• Sun, 06 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدھیہ پردیش: آلودہ ندی کو صاف کرنے والے نوجوان کو ڈچ فاؤنڈر کی ملازمت کی پیشکش

Updated: September 06, 2026, 9:21 AM IST | Bhopal

مدھیہ پردیش میں آلودہ ندی کو تنہا صاف کرنے والے نوجوان سریندر سنگھ چودھری، عرف بٹو تباہی کو ڈچ فاؤنڈر کی جانب سے ملازمت کی پیشکش کی گئی ہے۔

Surinder Singh Choudhary, alias bittu tabahi Photo: X
سریندر سنگھ چودھری، عرف بٹو تباہی۔ تصویر: ایکس

مدھیہ پردیش کا ایک۲۰؍ سالہ نوجوان دنیا کے معروف ماحولیات دانوں میں سے ایک کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جب سوشل میڈیا پر اس کی آلودہ ندی کی صفائی کی کوششوں کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔سریندر سنگھ چودھری، جو بٹو تباہی کے نام سے جانے جاتے ہیں، کئی مہینوں سے زیادہ تر خود ہی کچرے سے بھرے اجنار دریا کو صاف کر رہے ہیں۔ ان کا یہ کام حال ہی میں بوئن سلات تک پہنچا، جو دی ڈچ اوشن کلین اپ کےموجد اور بانی ہیں، اور انہوں نے انہیں ملازمت کی پیشکشکی ہے۔ سلات نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر سنگھ کے کام کی نمائش کرنے والی ایک پوسٹ کا جواب دیا۔ اس پوسٹ میں بتایا گیا کہ کس طرح۲۰؍ سالہ نوجوان انتہائی آلودہ دریا کو صاف کر رہا تھا، اور اس میں دریا کی صفائی سے پہلے اور بعد کی تصاویر بھی شامل تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: کشتی کی خاتون کھلاڑی نے بچوں کے ساتھ قلعے سے کود کر خودکشی کر لی

سلات، جس نے نیدرلینڈز میں قائم اس تنظیم کی بنیاد رکھی جو پلاسٹک آلودگی سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر حل تیار کرتی ہے، نے مختصر جواب دیا: ’’آؤ اورہمارے ساتھ کام کرو۔‘‘یہ مختصر جواب جلد ہی وائرل ہوگیا، اور سوشل میڈیا صارفین نے اسے سنگھ کے لیے نوکری کی پیشکش قرار دے دیا۔ ایک ایکس اکاؤنٹ،’’IndianGems‘‘، نے دعویٰ کیا کہ سلات نے دریا کی صفائی کی کوششیں دیکھ کر بٹو کو نوکری اور نیدرلینڈز منتقل ہونے کی پیشکش کی ہے۔اس پیش رفت نے آن لائن مختلف ردعمل کو جنم دیا، کچھ صارفین نے سنگھ کو اس موقع کو قبول کرنے اور بیرون ملک جانے پر زور دیا۔ایک صارف نے لکھا: ’’اسے یہ پیشکش قبول کرنی چاہیے اور ہندوستان چھوڑ دینا چاہیے۔ یہاں کسی کو اس کی محنت کی پرواہ نہیں۔ زندگی بہت کم مواقع دیتی ہے اس جہنم سے نکلنے کے لیے۔‘‘ جبکہ دوسرے نے تبصرہ کیا: ’’مغربی ممالک اس لیے آگے بڑھے کہ انہوں نے محنت کا احترام سیکھا۔ جبکہ ہندوستان اب بھی سیاست دانوں کو باپ کی طرح پوجنے میں مصروف ہے۔‘‘تیسرے صارف نے لکھا، ’’اسے موقع ملا ہے، اسے جلد از جلد جانا چاہیے تاکہ اس جہنم جیسے ملک سے نکل سکے جو جھوٹی تاریخ پر مبنی فخر میں مبتلا ہے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: نیشوآزاد، شاہین، نفیسہ خان اور آکرتی چودھری کیلئے کانگریس میدان میں اُتری

بٹو تباہی کون ہیں؟
سریندر سنگھ چودھری، جو بٹو تباہی کے نام سے مشہور ہیں، مدھیہ پردیش کے ضلع راجگڑھ کے قصبہ بیاؤرا سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے اجنار ندی کی صفائی کی کوششوں کو دستاویز کرنے کے لیے آن لائن پیروکار حاصل کیے ہیں۔ان کے انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں وہ دریا کے مختلف حصوں سے پلاسٹک کا فضلہ، طحالب اور دیگر جمع شدہ ملبہ ہٹاتے نظر آتے ہیں۔ اطلاع ہے کہ انہوں نے اس سال جنوری میں صفائی کا آغاز کیا اور تب سے آلودہ آبی گزرگاہ کے کئی حصوں کو تبدیل کر دیا ہے۔ڈیجیٹل مواد ساز ’’کے آر ٹاکس‘‘ کے مطابق، سنگھ نے اب تک صفائی پر تقریباً ۳۰ ؍ہزار روپے خرچ کیے ہیں۔ان کے کام کو صنعتکار آنند مہندرا نے بھی سراہا تھا، جنہوں نے مارچ میں ایک پوسٹ شیئر کر کے اس نوجوان کی تعریف کی تھی، جب کہ کچھ لوگوں نے بٹو پر صرف سوشل میڈیا ویوز حاصل کرنے کے لیے دریا صاف کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔مہندرا نے لکھا، ’’ ٹھیک ہے، ہم عام طور پر شکایت کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا معمولی چیزوں کو اہمیت دیتا ہے نہ کہ بامعنی کاموں کو۔ لہٰذا اگر ’لائیکس‘ کی خواہش نیکی کا ذریعہ بن سکتی ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ بیاؤرا کا بٹو تباہی میری #MondayMotivation ہے۔‘‘
واضح رہے کہ بوئن سلات ایک ڈچ موجد اور کاروباری شخصیت ہیں جو دی اوشن کلین اپ کے بانی ہونے کے لیے مشہور ہیں، یہ تنظیم سمندروں اور دریاؤں سے پلاسٹک نکالنےتکنیک تیار کرنے پر مرکوز ہے۔تنظیم کی ویب سائٹ کے مطابق، بوئن سلات (۲۷؍ جولائی ۱۹۹۴ء) ایک ڈچ موجد اور کاروباری ہیں، جو زمینکے مسائل حل کرنے کے لیے میگا پروجیکٹس بنانے کے شوقین ہیں۔‘‘دی اوشن کلین اپ کا کہنا ہے کہ اس کا طویل مدتی ہدف ۲۰۴۰ء تک سمندر میں تیرتے ہوئے پلاسٹک کا ۹۰؍ فیصد نکالنا ہے، اور تنظیم کا بالآخر مقصد یہ ہے کہ جب یہ ہدف حاصل ہو جائے تو خود کومہم  سے باہر کر دے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK