• Sun, 25 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

منیاپولس میں ہنگامہ، ٹرمپ کا گورنر اور میئر پر بغاوت اکسانے کا الزام

Updated: January 25, 2026, 4:05 PM IST | Washington

امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولس میں ایک شہری کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر سیاسی کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ریاستی قیادت ایک دوسرے پر حالات بگاڑنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں، جبکہ شہر میں احتجاج اور بدامنی جاری ہے۔

Donald Trump. Photo: INN.
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ریاست منی سوٹا کے گورنر ٹِم والز اور منیاپولس کے میئر پر عوام کو بغاوت پر اکسانے کا الزام عائد کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ منی ایپولس میں ایک شہری کی ہلاکت کے بعد مقامی قیادت کا ردعمل خطرناک ہے اور ان کے بیانات حالات کو مزید خراب کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ میئر اور گورنر کی بیان بازی احتجاج کو بغاوت میں تبدیل کر رہی ہے، جس سے امن و امان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب منی سوٹا کے گورنر ٹِم والز نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کی قیادت کے قابل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تشدد کا جواب تشدد نہیں ہو سکتا۔ گورنر نے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ ریاست سے وفاقی فورسز کو واپس بلایا جائے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کنیڈا اور چین کی قربت پر ٹرمپ چراغ پا، ٹیرف کی دھمکی

گورنر ٹِم والز نے مزید کہا کہ امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ (ICE) کے اقدامات میں بے رحمی نظر آتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ کے چیف آف اسٹاف سے دو بار بات کی ہے، تاہم، انہیں صدر کے درست فیصلوں پر زیادہ اعتماد نہیں۔ واضح رہے کہ منی ایپولس میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوا جس کے بعد شہر میں شدید احتجاج شروع ہو گیا۔ مظاہرین اور سیکوریٹی فورسیز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ یاد رہے کہ ۷؍ جنوری کو بھی منی ایپولس میں امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے ۳۷؍سالہ خاتون رینی گڈ ہلاک ہوئی تھیں، جس کے بعد ریاست میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK