کیمرون میں ۴؍ سال بعد کھولے گئے اسکول دوبارہ بند

Updated: November 07, 2020, 11:13 AM IST | Agency | Washington

انتہا پسندوں کے حملے کے بعد اساتذہ کا پڑھانے سے انکار، سیکوریٹی کی کمی کے پیش نظر اسکول بندکرنے کا فیصلہ

Extremists will not allow schools to reopen until the army is removed from the area. Picture :INN
انتہا پسندعلاقے سے فوج ہٹائے جانے تک اسکول کھولنے نہیں دیں گے۔ تصویر:آئی این این

افریقی ملک  کیمرون میں اسکولوں کو چار سال بعد کھولا گیا تھا لیکن انتہا پسندوں کے حملوں کے پیش نظر انہیں دوبارہ بند کر دیا گیا۔  حکام کا کہنا ہے کہ چار سال بعد باغیوں کے علاقے میںا سکولوں کو وبارہ کھولا گیا تھا، مگر ناکافی سیکوریٹی کے باعث یہ دوبارہ خالی ہو رہے ہیں۔کیمرون میں سوشل میڈیا پر شیئر کئے جانے والے ایک ویڈیو میں، ملک کے جنوب مغرب میں واقع قصبے لمبے میں قائم کولو میموریل کالج میں سات مسلح باغیوں کو اساتذہ کو کپڑے اتارنے کاحکم دیتے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں طالب علموں کو روتے ہوئے اور مدد کیلئے پکارتے ہوئے دِکھایا گیا ہے جبکہ اساتذہ کی تذلیل کر کے انہیں اسکول بند کرنے اور وہاں سے چلے  جانےکیلئے کہا جا رہا ہے۔ کیمرون کے حکام نے اس بات کی  تصدیق کی ہے کہ بدھ کےروز مذکورہ ا سکول پر حملہ کیا گیا تھا۔ لمبے کے ایک ٹیچر لیزلے ٹیبوٹ نے اس وقت تک پڑھانے سے انکار کر دیا ہے جب تک حکومت اسکولوں کو تحفظ فراہم کرنے کا اپنا وعدہ پورا نہیں کرتی۔لیزلے کہتے ہیں کہ حکومت نے والدین اور اساتذہ کو یقین دہانی کروائی تھی کہ ملک کے شمال مغربی اور جنوب مغربی علاقوں میں زیادہ سے زیادہ سیکوریٹی فراہم کر دی گئی ہے تا کہ اسکول سکون سے چلتے رہیں۔ مگر ہر روز کوئی نہ کوئی واقعہ ہو جاتا ہے۔ طالب علموں پر جا بجا حملے ہوتے رہتے ہیں، اساتذہ کی بھی تذلیل کی جاتی ہے۔ کیمرون میں اینگلو فون باغی ۲۰۱۷ءسے انگریزی بولنے والوں کیلئے ایک الگ ریاست کی تشکیل کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو کہ اکثریتی فرانسیسی بولنے والوں سے الگ ہو۔گزشتہ ماہ، کیمرون کے شمال مغرب اور جنوب مغربی علاقوں میں چار برس تک بند رہنے والے اسکولوں کو اس وقت کھول دیا گیا تھا جب کیمرون کی حکومت نے کہا تھا کہ یہ علاقے  اب بالکل محفوظ ہیں۔ تاہم ملک کی فوج نے تسلیم کیا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران، باغیوں نے کم ازکم ۶؍ اساتذہ اور ۷؍ بچوں کو اغوا کر لیا ہے، اور اس سے  پہلے ۲۳؍اساتذہ کو اغوا کیا گیا تھا اور تین اسکولوں کو آگ لگا دی گئی تھی۔کیمرون میں شمال مغربی علاقے کے گورنر ڈیبن ٹے شوفو کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں دوبارہ کھولے جانے والے اسکولوں میں سے ۲۰؍ کو  ایک بار پھر بند کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ دیگرا سکولوں میں زیر تعلیم ہزاروں بچے اور ان کے اساتذہ خوف کی وجہ سےا سکول نہیں جا رہے  ہیں۔ حالانکہ ان علاقوں میں فوجی دستے تعینات کر دئیے گئے ہیں جوکہ بالکل چوکنا ہیں۔ علاحدگی  پسندوں کا مطالبہ ہے کہ ان علاقوں میںا سکول اس وقت تک بند رکھے جائیں، جب تک کہ حکومت وہاں سے اپنی فوج واپس نہیں بلاتی، جنہیں باغی اپنا علاقہ قرار دیتے ہیں۔ایک پرائیویٹ اسکول پر ہونے والے حملے کو قتلِ عام اور بچوں پر اِن تنازعات کے سبب ہونے والے  برے اثرات کی عالمی سطح پر سخت مذمت کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ افریقہ کے بیشتر ممالک میں انتہا پسند گروپ سرگرم ہیں جو یہاں یورپی ممالک کی سرگرمیوں کو ان کا یہاں ناجائز تسلط تصور کرتے ہیں۔  اور ان کے یہاں سے چلے جانے پر اصرار کرتے ہیں۔ اسکولوں پر حملے  اسی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK