Inquilab Logo Happiest Places to Work

نجی ہائوسنگ سوسائٹیوں میں کارپوریٹر فنڈ کے استعمال کی درخواست

Updated: June 24, 2026, 2:07 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

بی ایم سی کمشنر کو خط، قانون میں ترمیم کی تجویز تاکہ شمسی توانائی اور بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی کے پروجیکٹ کو تقویت ملے۔

Housing Society.Photo:INN
ہاؤسنگ سوسائٹی۔ تصویر:آئی این این
خواتین و اطفال کی فلاح و بہبود کمیٹی کی چیئرپرسن مینل سنجے تُرڈے نے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کمشنر اشوینی بھڈے کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ پانی اور بجلی کی بڑھتی ضرورت کے پیش نظر متعلقہ ایکٹ اور قواعد میں ترمیم کی جائے تاکہ نجی ہائوسنگ سوسائٹیوں میں شمسی توانائی کے پینل نصب کرنے اور بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی کے انتظامات میں میونسپل کارپویٹروں کا فنڈ استعمال کیا جاسکے۔ مینل ترڈے نے اپنے خط میں کہا کہ ممبئی کے زیادہ تر شہری نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں رہتے ہیںجو پراپرٹی ٹیکس، واٹر ٹیکس اور دیگر ٹیکس ادا کرکے میونسپل کارپوریشن کی آمدنی میں اضافہ کا بہت بڑا ذریعہ بنتے ہیں لیکن موجودہ قوانین کی وجہ سے ان شہریوں کی بہت بڑی تعداد ترقیاتی کاموں کے فوائد سے محروم ہے کیونکہ کارپوریٹر فنڈ کو نجی سوسائٹیوں کے ترقیاتی کاموں کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
 
 
انہوں نے نشاندہی کی کہ مرکزی حکومت شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے۔ اسی طرز پر میونسپل کارپوریشن عوام سے اپنی سوسائٹیوں میں پانی کی ذخیرہ اندوزی جیسے ماحول دوست اقدامات کو اپنانے کا مشورہ دے رہی ہے۔ ممبئی میں واقع عمارتوں میں بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کا انتظام ہوجاتا ہے تو اس منصوبے سے سوسائٹی کی گاڑیاں اور عمارت کا احاطہ وغیر دھونے اور صفائی ستھرائی جیسے کاموں کیلئے پانی دستیاب ہوسکے گا اور بی ایم سی پینے کا جو پانی سپلائی کرتی ہے عوام کا اس پر انحصار کم ہوجائے گا جس سے پانی کی فراہمی کے نظام پر دبائو اور بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی اور زیادہ افراد تک پانی کی رسائی ہوسکے گی۔ اسی طرح شمسی توانائی کے پلانٹ سے لوگ روایتی بجلی کے استعمال کو کم کرسکیں گے جس سے بجلی کی لاگت میں کمی آنے کا امکان ہے۔ اس سے دیگر ضروری شعبوں کو بجلی بہتر طور پر دستیاب ہوسکے گی۔ انہوں نےیہ بھی کہا ہے کہ قانونی میں ترمیم کرکے ممبئی کی نجی ہائوسنگ سوسائٹیوں میں شمسی توانائی اور بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی کے پروجیکٹ کو تقویت مل سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK