فیفا نے ۲۰۲۶ءفیفا ورلڈکپ کے دوران مسلم کھلاڑیوں کے مذہبی عقائد اور ثقافتی حساسیت کا احترام کرتے ہوئے پلیئر آف دی میچ کی تقریب اور ٹرافی میں اہم تبدیلی متعارف کرا دی ہے۔
EPAPER
Updated: June 29, 2026, 9:59 PM IST | New York
فیفا نے ۲۰۲۶ءفیفا ورلڈکپ کے دوران مسلم کھلاڑیوں کے مذہبی عقائد اور ثقافتی حساسیت کا احترام کرتے ہوئے پلیئر آف دی میچ کی تقریب اور ٹرافی میں اہم تبدیلی متعارف کرا دی ہے۔
فیفا نے ۲۰۲۶ءفیفا ورلڈکپ کے دوران مسلم کھلاڑیوں کے مذہبی عقائد اور ثقافتی حساسیت کا احترام کرتے ہوئے پلیئر آف دی میچ کی تقریب اور ٹرافی میں اہم تبدیلی متعارف کرا دی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت منتخب کھلاڑیوں کے لیے شراب کی برانڈنگ کے بغیر بیک ڈراپ اور خصوصی ٹرافی پیش کی جارہی ہے۔ یہ تبدیلی اس وقت نمایاں ہوئی جب مراکش کے اسماعیل صیباری نے اسکاٹ لینڈ کے خلاف میچ میں ٹورنامنٹ کا تیز ترین پہلا گول کرنے پر مین آف دی میچ کا اعزاز حاصل کیا۔
ایوارڈ تقریب کے دوران عام طور پر موجود بیئر برانڈ کی تشہیر کو ہٹا کر اس کی جگہ غیر جانبدارسپیریئر پلیئر آف دی میچ ڈیزائن اور فیفا ورلڈ کپ کی برانڈنگ استعمال کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق مصر کے امام عاشور، اردن کے علی علوان، ایران کے رامین رضائیان، قطر کے گول کیپر محمود ابو ندا اور آئیوری کوسٹ کے یان دیومانڈے کو بھی اسی طرز کا غیر برانڈڈ ایوارڈ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:اولمپکس ۲۰۲۸ء: ہندوستان سمیت ۴؍ ویمنز کرکٹ ٹیموں نے کوالیفائی کرلیا
فیفا کے ترجمان کے مطابق منتخب کھلاڑی کی درخواست پر بغیر برانڈنگ والا ایوارڈ اور بیک ڈراپ فراہم کیا جا سکتا ہے۔ اسی پالیسی کا اطلاق ان کھلاڑیوں پر بھی ہوتا ہے جو قانونی طور پر شراب نوشی کی مقررہ عمر کو نہیں پہنچے ہوتے۔ یاد رہے کہ ۲۰۱۸ء ورلڈ کپ میں مصر کے گول کیپر محمد الشناوی نے بھی شراب کی اسپانسرشپ سے منسلک پلیئر آف دی میچ ایوارڈ قبول نہ کرنے پر عالمی توجہ حاصل کی تھی۔
فیفا کپ ، گروپ اسٹیج نے حاضری اور مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر دیئے
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے گروپ اسٹیج کے میچز شاندار کامیابی کے ساتھ ختم ہو گئے ہیں جس کے دوران فٹ بال کی تاریخ کے اس سب سے بڑے ایونٹ نے حاضری، عالمی ناظرین اور شائقین کی دلچسپی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ کر ایک نیا بینچ مارک قائم کر دیا ہے۔ کنیڈا، میکسیکو اور امریکہ کی مشترکہ میزبانی میں کھیلے جا رہے اس ٹورنامنٹ کے پہلے ۱۷؍ دنوں کے دوران مجموعی طور پر ۴۶؍ لاکھ سے زائد شائقین نے اسٹیڈیم کا رخ کیا۔ٹورنامنٹ کی تاریخ میں پہلی بار ۴۸؍ ٹیموں پر مشتمل اس فارمیٹ نے دنیا بھر کے کھلاڑیوں اور مداحوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا ہے، جہاں ۱۶؍ میزبان شہروں میں اب تک ۷۲؍ سنسنی خیز میچز کھیلے جا چکے ہیں۔ فٹ بال کی تاریخ کے اس سب سے وسیع ایونٹ میں قائم ہونے والے فیفا فین فیسٹیول نے بھی ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے، جہاں اب تک دنیا بھر سے ریکارڈ ۵۵؍ لاکھ فٹ بال فینز یکجا ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:جرمن دیوار گرانے کا عزم:پیراگوئے بڑی کامیابی کے لیے پرامید
گروپ اسٹیج کے ان ۷۲؍ میچوں کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسٹیڈیمز میں مجموعی حاضری ۴۶۴۴۵۴۹؍ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ میچز کے دوران شائقین کی جانب سے ۳؍ لاکھ سے زیادہ ہاٹ ڈاگز چٹ کیے گئے۔ اعدادوشمار کے مطابق، اگر ان تمام فروخت ہونے والے ہاٹ ڈاگز کو ایک لائن میں جوڑا جائے تو ان کی لمبائی نیویارک نیو جرسی سٹیڈیم سے جے ایف کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے درمیان کے ۲۸؍ میل (45 کلومیٹر) کے فاصلے کے برابر بنتی ہے۔اس مرتبہ ایونٹ میں ۴۸؍ ممالک کی نمائندگی کرنے والے ۱۲۴۸؍ کھلاڑی شامل ہیں، جن میں سے ۹۹۹؍کھلاڑیوں کو گروپ اسٹیج کے میچز میں ایکشن دکھانے کا موقع ملا ہے۔ فیفا کمیونیکیشنز ڈویژن کے مطابق، فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے پہلے۱۷؍ دنوں نے اپنے بے مثال اسکیل، گلوبل کوریج اور شائقین کے جوش و خروش سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ فٹ بال کی تاریخ کا سب سے یادگار اور عظیم الشان شو ہے اور آنے والے ناک آؤٹ مرحلے میں مزید سنسنی خیز مقابلوں کی توقع ہے۔