• Sun, 04 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہایوتی میں دراڑ، الہاس نگر میں بی جے پی کا شندے سینا سے ناطہ توڑنے کا اعلان

Updated: October 04, 2026, 1:19 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Ulhasnagar

نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے گڑھ الہاس نگر میونسپل کارپوریشن میں بی جے پی اور شیو سینا کے درمیان دیرینہ اندرونی اختلافات بالآخر ایک بڑے سیاسی دھماکے کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔

Senior leaders, including BJP MLA Kumar Ailani, raised their hands to announce their separation from the Shiv Sena. Photo: INN
بی جے پی کے رکن اسمبلی کمار ایلانی سمیت اعلیٰ لیڈران نے ہاتھ اٹھا کر شیوسینا سے علاحدگی کا اعلان کیا۔ تصویر: آئی این این

نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے گڑھ الہاس نگر میونسپل کارپوریشن میں بی جے پی اور شیو سینا کے درمیان دیرینہ اندرونی اختلافات بالآخر ایک بڑے سیاسی دھماکے کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔ میونسپل کارپوریشن میں نامزد کارپوریٹرس کے انتخاب کے دوران شیو سینا کی مبینہ پس پردہ کارروائی اور عہد شکنی سے ناراض ہوکر بی جے پی نے نہ صرف میونسپل کارپوریشن کے اقتدار سے باضابطہ طور پر علاحدگی اختیار کر لی ہے بلکہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں نائب وزیر اعلیٰ کے بیٹے اور رکن پارلیمنٹ شری کانت شندے کی انتخابی مہم کے مکمل بائیکاٹ کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ بی جے پی کے اس جارحانہ موقف نے ریاستی سطح پر برسراقتدار مہایوتی میں کھلبلی مچا دی ہے۔ 
موصولہ تفصیلات کے مطابق الہاس نگر میونسپل کارپوریشن میں نامزد اراکین کے حالیہ انتخاب کے دوران بی جے پی کو کوٹے کے تحت ۴ ؍ نشستیں ملنے کی قوی امید تھی۔ تاہم شیو سینا سے تعلق رکھنے والی میئر اشونی نکم نے میونسپل کمشنر کی جانب سے منظور شدہ بی جے پی کے۲؍ ناموں کو مبینہ طور پر درکنار کردیا اور صرف ۲؍ کارپوریٹروں کے ناموں کا اعلان کیا۔ اس کے برعکس شیو سینا نے اپنے حق کے۳؍ اراکین کے بجائے ۵؍ اراکین منتخب کروا لئے۔

یہ بھی پڑھئے: بڑی گاڑیوں کے ٹول کرایہ میں اضافہ ، مزید۱۵؍ سے۳۵؍ روپےزیادہ ادا کرنے ہونگے

بی جے پی لیڈروں کا الزام ہے کہ یہ پورا اقدام ہاؤس لیڈر ارون آشان کے خط کے ذریعے نافذ کیا گیا جس کے پیچھے کسی اور کا نہیں بلکہ مقامی شیوسینا قیادت اور خود رکن پارلیمنٹ شری کانت شندے کا ہاتھ ہے۔ مسلسل نظرانداز کئے جانے اور انتخابی سودے بازی کی وجہ سے بی جے پی کی مقامی قیادت میں شدید اشتعال پھیل گیا۔ اس بحرانی صورت حال کے پیش نظر بی جے پی کے رکن اسمبلی کمار ایلانی، ضلعی صدر و گروپ لیڈر راجیش وڈھاریا اور سینئر رہنما پردیپ رام چندانی کی قیادت میں تمام ۳۷ ؍کارپوریٹروں اور پارٹی عہدیداران کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران تمام اراکین نے یک زبان ہو کر میونسپل کارپوریشن میں اقتدار سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں منعقدہ پریس کانفرنس میں راجیش وڈھاریا نے باضابطہ طور پر اتحاد کے خاتمے کا اعلان کیا۔ 
اجلاس میں جب یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے بعد کیا لوک سبھا انتخابات میں شری کانت شندے کا ساتھ دیا جائے گا؟ تو تمام کارپوریٹرس نے بیک آواز ہاتھ اٹھا کر نعرے لگائے کہ وہ آئندہ انتخابات میں شری کانت شندے کے لئے کوئی انتخابی کام نہیں کریں گے اور ان کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔ 
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت کلیان لوک سبھا کے توازن کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔ کلیان لوک سبھا کے تحت آنے والے۶؍ اسمبلی حلقوں میں ڈومبیولی، کلیان (مشرق) اور الہاس نگر پر بی جے پی کے اراکین اسمبلی فائز ہیں جبکہ شیو سینا کے پاس امبرناتھ اور کلیان دیہی کے محض ۲؍ اسمبلی حلقے ہیں۔ مزید برآں ڈومبیولی ریاستی بی جے پی صدر رویندر چوہان کاانتخابی حلقہ ہے جہاں بی جے پی کی اچھی طاقت ہے۔ شری کانت شندے جو کہ خود نائب وزیر اعلی ایکناتھ شندے کے فرزند ہیں نے اپنے پارلیمانی حلقہ میں بی جے پی کی یہ کھلی بغاوت نہ صرف ان کی انتخابی مہم کو خطرے میں ڈال سکتی ہے بلکہ حکمراں اتحاد کے مستقبل پر بڑے سوالیہ نشان لگا رہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK