سمیر وانکھیڈے کیخلاف بیان بازی سے نواب ملک کو روکنے کی درخواست مسترد

Updated: November 23, 2021, 10:14 AM IST | Nadeem asran | Mumbai

ہائی کورٹ نے کہاکہ ریاستی وزیر کے بیانات کو ’’پوری طرح غلط‘‘ نہیں کہا جاسکتا البتہ نواب ملک کو کچھ کہنے سے پہلے مناسب جانچ کرلینے کی صلاح دی

Nawab Malik.
نواب ملک

نارکوٹکس کنرول بیورو کے آفیسرسمیر وانکھیڈے اور اس کے والد کوپیرکو بامبے ہائی کورٹ میں شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیوں  کہ کورٹ  نے سمیر وانکھیڈے  اوران کے اہل خانہ کے خلاف نواب   ملک کی بیان بازی پر پابندی عائد کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ انہوں  نے جو کچھ بھی کہا  ہے  اسے ’’پوری طرح سے غلط‘‘ نہیں  قرار دیا جاسکتا۔اس کے ساتھ ہی کورٹ نے نواب ملک کو ہدایت دی کہ  وہ عوامی سطح پر کچھ بھی کہنے سے پہلے اس کی مناسب جانچ کرلیں۔  عدالت کے اس فیصلے پر خوشی کااظہار کرتے ہوئے نواب ملک نے  یہ سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’’ستیہ میو جیتے، غلط کاموں کے خلاف یہ لڑائی جاری رہےگی۔‘‘
  بامبے ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ’’ ابتدائی مراحل میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کابینی وزیر کے ذریعہ سمیر وانکھیڈے یا ان کے اہل خانہ کے تعلق سے  عائد کئے گئے الزامات  پوری طرح سے  غلط یا بے بنیاد ہیں ۔‘‘
 این سی بی افسر سمیروانکھیڈے  کے والد دھیان دیو وانکھیڈے  کے  سوا کروڑ کے ہتک عزت  پر ۲؍رکنی بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے جسٹس مادھو جمعدار نے کہا کہ ’’ جس طر ح ہر شخص کو اپنی ذاتی زندگی کے تعلق سے مداخلت کرنے پر اعتراض  کا حق حاصل ہے اسی طرح شواہد کی بنیاد پر ہر شخص کو بولنے کا  بھی حق ہے اور مذکور ہ بالا معاملہ میں دونوںفریق نے اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کیا ہے لیکن  داخل کردہ عرضداشت اور اس کے جواب میں داخل کردہ شواہد کا مشاہدہ کرنے کے بعد ابتدائی مراحل میں یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ کابینی وزیر نے آفیسر وانکھیڈے  یا ان کے اہل خانہ کے خلاف شوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے ذریعہ جو شواہد پیش کئے ہیں وہ سراسر غلط ہیں ۔‘‘کورٹ نے وزیر کے ذریعہ شوشل میڈیا پر درخواست گزار ، ان کے بیٹے اور ان کے اہل خانہ سے متعلق عیاں کی جانے والی تفصیلات پر حکم امتناعی سے انکار کیا ہے ۔ 

کورٹ کا کہنا تھا کہ ’’یہ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے کہ وزیر نے وانکھیڈے  کے خلاف پیش کئے گئے شواہد یا شوشل میڈیا پر  اپلوڈ کرکے بد نیتی کا ثبوت دیا ہے۔‘‘ تاہم کورٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ نواب ملک نے تمام دستاویزی ثبوت کی تصدیق کے بعد ہی اسے عوام کے سامنے پیش کیا ہے ۔کورٹ نے اپنے مشاہدہ میں یہ بھی کہا کہ ا س بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ آرین خان منشیات معاملہ کے گواہ پربھاکر سیل نے سمیر وانکھیڈے پر ہفتہ وصولی کا ا لزام لگایا ہے ۔ کورٹ کے بقول عوامی سطح پر عوامی مقبولیت کے حامل شخص پر عوامی رائے قائم کرنے کا اختیار ہر ایک کو حاصل ہے ۔
 کورٹ کے مشاہدہ کے مطابق وزیر کے پیش کردہ ثبوت اور عوامی پلیٹ فارم کے ذریعہ لگائے گئے الزامات کو بغض اور عداوت کا نام بھی دیا جاسکتا ہے کیونکہ مذکو رہ بالا افسر نے وزیر کے  داماد کو گرفتار کیا تھا۔ ہوسکتا ہے یہ عمل کا رد عمل کو لیکن آفیسر یا اس کے اہل خانہ کے تعلق سے شوشل میڈیا یا ذرائع ابلاغ میں پیش کئے جانے والے شواہد سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ واضح رہے کہ این سی بی کے افسر سمیر وانکھیڈے اور ان کے اہل خانہ کی ذات اور دیگر معاملات سے متعلق وزیر نواب ملک کے ذریعہ یکے بعد دیگرے کئے جانے والے حملے پر آفیسرکے والد دھیاندیو وانکھیڈے نے وزیر کے خلاف سوا کروڑ ہتک عزت کا دعویٰ کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی اور نواب ملک کے ذریعہ شوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ میں ان سے ، ان کے بیٹے اور ان کے اہل خانہ سے متعلق پیش کی جانے والی تفصیلات پر روک لگانے کی اپیل کی تھی ۔ وہیںمذکورہ بالا معاملہ میں کورٹ نے روک لگانے سے انکار کر دیا ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK