ان پارٹیوں کو کانگریس اور بی جے پی سے بھی زیادہ چند ہ ملا ہے، کانگریس نے الیکشن کمیشن سےجانچ کا مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: September 06, 2026, 9:51 AM IST | New Delhi
ان پارٹیوں کو کانگریس اور بی جے پی سے بھی زیادہ چند ہ ملا ہے، کانگریس نے الیکشن کمیشن سےجانچ کا مطالبہ کیا۔
کئی ایسی سیاسی پارٹیاں ہیں جو صرف کاغذوں پر موجود ہیں، یا تو انتخابات میں حصہ نہیں لیتیں یا چند نشستوں پر اپنی قسمت آزماتی ہیں۔ ہندوستان میں فی الحال ۲۸۰۰؍ سے زیادہ سیاسی پارٹیاں ہیں، لیکن ان میں سے صرف ۷۳؍کو ہی الیکشن کمیشن آف انڈیا نے قومی یا ریاستی سطح کی پارٹی کے طور پر منظوری دی ہے۔ باقی تمام پارٹیاں آر یو پی پی (رجسٹرڈ غیر تسلیم شدہ سیاسی پارٹیاں ) ہیں۔ ان پارٹیوں کے تعلق سے ’بی بی سی‘ نے ایک سنسنی خیز انکشاف کیا ہے جس کی وجہ سے ملک کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ۶؍ ایسی سیاسی پارٹیاں ہیں جنہیں ۲۰۲۴ءکے عام انتخاب سے قبل سب سے زیادہ چندہ ملا تھا۔ ان میں عام جن مت پارٹی ( ۶۲۰؍کروڑ)، ستیہ وادی رکشک پارٹی(۳۳۰؍ کروڑ)، سوتنترتا ابھی ویکتی پارٹی(۲۱۹؍کروڑ)، نیو انڈیا یونائیٹڈ پارٹی (۲۰۰؍ کروڑ روپے)، بھارتیہ نیشنل جنتا دل (۱۹۱؍ کروڑ ) اور غریب کلیان پارٹی(۱۳۸؍ کروڑ ) شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مدھیہ پردیش: آلودہ ندی کو صاف کرنے والے نوجوان کو ڈچ فاؤنڈر کی ملازمت کی پیشکش
۲۰۲۳ء میں ان پارٹیوں کی مجموعی آمدنی، حکمراں بی جے پی کو چھوڑ کر باقی ۵؍ قومی پارٹیوں جس میں کانگریس، عام آدمی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی وغیرہ شامل ہیں، کی آمدنی سے زیادہ ہے۔ اس کے باوجود الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے زیادہ دولت مند ۶؍ غیر تسلیم شدہ رجسٹرڈ سیاسی پارٹیوں نے۲۰۲۴ء کے لوک سبھا انتخاب میں صرف ۱۵؍ امیدوار میدان میں اتارے تھےجبکہ بی جے پی کے علاوہ باقی ۵؍پارٹیوں نے ۸۹۳؍امیدوار اتارے تھے۔ عام جن مت پارٹی‘ جسے سب سے زیادہ چندہ ملا تھا، نے انتخابات میں صرف ایک امیدوار میدان میں اتارا تھا۔ الیکشن کمیشن کو دی گئی معلومات کے مطابق ۲۰۲۰ءمیں پٹنہ میں پارٹی کے قیام کے بعد ۲؍ سال تک اسے۲۰؍ ہزار روپے سے زیادہ کا کوئی چندہ نہیں ملا۔ یاد رہے کہ سیاسی پارٹیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ۲۰؍ ہزار روپے سے زیادہ کے تمام چندوں کی سالانہ رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں۔ ۲۰۲۳ءمیں عام جن مت پارٹی کو ۲۱۶؍کروڑ روپے ملے اور پھر۲۰۲۴ء میں چندہ بڑھ کر ۶۲۰؍کروڑ روپے ہوگیا۔ پٹنہ میں پارٹی کی بانی صدر انامیکا پاسوان فی الحال بی جے پی کی ریاستی نائب صدر ہیں۔ انامیکا نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ۲۰۲۲ءمیں عام جن مت پارٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کے شوہر نے ان کا استعفیٰ خط اور ایک دستاویز دکھایا جس میں کہا گیا تھا کہ پارٹی اپنا مرکز پٹنہ سے احمد آباد منتقل کرچکی ہے اور فی الحال گورو مشرا اس کے صدر ہیں۔ حالانکہ احمدآباد میں پارٹی کا رجسٹرڈ آفس بند ہے۔ فون پر بات چیت کے دوران پارٹی کے خزانچی دھرمیندر ویشنو نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پارٹی کا کام کاج بند کر دیا تھا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق گجرات کی ’ستیہ وادی رکشک پارٹی‘ جس کے دفتر کے باہر تالا لگا ہوا تھا اور وہاں کوئی بورڈ یا پوسٹر بھی نہیں تھا جس سے یہ پتہ چل سکے کہ یہ واقعی پارٹی کا رجسٹرڈ دفتر ہے۔ ایسی جگہ دیکھ کر یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اس پارٹی کو ۳۳۰؍کروڑ روپے کا چندہ ملا تھا۔ پارٹی نے ۲۰۲۴ء کے لوک سبھا انتخاب میں صرف ایک امیدوار میدان میں اتارا تھا۔ پارٹی کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق اس نے انتخابی مہم پر ۸؍کروڑ روپے خرچ کئےجبکہ ’عوامی فلاح‘ کے نام پر ۳۱۶؍ کروڑ روپے خرچ کیے۔ ’ستیہ وادی رکشک پارٹی‘کی صدر سواتی بین سے پارٹی کو ملنے والے چندے اور اس کے اخراجات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے پیسے فلاحی کاموں پر خرچ کیے ہیں، لیکن اس کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا ہے۔ ‘‘کچھ ایسا ہی معاملہ ’غریب کلیان پارٹی‘ کا بھی رہا، جسے چندے کے طور پر ۱۳۸؍ کروڑ روپے ملے تھے اور جس نے ۳؍ امیدوار میدان میں اتارے۔ اس پارٹی کا دفتر احمد آباد کے نرودا علاقے میں ’عام جن مت پارٹی‘ کے دفتر کے قریب ہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ۶؍ پارٹیوں میں سے ۴؍ کے رجسٹرڈ آفس ایک ہی علاقے میں ہیں۔ باقی ۲؍ بھی گجرات میں ہی ہیں۔ اس رپورٹ کا کانگریس نے نوٹس لیا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے میڈیا سے گفتگو میں واضح طور پر کہا کہ الیکشن کمیشن کو اس معاملے میں جواب دینا چاہئے اور جانچ بھی کروانی چاہئےکہ کہیں یہ ’’آف شور ‘‘ کمپنیاں تو نہیں ہیں۔