Updated: March 13, 2026, 8:11 PM IST
| New Delhi
وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے منریگا کے زیرِ التوا بلوں کی ادائیگی کے حوالے سے اپوزیشن اراکین کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس بار کے ضمنی مطالبات زر کی دوسری فہرست میں اس کے لیے ۳۰؍ہزارکروڑ روپے کا التزام رکھا گیا ہے جس سے اس سال۳۱؍ مارچ تک کے بقایا جات کی ادائیگی ہو جائے گی۔
نرملا سیتارمن۔ تصویر:پی ٹی آئی
وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے منریگا کے زیرِ التوا بلوں کی ادائیگی کے حوالے سے اپوزیشن اراکین کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے جمعہ کو کہا کہ اس بار کے ضمنی مطالبات زر کی دوسری فہرست میں اس کے لیے ۳۰؍ہزارکروڑ روپے کا التزام رکھا گیا ہے جس سے اس سال۳۱؍ مارچ تک کے بقایا جات کی ادائیگی ہو جائے گی۔
سیتا رمن نے لوک سبھا میں رواں مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء کے لیے ضمنی مطالبات زر کی دوسری فہرست اور اس سے متعلقہ تصرفی تجویز پر بحث کا جواب دیتے ہوئے جمعہ کو لوک سبھا میں کہا کہ کچھ ارکان نے منریگا کی ادائیگیوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے، اس لیے انہیں بتانا ضروری ہے کہ جے رام جی قانون اپریل سے شروع ہوگا۔ حکومت نے منریگا کے زیرِ التوا معاملات کی ادائیگی کے لیے اس فہرست میں انتظام کر دیا ہے۔
انہوں نے وکست بھارت جی رام جی بل کے بعد ریاستوں کے زیرِ التوا بلوں کے حوالے سے اپوزیشن اراکین کی تشویش کے جواب میں کہا کہ’’جب ہم وی بی جی رام جی بل لے کر آئے تھے، اس وقت۹۵؍ہزار کروڑ روپے کا التزام کیا گیا تھا۔ یہ بجٹ میں شامل ہے۔ فائنانس بل پاس ہونے کے بعد، یکم اپریل سے اس کے تحت ۹۵؍ہزارکروڑ روپے کا التزام نافذ ہو جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’ اس کے علاوہ کئی ریاستوں کے پرانے بل زیرِ التوا ہیں۔ وہ یہی معاملہ اٹھا رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ نیا التزام نافذ ہونے کے بعد ان کے پرانے بلوں کا کیا ہوگا؟‘‘ وزیر خزانہ نے کہا کہ’’ان پرانے زیرِ التوا بلوں کے لیے ضمنی گرانٹ کے مطالبات کی اس فہرست میں ۳۰؍ہزا کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس سے ۳۱؍ مارچ تک کے منریگا کے بقایا جات کی ادائیگی کا معاملہ حل ہو جائے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:روہت شرما اس وقت سب سے فٹ اور مضبوط کھلاڑی ہیں: آکاش چوپڑا
سیتا رمن نے اپوزیشن پرسخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’اپوزیشن کو اس کی بالکل پروا نہیں ہے لیکن جب وہ دوبارہ یہاں کھڑے ہوتے ہیں تو پوچھتے ہیں، `منریگا کے لیے آپ نے کیا دیا؟ اس حکومت نے منریگا کے فنڈز میں کٹوتی کر دی ہے۔ جب میں جواب دے رہی ہوں، جب میں بجٹ میں کیے گئے التزامات بتا رہی ہوں، تب وہ سنتے ہی نہیں اور اس کے اوپر وہ بے شرمی سے یہاں کھڑے ہو کر میری آواز دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں ان کے اس رویے کی سخت مذمت کرتی ہوں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:سِنر نے ٹِیئن کو شکست دی، سیمی فائنل میں زیوریو سے مقابلہ ہوگا
وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال کے لیےپہلے اور دوسرے دونوں ضمنی مطالبات زر کو ملا کر کل رقم۱۳ء۴؍ لاکھ کروڑ روپے بنتی ہے۔ تاہم، اس رقم میں سے۷۱ء۱؍ لاکھ کروڑ تکنیکی طور پر ضمنی ہے۔ اس طرح کی گرانٹ کی تکنیکی مانگ کسی گرانٹ کے ایک حصے میں ہونے والی بچت کو اسی گرانٹ کے دوسرے حصے میں استعمال کر کے یا اس گرانٹ کے اندر حاصل ہونے والی اضافی آمدنی اور وصولی سے پورا کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی طرف سے ایوان میں گرانٹ کے ان ضمنی مطالبات کو اس طرح پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جیسے ان کے ذریعے بجٹ کے تخمینے میں پیش کردہ اخراجات کی رقم کو بڑھایا جا رہا ہے۔