• Sat, 05 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی اپنے بچوں کو اسرائیل کے کرائے کے فوجی نہ بننے دیں: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان

Updated: September 05, 2026, 10:09 PM IST | Tehran

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی اپنے بچوں کو اسرائیل کے کرائے کے فوجی نہ بننے دیں، بقائی نے یہ بات یروشلم پوسٹ کے ایک رائے نگار کے کالم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس مضمون میں امریکہ سے کہا گیا تھاکہ وہ طلبہ کے قرضوں اور صارفین کے مالی بوجھ میں راحت دے کر دس لاکھ سے زائد نوجوان امریکیوں کو ایران پر زمینی حملے کے لیے بھرتی کرے۔

Iranian Foreign Ministry spokesman Ismail Baqaei. Photo: X
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی۔ تصویر: ایکس

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے عام امریکی شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو ’’کرائے کے فوجیوں‘‘ میں تبدیل نہ ہونے دیں جو اسرائیل کے لیے مریں گے۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ میں ایک کالم میں امریکہ پر زور دیا گیا کہ وہ طلبہ کے قرضوں اور مالی قرضوں کو بطور ذریعہ استعمال کرتے ہوئے نوجوان امریکیوں کو ایران پر حملے کے لیے راغب کرے۔اسماعیل بقائی نے جمعہ کو ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’امریکیو! اپنے آپ سے ایک سوال پوچھو: تمہارے بیٹوں اور بیٹیوں کو قرضوں سے نجات کیوں دی جائے اس جنگ میں لڑنے اور مرنے کے بدلے جسے اسرائیل جاری اور وسیع دیکھنا چاہتا ہے؟‘‘انہوں نے اے جے جاف کے تحریر کردہ کالم کا حوالہ دیا جس میں تجویز دی گئی تھی کہ طلبہ کے قرضوں اور کریڈٹ کارڈ کے قرضوں کو معاف کرکے لاکھوں امریکیوں کو ایران کے خلاف ممکنہ زمینی حملے کے لیے بھرتی کیا جائے۔بقائی نے ایکس پر مزید لکھا: ’’یروشلم پوسٹ کا ایک رائے نگار کھلے عام بالکل یہی خیال پیش کر رہا ہے: طلبہ کے قرضوں اور کریڈٹ کارڈ کے قرضوں کو امریکیوں کی ایران کے ساتھ جنگ کے لیے بھرتی کے لیے استعمال کیا جائے۔ تمہاری جانیں، تمہارے ٹیکس، کسی اور کی جنگ۔ کسی کو مت آنے دو کہ وہ تمہیں توپ کا چارہ بنائےاور اس جنگ کی لاگت تم سے وصول کرے جس کا تم نے کبھی انتخاب نہیں کیا۔کسی کو اپنے بچوں کو ان کی غیرقانونی اسرائیلیمرضی کی جنگ کے لیے کرائے کے فوجی نہ بننے دیں۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: یمن کے شہر تعز میں لڑائی تیز،۲؍ دن میں۹۰۰؍ سے زائد خاندان بے گھر

واضح رہے کہ ایرانی حکومت کا یہ ردعمل اس کالم کے بعد آیا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی فوج کی موجودہ افرادی قوت ایران کے خلاف آپریشن کے لیے ناکافی ہے۔ کالم میں جی آئی بل جیسے تاریخی ترغیبی پروگراموں کی طرز پر قرضوں سے نجات کے ذریعے بھرتی کا پروگرام تجویز کیا گیا تاکہ رضاکارانہ بھرتی کو فروغ دیا جا سکے۔جاف نے اپنے دلائل میں کہا کہ مہینوں تک امریکی حملوں کے باوجود ایران کی فوجی صلاحیت ختم نہیں ہوئی اور نہ جنگ ختم ہوئی، اور زمینی حملے کے لیے موجودہ امریکی فوج سے کہیں زیادہ جوانوں کی ضرورت ہوگی۔مصنف نے زور دیا کہ بھرتی کی تعداد اس سطح سے کم ہے جو ایران پر زمینی حملے کے لیے درکار ہے۔ جبکہ ایران کے۳۱؍ صوبائی کمانڈز اور اس کے موزیک ڈیفنس ڈاکٹرائن کے خلاف کامیاب زمینی مہم کے لیے ساڑھے سات لاکھ سے۱۵؍ لاکھ امریکی فوجیوں کا تخمینہ ہے۔ جبکہ موجودہ فعال امریکی فوج تقریباً چار لاکھ باون ہزار ہے۔اس نے لکھا۱۸؍ سے ۳۴؍ سال کے اوسط امریکی پر تعلیم کے قرضوں، کریڈٹ کارڈ کے بیلنس، آٹو قرضوں اور ذاتی قرضوں سمیت غیر رہائشی قرضوں میں۴۰؍ ہزار ڈالر سے زیادہ کا بوجھ ہے، جبکہ بعض تخمینے ایک لاکھ ڈالر تک بھی جاتے ہیں۔ اور یہی وہ گروہ ہے جو پینٹاگون کو درکار ہے۔تقریباً۷۷؍ فیصد امریکی کسی نہ کسی شکل میںمقروض ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ تقریباً ۲۵۰؍ سے ۲۶۰؍ ملین افراد مختلف مالی ذمہ داریوں کا سامنا کر رہے ہیں، جو امریکی گھریلو قرضوں کو ریکارڈ۱۸؍ اعشاریہ ۸؍ ٹریلین ڈالر تک پہنچاتا ہے۔ امریکی بالغ افراد پر اوسط قرضہ۶۳؍ ہزار ۵۰۰؍ ڈالر ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کی شادی کی تقریب پر حملے کو امریکی نائب صدر نے ’حادثہ‘ قرار دیا

بعد ازاں بقائی نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک طنزیہ میم بھی شیئر کی جس میں ٹیلی ویژن سیریز ’’اسکویڈ گیم‘‘ کا حوالہ تھا، اور انہوں نے مجوزہ فوجی متحرک کاری کو اسرائیل کی طرف سے چلائی جانے والی جنگ قرار دیا جسے عام امریکیوں کو اپنی جانوں اور ٹیکسوں سے رقم فراہم نہیں کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ امریکہ نے ۲۸؍ فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا، جس میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور بیشتر اعلیٰ کمانڈروں کے علاوہ سیکڑوں شہری بھی شہید ہوگئے۔لیکن ایران نے فوری جواب میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول قائم کر لیا، جس سے عالمی تیل کا پانچواں حصہ گزرتا تھا، اور اس نے امریکہ کے اتحادی خلیجی عربممالک پر میزائل اور ڈرون برسائے، جس سے تیل سے مالا مال ان ممالک کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ بعد ازاں واشنگٹن اور تہران نے۱۸؍ جون کو پاکستان کی ثالثی میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری گزرگاہ کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے، تاہم اس پر عمل درآمد آبنائے میں حفاظتی انتظامات پر اختلافات کی وجہ سے رکا ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK