• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی: سہارنپور میں مسجد مسمار، اقرا حسن گھر میں نظر بند، کارروائی پر سوالات

Updated: September 05, 2026, 10:08 PM IST | Lucknow

اتر پردیش کے سہارنپور میں ضلعی مجسٹریٹ کے دفتر کے احاطے میں واقع مسجد کو عدالت کے حکم کے بعد منہدم کر دیا گیا جس پر سیاسی و سماجی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے کارروائی کو جمہوری حقوق کی پامالی قرار دیا، جبکہ اسد الدین اویسی نے اعلیٰ عدالتوں میں سماعت کا انتظار نہ کئے جانے پر سوال اٹھائے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

اتر پردیش کے حکام نے ہفتے کے روز سہارنپور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ڈی ایم) دفتر کے احاطے میں واقع ایک مسجد کو مسمار کر دیا۔ دی ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، یہ مسماری نچلی عدالت کے سابقہ حکم کو ڈسٹرکٹ کورٹ کی جانب سے برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد کی گئی۔ اس حکم میں اس عمارت کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ دوسری طرف خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق، سماجوادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے الزام لگایا کہ انہیں سہارنپور جانے سے روکنے کیلئے پولیس نے کیرانہ میں واقع ان کی رہائش گاہ پرانہیں نظر بند (ہاؤس اریسٹ) کر دیا۔

یہ بھی پڑھئے: سنبھل کی بابا بہاءالدین شاہ مسجد کے ڈھانچے میں مبینہ تبدیلی کی شکایت، جانچ شروع

دی ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، یہ مسماری بجرنگ دل کے ایک سابق عہدیدار کی شکایت کے بعد کی گئی، جس نے الزام لگایا تھا کہ یہ مسجد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آفس کے احاطے میں غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھی، جو کہ ایک حساس سرکاری جگہ ہے جہاں انتظامی کام کئے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد ان ہندو توا تنظیموں کا حصہ ہیں جن کی قیادت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کرتی ہے، جو حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مادری تنظیم ہے۔ اس سے قبل ۱۷؍ جولائی کو سٹی مجسٹریٹ کی عدالت نے سرکاری زمین پر مبینہ قبضے اور غیر مجاز استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے مسجد کو مسمار کرنے کا حکم دیا تھا اور اس سے جڑے لوگوں کو بطورِ تاوان یا معاوضہ تقریباً ۶ء۴۱ ؍کروڑ روپے ادا کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس حکم کو ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا، جس نے جمعہ کے روز نچلی عدالت کے فیصلے کوہی برقرار رکھا۔ 
 سنیچرکو کیرانہ کی رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے کہا کہ سول کورٹ کے حکم کے بعد مسجد کو سیل کر دیا گیا تھا اور علاقے کے گرد بیریکیڈز لگا دیئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اس معاملے میں کچھ وقت مانگنے کیلئے انتظامیہ سے بات کرنا چاہتے تھے اور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ راتوں رات ان کی رہائش گاہ پر بھاری پولیس فورس تعینات کر دی گئی اور انہیں گھر سے باہر نکلنے نہیں دیا گیا۔ اقرا حسن نے کہا کہ ان کا ارادہ تھاکہ کلکٹریٹ مسجد کے معاملے پر انتظامیہ سے ملنے کیلئے سہارنپور جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ’’جمہوریت میں عوامی نمائندوں کو عوام کی آواز اٹھانے کیلئے منتخب کیا جاتا ہے۔ مجھے روک کر اس آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ ‘‘ اس مسماری کو ’شرمناک‘قرار دیتے ہوئے اقرا حسن نے کہا کہ جس انداز میں یہ کارروائی کی گئی ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح جمہوریت کا قتل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کشتی کی خاتون کھلاڑی نے بچوں کے ساتھ قلعے سے کود کر خودکشی کر لی

حیدرآباد کے ایم پی اسد الدین اویسی نے بھی مسجد ی مسماری کو لے کرہوئی جلدبازی پر تشویش کا اظہار کیا۔ پی ٹی آئی کے مطابق اویسی نے کہا کہ اس معاملے کی اونچی عدالتوں میں سماعت کا انتظار کیوں نہیں کیا گیا جہاں دلا ئل پیش کئےجا سکتے تھے؟ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتر پردیش کی بی جے پی حکومت نہیں چاہتی تھی کہ یہ معاملہ اعلیٰ عدالتوں تک پہنچے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ غلطی پر ہیں۔ اویسی نے مزید کہا کہ بی جے پی حکومت اور اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ غیر آئینی انداز میں کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ریاست میں نہ صرف ایک بلکہ کئی مساجد کو مسمار کیا گیا اور قبرستانوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئےکہا کہ بابا صاحب امبیڈکر کے تیار کردہ آئین ہند میں مذہب کی آزادی کی جو آئینی ضمانت دی گئی ہے، کیا وہ مسلمانوں پر لاگو نہیں ہوتی؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK