• Fri, 23 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

روہنگیا مسلمانوں کو جانور کہہ کر ختم کرنے پر اکسایا گیا تھا، آئی سی جے میں سماعت

Updated: January 23, 2026, 11:32 AM IST | The Hague

آئی سی جے میں روہنگیا نسل کشی مقدمے کی سماعت میں گامبیا نے میانمار پر الزام لگایا ہے کہ فوج نے تشدد کو بھڑکایا اور لوگوں کو روہنگیا کے قتل پر اکسایا تھا۔ فوج کے سینئر اہلکار نے مسلمانوں کو جانور کہہ کر لوگوں کو انہیں ختم کرنے کیلئےکہا تھا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے پیر کو سماعت کی کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کو کمیونٹی کے خلاف پرتشدد حملوں سے پہلے ملک کی فوج کے ارکان نے بار بار ’’مسلم کتے‘‘ کہا۔ اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت کے سامنے دلائل پیش کرتے ہوئے گامبیا نے میانمار پر روہنگیا نسل کشی کا الزام لگایا ہے، گامبیا نے کہا ہے کہ وہاں کی فوج اقلیتوں کے خلاف طاقت اور نفرت انگیز تقریر کا استعمال کیا ہے، فوج نے روہنگیا کو کہا ہے کہ ’’اس زمین سے انہیں ختم کر دو۔‘‘ گامبیا کی قانونی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے، جیسیکا جونس نے میانمار کے سینیئر فوجی حکام کی طرف سے روہنگیا آبادی کے خلاف برسوں کی توہین اور نفرت انگیز تقاریر کی طرف توجہ دلائی۔ جونس نے اس ویڈیو کا حوالہ دیا، جو ۲۰۱۷ء میں فیس بک کے ذریعے منظر عام پر آیا، جس میں ایک فوجی سرعام لوگوں کو روہنگیا کے خلاف نسل کشی کے تشدد کیلئے اکساتا ہوا نظر آیا۔

ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے جونس نے بتایا کہ ’’اس نے انہیں کہا، اور میں نقل کر رہی ہوں،’ہم ان قصبوں کو مٹا دیں گے جہاں وہ جانور رہتے ہیں۔ ہمارے پاس بندوقیں ہیں، ہمارے پاس گولیاں ہیں۔ یہ وہی ہے، گولہ، بارود اور جانوروں کو مارنے کا جذبہ، جو ہم لے کر آئے ہیں۔ اگر تم تلوار اٹھا سکتے ہو تو تلوار اٹھاؤ۔ اگر تم لاٹھی اٹھا سکتے ہو تو لاٹھی اٹھاؤ۔ اٹھا لاؤ جو تم اٹھا سکتے ہو اور آؤ ان جانوروں کاسامنا کرو۔‘‘ تنظیم تعاون اسلامی کے ۵۷؍ ممبران ریاست کے حمایت یافتہ گامبیا نے نے الزام لگایا ہے کہ میانمار کی فوج نے ۲۰۱۶ء اور ۲۰۱۸ء کے درمیان شمالی ریاست راکھین میں روہنگیا کے خلاف نسل کشی کی کارروائیاں کیں۔

یہ بھی پڑھئے: گرین لینڈ تنازع: ٹرمپ نے داؤس میں نیٹو کے ساتھ ”فریم ورک ڈیل“ کا اعلان کیا، ٹیرف کا حکم واپس لے لیا

مقدمے کے مطابق، مبینہ نسل کشی میں اجتماعی پھانسیاں، اندھا دھند ۱۰؍ ہزار شہریوں کا قتل، جان بوجھ کر ۱۰۰؍ قصبوں کو نذرِ آتش اور بڑے پیمانے پر جنسی استحصال کیا گیا، خاص طور سے عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اقوام متحدہ کے سابق سربراہ برائے انسانی حقوق زید رعد الحسین نے ۲۰۱۷ء میں روہنگیا کے خلاف ہوئے تشدد کو ’’نسل کشی‘‘ کی مثال قرار دیا، جہاں تشدد کے بعد ۷؍ لاکھ لوگ پڑوسی ممالک میں بھاگ گئے۔ یاد رہے کہ ۲۰۲۰ء میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے میانمار کو حکم دیا تھا کہ وہ نسل کشی کو روکنے کیلئے عارضی اقدامات کرے۔ میانمار نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائیاں ملک کے خلاف ہو رہی سازش کو کچلنے کا حصہ ہیں۔ واضح ہو کہ یہ سماعت ۲۹؍ جنوری تک جاری رہے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK