ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ ایران پر ممکنہ حملوں میں’’ مدر آف آل بم‘‘ استعمال کرنے پر غور کررہا ہے، مریکی ہتھیاروں میں سب سے بڑے غیر جوہری بم GBU-43/B میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ (MOAB) بم کے مجوزہ استعمال سے ایران کے ساتھ تنازع میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
EPAPER
Updated: October 15, 2026, 7:15 PM IST | Washington
ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ ایران پر ممکنہ حملوں میں’’ مدر آف آل بم‘‘ استعمال کرنے پر غور کررہا ہے، مریکی ہتھیاروں میں سب سے بڑے غیر جوہری بم GBU-43/B میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ (MOAB) بم کے مجوزہ استعمال سے ایران کے ساتھ تنازع میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
سی این این نے بدھ کو منصوبوں سے واقف متعدد امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ اگر صدر ڈونالڈ ٹرمپ جنگی کارروائیوں کو دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیتے ہیں تو امریکی فوج نے نئے حملے کے منصوبے تیار کیے ہیں جن میں ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری مقامات کے خلاف ’’مدر آف آل بم‘‘ کے ممکنہ استعمال شامل ہیں۔امریکی ہتھیاروں میں سب سے بڑے غیر جوہری بم GBU-43/B میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ (MOAB) بم کے مجوزہ استعمال سے ایران کے ساتھ تنازع میں نمایاں اضافہ ہوگا۔تاہم، حکام نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا یہ ہتھیار واشنگٹن کے فوجی مقاصد کو حاصل کر سکتا ہے۔
سی این این کے مطابق، ٹرمپ نے فوج کو ایرانی اہداف، بشمول توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور ملک کے جوہری پروگرام سے منسلک تنصیبات کے خلاف اضافی حملے کے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔اگر صدر بڑی جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ منصوبے آئندہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا بعد میں عمل میں لائے جا سکتے ہیں۔منصوبہ بندی سے واقف ایک ذریعہ نے سی این این کو بتایا کہ امریکی افواج کے امریکی سینٹرل کمانڈ کےجنگی علاقے سے نکلنے سے پہلے حملے ہو سکتے ہیں، ممکنہ طور پر انتظامیہ کو فتح کا اعلان کرنے اور اپنی افواج کو نکالنے سے پہلے مزید حملے کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو پر مقدمہ چلاکر اسے سزادینا چاہیے: نوبل امن انعام یافتہ نوی پلے
بعد ازاں دوسرے ذریعہ نے کہا کہ ایرانی جوہری مقامات کو نشانہ بنانے والے منصوبوں میں واضح طور پر MOAB کی ممکنہ تعیناتی شامل ہے، بشمول پک ایکس ماؤنٹین میں ایک مشتبہ زیر زمین تنصیب۔واضح رہے کہ ٹرمپ نے بار بار اصفہان صوبے میں پک ایکس ماؤنٹین کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، جہاں واشنگٹن اور اسرائیل کا خیال ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے اجزاء ذخیرہ کیے ہیں۔جبکہ صدر نے اپنا موقف برقرار رکھا ہے کہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا امریکی مہم کا مرکزی مقصد ہے۔ایک امریکی اہلکار نے سی این این کو بتایا کہ فوجی منصوبہ ساز معمول کے مطابق پالیسی سازوں کے لیے کم شدت کے آپریشن سے لے کر بھاری قلعہ بند اہداف کے خلاف زیادہ طاقتور حملوں تک متعدد متبادل تیار کرتے ہیں۔تاہم، گہرائی میں دفن جوہری تنصیبات کے خلاف MOAB کی تاثیر غیر یقینی ہے۔
ذہن نشین رہے کہ GPS گائیڈڈ بم تقریباً نو سٹی بلاکس کے برابر سطح کے رقبے کو تباہ کر سکتا ہے، لیکن یہ گہرائی میں زیر زمین گھسنے کے لیے تیار نہیں کیا گیا ہے۔سی این این کے حوالے سے ذرائع نے کہا کہ اسے گرینائٹ کی موٹی تہوں اور دیگر قلعہ بندیوں سے محفوظ تنصیبات کو تباہ کرنے میں ممکنہ طور پر جدوجہد کرنا پڑے گی۔سی این این کو منصوبہ بندی کی بات چیت سے واقف ایک ذریعہ نے بتایا، ’’MOAB ایک بہت بڑا معلوماتی آپریشن قسم کا ہتھیار ہے جو بہت بڑے علاقے کی کلیئرنس کے لیے بہترین ہے لیکن زیادہ کچھ نہیں،‘‘ ساتھ ہی اسے گہری تک حملہ کرنے کیلئے نامناسب قرار دیا۔
تاہم اگر تعینات کیا گیا تو بم اثر کے مقام پر وسیع تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے بڑے دھماکے کے دائرے سے شہری ہلاکتوں کے بارے میں بھی سنگین خدشات پیدا ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اگر آبادی والے علاقوں یا دیگر شہری تنصیبات کے قریب توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ مزید برآں MOAB اس سے قبل جنگ میں صرف ایک بار۲۰۱۷ء میں افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں ایک غار کمپلیکس میں داعش دہشت گرد گروہ کے ٹھکانے کے خلاف استعمال ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: وہائٹ ہاؤس کی تردید کے باوجود ٹرمپ ، نیتن یاہو کا ایران پر حملوں پر غور: رپورٹ
نفسیاتی دباؤ
اپنی حدود کے باوجود، امریکی حکام نے مبینہ طور پر انتظامیہ کے وسیع تر فوجی اختیارات کے حصے کے طور پر ہتھیار کے ممکنہ نفسیاتی اثرات پر غور کیا ہے۔ایک ذریعہ نے سی این این کو بتایا کہ ٹرمپ کو ایران کے خلاف مزید کارروائی کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس غیر یقینی صورتحال کے باوجود کہ آیا اضافی حملے تہران کو واشنگٹن کے مطالبات قبول کرنے پر مجبور کریں گے۔
ذرائع نے تجویز کیا کہ MOAB کوخاص طور پر گہرائی میں دفن اہداف کے خلاف دستیاب گولہ بارود کی حدود کو دیکھتے ہوئے نفسیاتی دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔