• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

روس کا ایران کو ایک ارب ڈالر قرض دینے کا فیصلہ، رقم منتقلی کیلئے تیار: رپورٹ

Updated: October 06, 2026, 4:04 PM IST | İstanbul

روس نے ایران کو ایک ارب ڈالر کا قرض دینے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں، تاہم رقم کی منتقلی ایرانی حکومت کے مختلف اداروں کے درمیان فنڈز کے استعمال پر اختلاف کے باعث رکی ہوئی ہے۔ یہ قرض مجوزہ۲۰؍ ارب ڈالر کے روسی قرض کی پہلی قسط ہے، جسے ایران گاڑیوں، تیل کے آلات اور ضروری اشیا کی درآمد پر خرچ کرنا چاہتا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ایرانی میڈیا نے منگل کو رپورٹ کیا کہ روس نے ایران کو ایک ارب ڈالر کا قرض فراہم کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں اور تہران کی جانب سے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات فراہم کئےجانے کے بعد رقم کی منتقلی کیلئے تیار ہے۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق رقم کی ادائیگی کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے، تاہم ایرانی حکومت کے مختلف اداروں کے درمیان اس رقم کے استعمال کے طریقہ کار پر اختلافات کے باعث منتقلی میں تاخیر ہوئی ہے۔ فارس کے مطابق اس قرض کی خبر پہلی بار جون میں سامنے آئی تھی اور اسے روس کی جانب سے ایران کیلئے مجوزہ۲۰؍ ارب ڈالر کے قرض کی پہلی قسط قرار دیا گیا تھا۔ 
خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی منصوبہ بندی و بجٹ تنظیم چاہتی ہے کہ یہ رقم گاڑیوں کی درآمد پر خرچ کی جائے، جبکہ وزارتِ تیل تیل کی صنعت کیلئے آلات خریدنے کی خواہاں ہے۔ دوسری جانب وزارتِ زراعت چاہتی ہے کہ رقم ضروری اشیا کی درآمد کیلئے مختص کی جائے۔ فارس نے بتایا کہ رقم کے استعمال کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، اسی وجہ سے ایرانی حکومت نے وہ بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کیں جو رقم کی منتقلی کیلئے ضروری ہیں۔ ایران اور روس نے اپنے اقتصادی اور مالیاتی تعلقات مزید مضبوط بنانے کی کوششیں تیز کردی ہیں، جن میں باہمی تجارت میں اپنی قومی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینا اور مغرب کے زیرِ کنٹرول مالیاتی نظاموں پر انحصار کم کرنا شامل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانوی مصنف اور سابق سیاست دان جیفری آرچر ۸۶؍ برس کی عمر میں انتقال کرگئے

جون میں ایران نے روس کے ساتھ بینکاری اور مالیاتی تعاون مضبوط بنانے کی کوششوں کے تحت روبل میں تجارت کیلئے ایک بورڈ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت ایک ایرانی رکنِ پارلیمنٹ نے کہا تھا کہ ماسکو کی جانب سے تہران کو۲۰؍ ارب ڈالر کا روبل پر مبنی قرض فراہم کیے جانے کی توقع ہے، جس پر سالانہ۶؍ فیصد شرحِ سود ہوگی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کو امریکہ کی جانب سے وسیع پیمانے پر عائد پابندیوں کا سامنا ہے، جن کا ہدف دیگر شعبوں کے علاوہ ایران کی تیل کی برآمدات، بینکاری کا شعبہ اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی بھی ہے۔ واشنگٹن نے حالیہ مہینوں میں تہران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھایا ہے، جس میں ان غیر ملکی اداروں کے خلاف ثانوی پابندیاں بھی شامل ہیں جن پر ایران کے ساتھ مالی لین دین میں سہولت کاری کا الزام ہے۔ ستمبر میں امریکی محکمہ خزانہ نے روس کے وی ٹی بی بینک پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ واشنگٹن کے مطابق یہ اقدام ان تعلقاتی بینکاری سہولتوں کے باعث کیا گیا جو مذکورہ بینک نے پابندیوں کی زد میں موجود ایرانی مالیاتی اداروں کو فراہم کی تھیں۔ امریکہ نے ان مالیاتی نیٹ ورکس کو بھی نشانہ بنایا ہے جن پر تہران کو رقوم منتقل کرنے اور پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے کا الزام ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK