیات نے تعزیت پیش کی ہے ۔ نماز جنازہ میں مولانا سعد کاندھلوی ، مولانا لاٹ اور جماعت اسلامی سمیت ملی تنظیموں کے وفود نے شرکت کی ۔ ندوۃ العلماء کے ناظر عام مولانا عمار حسنی ندوی ، نائب مہتمم مولانا عبدالعزیز بھٹکلی ندوی کے علاوہ بڑی تعداد میں اساتذہ و طلبہ موجود رہے ۔
مولانا سلمان حسینی ندوی کی پیدائش ۱۹۵۴ءمیں لکھنؤ کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی۔ انھوں نے دارالعلوم ندوۃ العلماءمیں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد ریاض (سعودی عرب) میں واقع امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے کلیۃ اصول الدین کے شعبہ حدیث میں داخلہ لیا اور وہاں سے۱۹۸۰ء میں ماسٹرس کی ڈگری حاصل کی۔ انھوں نے دار العلوم ندوۃ العلماء کے شعبہ حدیث سے بحیثیت مدرس اپنے تدریسی سفر کا آغاز کیا۔