Updated: August 03, 2026, 7:34 PM IST
| Kolkata
جلاوطن بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین نے مدارس کے نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض مدارس انتہاپسندی کو فروغ دینے کا ذریعہ بن رہے ہیں، اس لیے حکومت کو ان پر مؤثر ضابطہ بندی کرنی چاہیے۔ تسلیمہ نے یکساں سول کوڈ (یونیفارم سول کوڈ) کی بھی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ضرورت صرف بھارت ہی نہیں بلکہ بنگلہ دیش اور پاکستان میں بھی ہے۔
تسلیمہ نصرین۔ تصویر: آئی این این
جلاوطن بنگلہ دیشی مصنفہ اور سماجی کارکن تسلیمہ نسرین نے ایک بار پھر مدارس، مذہبی انتہاپسندی اور یکساں سول کوڈ (یونیفارم سول کوڈ) کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو مدارس کے نظام پر مؤثر نگرانی اور ضابطہ بندی کرنی چاہیے۔ تسلیمہ نے یہ بھی کہا کہ ان کے نزدیک بعض مدارس ایسے افراد تیار کر رہے ہیں جو شدت پسند نظریات سے متاثر ہوتے ہیں، اس لیے اس نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ کولکاتا میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران تسلیمہ نسرین نے دعویٰ کیا کہ بعض مدارس ’’جہادی تیار کرنے کی فیکٹریاں‘‘ بن چکے ہیں۔ اس نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ مدارس کے نصاب، انتظامی ڈھانچے اور تعلیمی سرگرمیوں پر مؤثر نگرانی کرے تاکہ مذہبی انتہاپسندی کو فروغ دینے والے رجحانات کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ تاہم تسلیمہ نے یہ نہیں کہا کہ تمام مدارس یکساں نوعیت کے ہیں، بلکہ تسلیمہ کی تنقید ان اداروں پر مرکوز تھی جن کے بارے میں ان کے بقول شدت پسند نظریات پھیلانے کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک: میئر ظہران ممدانی کی نانی پروین نائر ۹۴؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئیں
تسلیمہ نسرین نے یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کی ضرورت صرف بھارت تک محدود نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں بھی محسوس کی جاتی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ مختلف مذہبی پرسنل لا کے بجائے ایسا یکساں قانونی نظام ہونا چاہیے جو تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق کو یقینی بنائے، خصوصاً خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے۔ تسلیمہ نسرین نے کہا کہ وہ گزشتہ تقریباً چالیس برس سے خواتین کے حقوق، آزادیٔ اظہار اور سیکولر اقدار کے لیے آواز اٹھا رہی ہے۔ اس کے مطابق جنوبی ایشیا کے کئی معاشروں میں خواتین کو اب بھی مساوی حقوق حاصل نہیں اور متعدد معاملات میں مذہبی قوانین خواتین کے حقوق کو متاثر کرتے ہیں۔ تسلیمہ کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے وہ برسوں سے یکساں سول کوڈ کی حمایت کرتی آئی ہے۔
اپنی گفتگو کے دوران تسلیمہ نے آزادیٔ اظہار کے موضوع پر بھی بات کی اور کہا کہ اسے امید ہے کہ اختلافِ رائے رکھنے والوں کو اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملنا چاہیے اور بنیادی حقوق کا تحفظ ہر شہری کے لیے یقینی بنایا جانا چاہیے۔ تسلیمہ نسرین کے ان بیانات کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردِعمل سامنے آئے۔ بعض صارفین نے مدارس میں اصلاحات اور خواتین کے حقوق سے متعلق ان کے مؤقف کی حمایت کی، جبکہ دیگر افراد نے تسلیمہ کے مدارس سے متعلق بیان کو متنازع اور قابلِ اعتراض قرار دیا۔ تسلیمہ کے تبصروں پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں بھی بحث شروع ہوگئی، جہاں مذہبی تعلیم، قومی سلامتی، خواتین کے حقوق اور یکساں سول کوڈ جیسے موضوعات پر مختلف آرا سامنے آئیں۔
یہ بھی پڑھئے: بریج بھوشن شرن سنگھ خاتون پہلوانوں کے جنسی ہراسانی کیس میں بری
تسلیمہ نسرین گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنے تحریروں اور بیانات کے باعث عالمی سطح پر توجہ کا مرکز رہی ہے۔ وہ خواتین کے حقوق، مذہبی انتہاپسندی اور آزادیٔ اظہار جیسے موضوعات پر کھل کر اظہارِ خیال کرتی رہی ہے جبکہ اس کے متعدد بیانات ماضی میں بھی تنازعات کا سبب بن چکے ہیں۔ اس کی بعض کتابوں پر بنگلہ دیش میں پابندی عائد کی گئی اور وہ طویل عرصے سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہے۔ حالیہ بیان کے بعد بھی مدارس، مذہبی تعلیم، ریاستی نگرانی اور یکساں سول کوڈ پر بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے تسلیمہ نسرین کے ان تازہ بیانات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں میں اس موضوع پر بحث جاری ہے۔