Updated: March 14, 2026, 9:08 PM IST
| Sambhal
الہ آباد ہائی کورٹ نے سنبھل میں رمضان کے دوران ایک مسجد میں نمازیوں کی تعداد ۲۰؍ تک محدود کرنے پر اتر پردیش انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اسے مذہبی عبادت محدود کرنے کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے سنبھل ضلع میں رمضان کے مقدس مہینے کے دوران ایک مسجد میں نماز ادا کرنے والے افراد کی تعداد صرف ۲۰؍ تک محدود کرنے کے فیصلے کی سخت سرزنش کی۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ قانون و نظم برقرار رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری سے بچنے کے لیے مذہبی عبادت کو محدود کرنا قابل قبول نہیں۔ یہ تبصرے جسٹس اتل سریدھرن اور جسٹس سدھارتھ نندن پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ایک رٹ پٹیشن کی سماعت کے دوران دیے۔ یہ درخواست منظر خان کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ مقامی انتظامیہ لوگوں کو ایک مخصوص جگہ پر نماز ادا کرنے سے روک رہی ہے۔
درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ سنبھل میں ایک مسجد کے احاطے میں رمضان کے دوران بڑی تعداد میں لوگ نماز ادا کرنا چاہتے تھے، لیکن مقامی حکام نے صرف ۲۰؍ افراد کو نماز ادا کرنے کی اجازت دی۔ اس کے جواب میں اتر پردیش حکومت نے عدالت کو بتایا کہ جس زمین پر نماز ادا کرنے کی بات کی جا رہی ہے وہ دراصل ریونیو ریکارڈ کے مطابق موہن سنگھ اور بھوراج سنگھ کے نام درج ہے اور اسے سرکاری طور پر مسجد تسلیم نہیں کیا گیا۔ حکومت نے یہ بھی کہا کہ نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کا فیصلہ امن و امان کے خدشات کی وجہ سے کیا گیا تھا۔
تاہم عدالت نے اس جواز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اسے عبادت کے حق کو محدود کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے سخت الفاظ میں کہاکہ ’’ہم ریاست کے وکیل کی طرف سے پیش کی گئی دلیل کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ یہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ ہر حال میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے۔‘‘
بنچ نے مزید کہا کہ اگر مقامی انتظامیہ کو لگتا ہے کہ وہ امن و امان برقرار نہیں رکھ سکتی تو اسے عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔ عدالت نے کہا، ’’اگر پولیس سپرنٹنڈنٹ اور ضلع کلکٹر کو لگتا ہے کہ امن و امان کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے اور اسی وجہ سے وہ نمازیوں کی تعداد محدود کرنا چاہتے ہیں تو انہیں یا تو استعفیٰ دے دینا چاہیے یا سنبھل سے اپنا تبادلہ کروا لینا چاہیے۔‘‘ عدالت نے اپنے مشاہدات میں اس بات پر بھی زور دیا کہ ہر مذہبی کمیونٹی کو اپنی مخصوص عبادت گاہ میں پرامن طریقے سے عبادت کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔
بنچ نے واضح کیا کہ اگر عبادت کسی نجی زمین پر ہو رہی ہے تو اس کے لیے ریاستی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اجازت صرف اس وقت ضروری ہوتی ہے جب مذہبی سرگرمی عوامی زمین یا سرکاری املاک پر منعقد کی جا رہی ہو۔سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ درخواست گزار نے اس مقام پر مسجد یا عبادت گاہ کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے کوئی تصویری یا دستاویزی ثبوت پیش نہیں کیا۔
اس لیے عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت دی کہ وہ تصاویر اور متعلقہ ریونیو ریکارڈ کے ساتھ ایک اضافی حلف نامہ جمع کرائیں تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ اس جگہ پر واقعی مسجد موجود ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت ۱۶؍ مارچ کو مقرر کی گئی ہے۔ اسی سماعت کے دوران ایک اور متعلقہ معاملہ بھی سامنے آیا جس میں بریلی کے ایک نجی گھر میں نماز ادا کرنے پر پولیس کی کارروائی کا الزام لگایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: سنبھل: پولیس افسر نے مسلمانوں سے کہا ’ایران جاؤ‘، تنازع، اپوزیشن کی شدید تنقید
گھر کے مالک حسین خان نے عدالت کو بتایا کہ پولیس انہیں ان کے گھر سے لے گئی اور ایک تحریری دستاویز پر زبردستی انگوٹھے کا نشان لگوایا۔ عدالت نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے بریلی کے ضلع مجسٹریٹ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو اگلی سماعت پر عدالت میں ذاتی طور پر حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔ مزید برآں عدالت نے حسین خان کی حفاظت کے لیے دو مسلح گارڈز چوبیس گھنٹے تعینات کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر حسین خان کے خلاف کسی قسم کا تشدد یا ان کی املاک کو نقصان پہنچانے کا واقعہ پیش آتا ہے تو اسے ریاستی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جائے گا۔