پی ایل او کے مطابق اسرائیل نے غیر قانونی آبادکاروں کے حملوں کی ۹۳ ؍فیصد سے زیادہ تحقیقات بغیر الزامات کے بند کر دیں، اسرائیلی حکام پر الزام ہے کہ وہ استحصالی رویہ اپنا رہے ہیں جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
EPAPER
Updated: August 03, 2026, 4:31 PM IST | Jerusalem
پی ایل او کے مطابق اسرائیل نے غیر قانونی آبادکاروں کے حملوں کی ۹۳ ؍فیصد سے زیادہ تحقیقات بغیر الزامات کے بند کر دیں، اسرائیلی حکام پر الزام ہے کہ وہ استحصالی رویہ اپنا رہے ہیں جبکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) نے سنیچر کو کہا کہ اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں کی فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں کی ۹۳ ؍فیصد سے زیادہ تحقیقات بغیر فردِ جرم عائد کیے بند کر دی ہیں۔یہ اعداد و شمار پی ایل او کے نیشنل بیورو فار ڈیفنڈنگ لینڈ اینڈ ریزسٹنگ سیٹلمنٹس کی ہفتہ وار رپورٹ میں اسرائیلی غیر قانونی آبادکاروں اور فوج کی خلاف ورزیوں کے بارے میں شائع ہوئے۔رپورٹ میں کہا گیا، قابض یہودیوں کے جرائم ایک مربوط پالیسی کا تسلسل ہیں جو غیر قانونی آبادکاروں اور (اسرائیلی) قبضہ کار فوج کے درمیان واضح حکومتی سرپرستی میں چلتی ہے۔‘‘ اس میں کہا گیا کہ ،’’آبادکاروں کے حملوں سے متعلق تحقیقاتی فائلوں میں سے ۹۳ ؍فیصد سے زیادہ بغیر فردِ جرم عائد کیے بند کر دی گئیں۔‘‘
Watch: An Israeli settler harasses Palestinians while picking olives in Hebron. pic.twitter.com/jUUmeHOQXm
— PALESTINE ONLINE 🇵🇸 (@OnlinePalEng) October 30, 2022
مزید برآں رپورٹ میں کہا گیا کہ ۲۰۲۶ء کے آغاز سے غیر قانونی آبادکاروں کا تشدد شدت اختیار کر گیا ہے اور یہ ’’منظم جرائم میں تبدیل ہو گیا ہے جو قابض فورسیز کی پالیسیوں کی تکمیل کرتے ہیں۔‘‘اس نے وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کی حکومت کے ارکان، خاص طور پر وزیر دفاع اسرائیل کاٹز، وزیر خزانہ بیزالل اسموٹریچ اور وزیر قومی سلامتی اتمار بین گویر پر الزام لگایا کہ وہ قابض یہودیوں کے حملوں کو سیاسی پشت پناہی فراہم کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق، یہ حملے فلسطینی کاشتکار اور چرواہے برادریوں کو بے گھر کرنے اور ان کی زمینیں ضبط کرنے کے لیے ہیں جبکہ مجرم وسیع پیمانے پرمظالم سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے دفتر برائے ہم آہنگی انسانی امور کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے، رپورٹ میں کہا گیا کہ ۲۰۲۶ء کے آغاز سے مقبوضہ مغربی کنارے میں۱۳۳۰؍ سے زیادہ غیر قانونی آبادکار حملے درج کیے گئے ہیں۔اس میں کہا گیا کہ حملوں میں گھروں اور مساجد کو نشانہ بنانے والی آتش زنی، زرعی سہولیات اور پانی کے نظام کو نقصان پہنچانا، اور ایسا تشدد شامل تھا جس نے فلسطینی خاندانوں کے ساتھ ساتھ بدو اور چرواہے برادریوں کو اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا۔فلسطینی کمیشن برائے کالونائزیشن اینڈ وال ریزسٹنس نے کہا کہ اسرائیلی غیر قانونی آبادکاروں نے غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی جنگ کے پہلے ۱۰۰۰؍ دنوں کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریباً ۱۲۵۰۰؍حملے کیے، جن میں۸۲؍ فلسطینی شہید ہوگئے، ۸۹۰؍ آگ لگائی گئیں اور ۲۰۰؍ غیر قانونی آبادکاری چوکیاں قائم کی گئیں۔
HOLY SHIT✡️
— Banned Man (@BannedxMan) July 26, 2026
Israeli settlers just seized homes in Southern Lebanon, planted their first outpost with the IDF backing them all the way
They openly declared the start of their expansion into Lebanese land pic.twitter.com/fhOAcKrsM0
بعد ازاں فلسطینی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر ۲۰۲۳ء سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور غیر قانونی آبادکاروں کے حملوں میں ۸۲؍ سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوئے، تقریباً ۱۳۰۰۰؍دیگر زخمی ہوئے اور ۲۴۶۰۰؍افراد کو گرفتار کیا گیا۔