Updated: March 14, 2026, 9:08 PM IST
| Cairo
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے اثرات اب لبنان تک پھیلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس میں ایران کے جوہری مقامات پر ممکنہ حملوں کے منصوبوں کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ لبنان میں اقوام متحدہ کے امن دستوں کے قریب کارروائیوں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اسی دوران اسرائیلی حملوں میں لبنان میں ڈیوٹی پر موجود ۱۲؍ طبی کارکنوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
لبنان کی ایک عمارت میں اسرائیلی فضائیہ کے حملے کے بعد آگ لگ گئی۔ تصویر: پی ٹی آئی
(۱) مصری صدر نے مشرق وسطیٰ بحران کے سیاسی حل کیلئے ثالثی کی پیشکش کی
مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کے سیاسی اور سفارتی حل کیلئے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کیلئے سفارتی کوششوں میں کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔ صدر السیسی نے ایک بیان میں کہا کہ ’’موجودہ بحران کو صرف سیاسی اور سفارتی مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ جنگ کسی بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ کشیدگی کم کرنے کیلئے فوری اقدامات کرے۔ مصر خطے میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کرتا رہا ہے اور ماضی میں بھی مختلف تنازعات میں ثالثی کی کوششیں کرتا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق مصر کی یہ پیشکش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کئی علاقائی ممالک جنگ کے پھیلاؤ سے تشویش میں مبتلا ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی اقصیٰ اور ابراہیمی مسجد میں نماز پر پابندیاں، فلسطینی حکام کا احتجاج
(۲) اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ، ایران کے جوہری مقامات پر ممکنہ حملوں کا منصوبہ
اسرائیلی میڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ایران کے جوہری مقامات پر ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر غور کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج مختلف عسکری آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے جن میں ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی فوج نے لبنان میں موجود نیپالی امن دستوں کے قریب کارروائی کی جس پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے بعض حلقوں نے کہا ہے کہ امن دستوں کی سلامتی کو ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہئے۔ اسرائیلی حکام نے اس حوالے سے تفصیلی تبصرہ نہیں کیا، تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو اسرائیل ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔
(۳) اسرائیل نے لبنان میں ۱۲؍ ڈاکٹروں اور طبی کارکنوں کو ہلاک کیا
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملوں میں لبنان میں ڈیوٹی پر موجود ۱۲؍ طبی کارکن ہلاک ہو گئے جن میں ڈاکٹر، پیرامیڈیکس اور نرسیں شامل تھیں۔ انسانی حقوق کے اداروں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک طبی تنظیم کے نمائندے نے کہا کہ ’’طبی عملہ انسانی خدمت انجام دے رہا تھا اور انہیں نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور تشویشناک ہے۔‘‘ اس واقعے کے بعد عالمی سطح پر مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ جنگی کارروائیوں کے دوران طبی عملے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق جنگ کے دوران طبی عملے اور اسپتالوں کو خصوصی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات جنگ کے انسانی اثرات کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔ انسانی حقوق کے ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران اسرائیل امریکہ جنگ: شدید فوجی جھڑپیں، امریکہ کو اربوں ڈالر کا نقصان
(۴) اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز کی دھمکی، لبنان کو بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے لبنان کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل کے خلاف حملے جاری رہے تو لبنان کو ’’بھاری قیمت‘‘ ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج لبنان کے ریاستی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے اور ممکنہ طور پر اضافی علاقے پر قبضہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ کاٹز نے ایک بیان میں کہا کہ ’’اگر لبنان سے اسرائیل پر حملے جاری رہے تو ہم سخت اقدامات کریں گے اور دشمن کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔‘‘ ان کے اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس طرح کے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ کا دائرہ لبنان تک پھیل سکتا ہے۔