بی ایم سی کے تساہل کےسبب مالونی کے مکین پانی کی قلت سے دوچار

Updated: January 13, 2023, 4:40 PM IST | Saeed Ahmad Khan | Malwani

ہفتہ بھر پہلے انتظامیہ نے یہاں غیر قانونی کنکشن کاٹنے کےنام پر پرانی لائنیں منقطع کرکے نئی لائنیں لگائی تھیںلیکن اس کے بعد سے نلوں میں پانی آنا بند ہوگیا، انجینئر خود سمجھنے سے قاصر ہے کہ نقص کہاں ہے؟

People trying to outdo each other in the crowd on the tanker sent by the MLA (Photos: Inquilab)
ایم ایل اے کی جانب سے بھیجے گئے ٹینکر پر لگی بھیڑ میں لوگ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں(تصاویر: انقلاب)

مالونی ملاڈ میںبی ایم سی کے تساہل کےنتیجے میں۱۰؍دن کےبعد بھی ہزاروںمکین پانی کی شدید قلت سے دوچار ہیں۔ گیٹ نمبر ۷؍میں اعظمی نگر،اجمل کمپاؤنڈ، این ٹی سی سی ، نرنکار نگر، مچھلی مارکیٹ، سینٹ پال اسکول اورہیم گری بلڈنگ کے قریب بیشترچال اورسوسائٹیوں میں مجبوراً بورنگ کاپانی استعمال کیا جارہا ہے ۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے یہاں روڈ پرسیلابی کیفیت تھی اب لوگ پانی کیلئے ترس رہے ہیں۔ مسئلہ جاننے کے لئے بی ایم سی نےمین لائن میںکیمرے کا بھی استعمال کیالیکن لاحاصل رہا۔بی ایم سی انجینئرنے مسئلے کی سنگینی کا اعتراف کیا اورکہا کہ جمعرات کی رات میں جب پانی سپلائی کیا جائے گا تووہ موقع پرموجود رہیںگے اوروجہ جاننے کی کوشش کریںگے ۔
 واضح رہےکہ بی ایم سی کی جانب سے تقریباً ۶۰۰؍لائنیںایک ہفتہ قبل کاٹ دی گئی تھیں اورجن کے قانونی کنکشن تھے ان کونئی پائپ لائن سے دوسرا کنکشن دیا جارہا ہے ۔ اسی وقت سے پانی کی قلت کامسئلہ پیداہوا ہے جسے شہری انتظامیہ اب تک حل نہیں کرسکا ہے۔بی ایم سی کی غفلت کا خمیازہ عام لوگ بھگت رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل جب یہ کنکشن کاٹے گئے تھے اس وقت یہاں سڑکوں پر پانی ہی پانی نظر آ رہا تھا۔ تقریباً ۲؍ دنوں تک یہی صورتحال تھی اب یہ عالم ہے کہ نلوں میں پانی نہیں آ رہا ہے ۔  
لوگوں کی پریشانی اورناراضگی ان کی زبانی 
 اجمل کمپاؤنڈمیں مقیم طفیل خان نےنمائندۂ انقلاب کوبتایاکہ’’ بار بار توجہ دلانے اور مسئلہ سے آگاہ کروانے کےباوجود ۱۰؍ دن بعد بھی پانی کی سپلائی شروع نہیںہوئی ہے ۔ مردو خواتین اس قدر پریشان ہیںکہ اسے بیان نہیںکیا جاسکتا۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ’’مجبوراً بورنگ کے پانی سے ضرورت پوری کی جارہی ہے ۔ اس کیلئے بھی خواتین اوربچے لمبی قطارو ںمیںڈبہ لے کرکھڑے رہتے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایاکہ’’مقامی ایم ایل اے اسلم شیخ کےذریعے جمعرات کی سہ پہر ۲؍ٹینکرپانی بھجوایا گیا تواسے لینے کیلئے مرد وخواتین ٹوٹ پڑے ۔‘‘
 عبدالرحمٰن خان نے بتایا کہ وہ ہیم گری بلڈنگ کے قریب کے حصے میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا’’ یہاں بھی یہی صورتحال ہے اور جب سے گیٹ نمبر۷؍میںروڈ پرپانی بہا تھا اس دن سے آج تک پورے علاقے میںپانی کی قلت ہے ۔بی ایم سی بار بار کہہ رہی ہے کہ وہ  کوشش  کر رہی ہے  لیکن اب تک وہ کوشش عملی شکل اختیارنہیںکرسکی ہے جس کے نتیجے میںلوگ پریشانی کاشکارہیں۔‘‘اعظمی نگرمیںمقیم عبداللہ انصاری نے بتایاکہ ’’بی ایم سی کی غفلت اورتساہل کے سبب ہزاروں مکینوں کوپانی کی شدید قلت کاسامناکرنا پڑرہا ہے۔  اس وقت سردی کا موسم ہے اس کےباوجود لوگوں کوبقدر ضرورت پانی نہیں مل رہا ہے ۔‘‘ عبداللہ انصاری کے مطابق’’۱۰؍ دن ہوگئے ہیںلیکن اب بھی یہ یقین کےساتھ نہیںکہا جاسکتا کہ مزیدکتنے دنوں تک گیٹ نمبر ۷؍میںرہنے والوں کوپانی کیلئے یشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘ 
دوٹینکرپانی بھجوایاگیا تو مکین دوڑ پڑے 
  لوگوںکی شدید ناراضگی اورشکایت کے بعد جمعرات کو مقامی ایم ایل اے اسلم شیخ نے دوٹینکر پانی بھجوایا جسے حاصل کرنے کیلئے علاقے کے لوگ ٹوٹ پڑے۔پانی حاصل کرنے کیلئے یہ منظرتھا کہ لوگ ڈرم ،بالٹی اورگیلن وغیرہ بھرنے کیلئے ایک دوسر ےپرسبقت لے جانے کی کوشش کررہے تھے ۔ اس دوران بڑی تعداد میںلوگوں نے اپنےڈرم  روڈ ہی پررکھ دیئےتھےتاکہ پہلے اس میںپانی جمع کرلیں اور پھر آہستہ  آہستہ ڈھوکر اپنے اپنے گھرلے جائیں۔ البتہ اس کی وجہ سے پانی کے تعلق سے کسی حد تک
 پانی سپلائی کے وقت نگرانی کی یقین دہانی
 بی ایم سی انجینئرواٹر ڈپارٹمنٹ (پی نارتھ وارڈ) نروجیسورنے  پانی کی قلت کے مسئلے کا اعتراف کیا اورکہا کہ ’’یہ صحیح ہے کہ کئی دن سے یہ مسئلہ چل رہا ہے اورلوگ پانی کی قلت سے پریشان ہیں۔بی ایم سی کی جانب سے کوشش کی جارہی ہے کہ جلدازجلد مسئلہ حل ہوجائے گا اورپانی کی سپلائی پہلے کی طرح بحال ہوجائے ۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ’’ اسی لئے کیمرے کی مدد سے پائپ لائن چیک کی گئی اورجمعرات کی شب میںہم لوگ خود پانی سپلائی کے وقت موقع پر موجود رہیںگے تاکہ یہ جان سکیںکہ آخرپانی کیوں نہیں آرہا ہے؟ کیا جوڑی گئی نئی لائن میںکوئی کمی ہےیاپھر کوئی اورمسئلہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK