• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۲۰۲۰ء کے بعد وینزویلا نے اسرائیل کو پہلی مرتبہ خام تیل بھیجا

Updated: February 13, 2026, 6:41 PM IST | Caracus

وینزویلا نے تقریباً چھ برس بعد اسرائیل کو خام تیل کا پہلا کارگو روانہ کیا ہے، جو اسرائیل کی بڑی ریفائنری کمپنی بازان گروپ کے لیے بتایا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان معطل توانائی تجارت کی بحالی کی علامت ہے۔ خیال رہے کہ ایسا صدر نکولس مادورو کے امریکی اغوا کے بعد ہوا ہے۔

OIl Well.Photo:INN
تیل کا کنواں۔ تصویر:آئی این این

عالمی توانائی منڈی میں اہم پیش رفت کے طور پر وینزویلا نے ۲۰۲۰ء کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیل کو خام تیل کا کارگو روانہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ کھیپ اسرائیل کی بڑی آئل ریفائننگ کمپنی بازان گروپ کے لیے مختص ہے، جو حیفہ میں واقع اپنی ریفائنری میں اسے پروسیس کرے گی۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان توانائی تجارت کی بحالی کی علامت سمجھی جا رہی ہے، جو گزشتہ برسوں میں سفارتی کشیدگی اور پابندیوں کے باعث معطل رہی تھی۔ اس سے قبل وینزویلا کی تیل برآمدات زیادہ تر محدود خریداروں یا بالواسطہ چینلز کے ذریعے کی جاتی رہی ہیں۔ اس جہاز کے بحیرہ روم کے راستے اسرائیلی بندرگاہ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ 
یہ اقدام اس لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ۲۰۲۰ء کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہ راست توانائی تجارت تقریباً معطل تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ وینزویلا کی برآمدی حکمت عملی میں تبدیلی اور منڈیوں کے تنوع کی کوششوں کا حصہ ہو سکتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں وینزویلا کی تیل پالیسی اور برآمدی راستوں میں تیزی سے تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق پابندیوں کے باوجود وینزویلا نے متبادل مالیاتی اور شپنگ چینلز استعمال کر کے اپنی برآمدات جاری رکھی ہیں۔ حالیہ کارگو کو اسی وسیع تر تجارتی ایڈجسٹمنٹ کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت نئی منڈیوں تک رسائی کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے مقابلے میں سرکردہ کھلاڑیوں کا سامنا ہوگا

واضح رہے کہ وینزویلا دنیا کے بڑے خام تیل ذخائر رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، لیکن گزشتہ دہائی میں معاشی بحران اور بین الاقوامی پابندیوں نے اس کی پیداوار اور برآمدات کو شدید متاثر کیا۔ دوسری جانب اسرائیل اپنی توانائی ضروریات کے لیے مختلف بین الاقوامی سپلائرز پر انحصار کرتا ہے۔ ۲۰۲۰ء کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تیل تجارت رک گئی تھی۔ حالیہ ترسیل کو اسی تعطل کے خاتمے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ایٹلیٹیکو میڈرڈ کے ہاتھوں بارسلونا فٹبال کلب کی دُرگت

توانائی تجزیہ کاروں نے اس پیش رفت کو جیو پولیٹیکل تبدیلیوں کے تناظر میں اہم قرار دیا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق یہ اقدام مشرقِ وسطیٰ اور لاطینی امریکہ کے درمیان توانائی روابط میں نئی جہت پیدا کر سکتا ہے، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ پابندیوں اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث اس تسلسل کو یقینی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سوشل میڈیا پر بھی اس خبر پر بحث جاری ہے۔ کچھ صارفین نے اسے ’’غیر متوقع سفارتی پیش رفت‘‘ کہا، جبکہ دیگر نے اس کے سیاسی مضمرات پر سوالات اٹھائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK