Inquilab Logo Happiest Places to Work

شہریت کی تصدیق کے بغیر کسی کو ملک بدر نہیں کیا جا سکتا: مرکز کا ایس سی میں مؤقف

Updated: August 03, 2026, 7:07 PM IST | New Delhi

ہندوستانی وزارتِ داخلہ نے سپریم کورٹ میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی کو اس وقت تک ملک بدر نہیں کیا جا سکتا جب تک اس کی شہریت کی تصدیق اور متعلقہ ملک کی جانب سے اسے قبول کرنے کی منظوری نہ مل جائے۔ یہ مؤقف آسام میں غیر ملکی قرار دیئے گئے افراد کی غیر معینہ مدت تک حراست اور مبینہ ’’پش بیک‘‘ کارروائیوں پر جاری بحث کے درمیان سامنے آیا ہے۔

Supreme Court. Photo: INN.
سپریم کورٹ۔ تصویر: آئی این این۔

مرکزی وزارتِ داخلہ (ایم ایچ اے) نے سنیچر کو سپریم کورٹ میں داخل اپنے ایک حلف نامے میں کہا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی شہری کو اس وقت تک اس کے آبائی ملک واپس نہیں بھیجا جا سکتا جب تک متعلقہ ملک اس کی شہریت کی تصدیق نہ کر دے اور اسے واپس لینے پر آمادہ نہ ہو۔ یہ حلف نامہ آسام میں ایسے افراد کی غیر معینہ مدت تک حراست کے خلاف دائر درخواست کے جواب میں پیش کیا گیا، جنہیں غیر ملکی قرار دیا جا چکا ہے لیکن جنہیں ان کے ملک واپس بھیجنے کا فوری امکان موجود نہیں۔ حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ: ’’ایسے غیر ملکی شخص، جس کی شہریت نامعلوم یا غیر مصدقہ ہو، کو صرف اسی صورت اس کے ملک واپس بھیجا جا سکتا ہے جب اس کی شہریت کی تصدیق ہو جائے، اس کے پاس درست سفری دستاویزات موجود ہوں، اور متعلقہ ملک اسے قبول کرنے پر رضامند ہو۔ شہریت کی تصدیق کے بغیر ملک بدری کا عمل شروع نہیں کیا جا سکتا۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: نیویارک: میئر ظہران ممدانی کی نانی پروین نائر ۹۴؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

وزارتِ داخلہ نے مزید بتایا کہ کسی بھی غیر ملکی کو اس کی سزا مکمل ہونے یا عدالتی کارروائی ختم ہونے کے بعد ہی ریاستی حکومت، مرکز کے زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ یا فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس (FRRO) کے ذریعے ملک بدر کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے پاس درست پاسپورٹ یا سفری دستاویز موجود ہو اور اس کے خلاف کوئی دوسرا فوجداری مقدمہ زیر سماعت نہ ہو۔ حلف نامے میں کہا گیا:’’ملک بدری سے پہلے متعلقہ ملک کے سفارت خانے یا ہائی کمیشن سے شہریت کی تصدیق کے عمل کے ذریعے ضروری سفری دستاویز حاصل کرنا لازمی ہے۔ ‘‘ وزارتِ داخلہ کا یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مرکزی حکومت کی مبینہ غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکینِ وطن کے خلاف جاری ’’پش بیک ‘‘مہم پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹی سی ایس ناسک کیس: پانچ ملزمان کو ضمانت دی، مقدمے کی سماعت جاری رہے گی

جون میں بنگلہ دیش نے الزام لگایا تھا کہ ہندوستان نے صرف۲۴؍ گھنٹوں کے دوران کم از کم۱۰؍ مقامات پر لوگوں کو زبردستی سرحد پار دھکیلنے کی کوشش کی۔ ڈھاکہ کا کہنا تھا کہ ہندوستانی حکام مناسب قانونی کارروائی کے بغیر بنگلہ بولنے والے مسلمانوں کو زبردستی بنگلہ دیش بھیج رہے ہیں۔ بنگلہ دیش بارڈر گارڈ (BGB) نے دعویٰ کیا کہ ہندوستانی بارڈر سکیورٹی فورس (BSF) نے سرحد کے مختلف حصوں پر متعدد مرتبہ ’’پش اِن‘‘ کی کوشش کی جبکہ بنگلہ دیش نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی بنگلہ دیشی شہری کی وطن واپسی صرف طے شدہ سفارتی اور قانونی طریقۂ کار کے مطابق ہی ممکن ہے۔ ۲۲؍ اپریل کو پہلگام حملے کے بعد کئی ریاستوں کی پولیس نے مبینہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی شناخت کیلئے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان میں سے کئی افراد کو سرحدی اضلاع میں لے جا کر قانونی ملک بدری کے بجائے بارڈر سیکوریٹی فورس کے ذریعے بنگلہ دیش کی جانب دھکیل دیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: جموں کشمیر میں دہشت گردی ختم ہوچکی ہے تو پھر حملے کون کررہا ہے:فاروق عبداللہ

اس طریقۂ کار پر اس وقت شدید تنقید ہوئی جب متعدد ایسے واقعات سامنے آئے جن میں مبینہ طور پر ہندوستانی شہریوں کو بھی غلط شناخت کی بنیاد پر بنگلہ دیش بھیج دیا گیا۔ آسام سے بنگلہ دیش بھیجے گئے کئی افراد بعد میں واپس لوٹ آئے کیونکہ وہ ہندوستانی شہری ثابت ہوئے یا ان کی شہریت کے مقدمات ابھی عدالتوں میں زیرِ سماعت تھے۔ ادھر مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے سنیچر کو کہا کہ ان کی حکومت مبینہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی شناخت کے عمل میں پوری احتیاط برتے گی تاکہ سنالی خاتون جیسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔ سنالی خاتون، جو ضلع بیربھوم کی رہائشی اور حاملہ تھیں، گزشتہ سال اپنے آٹھ سالہ بیٹے سمیت مبینہ طور پر غلط شناخت کے باعث بھارتی حکام کے ہاتھوں بنگلہ دیش بھیج دی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: ملک بھر میں مسلسل بارش لیکن تمل ناڈو میں نماز استسقاء

۷؍جون کو انہوں نے کہا تھا کہ ان کی حکومت تقریباً ۴؍ ہزار ۸۰۰؍’غیر قانونی تارکینِ وطن‘ کو واپس بھیج چکی ہے، جبکہ مزید۸۳۶؍افراد کو عارضی حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ تقریباً۱۰۰؍ کلومیٹر طویل سرحدی حصے پر باڑ لگانے کیلئےبارڈر سکیوریٹی فورس کو زمین فراہم کر دی گئی ہے۔ آسام حکومت نے ریاستی اسمبلی کو بتایا کہ گزشتہ دو برسوں میں مجموعی طور پر۱۶۷۹؍ افراد کو مختلف طریقوں، جن میں قانونی ملک بدری، ’’پش بیک‘‘ اور اخراج شامل ہیں، بنگلہ دیش بھیجا گیا۔ ان میں ۱۹۳؍ ایسے افراد بھی شامل تھے جنہیں آسام کے فارنرز ٹربیونلز نے غیر ملکی قرار دیا تھا، جبکہ ان میں سے۶۷؍ افراد کو Immigrants (Expulsion from Assam) Act, ۱۹۵۰ءکے تحت نکالا گیا۔ کئی ناقدین کا کہنا ہے کہ آسام اور مغربی بنگال دونوں میں مبینہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی شناخت کے عمل کا سب سے زیادہ اثر بنگلہ بولنے والے مسلمانوں پر پڑا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK