Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ میں آرایس ایس پر پابندی کی سفارش

Updated: March 16, 2026, 9:38 AM IST | New Delhi

’’کمیشن برائےمذہبی آزادی‘‘ نے سالانہ رپورٹ میں ٹرمپ انتظامیہ کوبھگوا تنظیم کے اثاثوں  کو منجمد کرنےاوراس کے لیڈروں  کے داخلے پر پابندی کا مشورہ دیا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ہندوستان میں مذہبی آزادی کو درپیش خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے امریکہ کے ’’کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی‘‘ ’(یو ایس سی آئی آر ایف) نے اپنی سالانہ ٹرمپ انتظامیہ کو امریکہ میں  آر ایس ایس پر پابندی عائد کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ 
کمیشن نے مذہبی آزادی کے معاملے میں   ہندوستان کو ’’باعث تشویش‘‘ممالک کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے آر ایس ایس کے خلاف جن اقدامات کی سفارت کی ہے ان میں  اس کے اثاثوں کو ضبط کرنا اور اس کے اراکین کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکنا شامل ہے۔ یہ سفارش اس لیے کی گئی کیونکہ کمیشن کا خیال ہے کہ آر ایس ایس ہندوستان میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کیلئے ذمہ دار ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: تبدیلیٔ مذہب بل اسمبلی میں پیش ،پیر کو بحث متوقع

یو ایس سی آئی آر ایف آزاد امریکی حکومتی کمیشن ہے، جسے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے۔ یہ۱۹۹۸ء کے بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ کمیشن دوسرے ممالک میں مذہب یا عقیدے کی آزادی کی نگرانی کرتا ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ لوگوں کو ان کے مذہب، عبادت یا عقائد پر عمل کرنے سے تو نہیں روکا جارہا ہے۔ اس کا کام امریکی صدر، وزیر خارجہ اور کانگریس کو دنیا بھر میں مذہبی آزادی کو فروغ دینے والی پالیسیوں پر مشورہ دینا ہے۔ یہ ان سفارشات پر عمل درآمد کی بھی نگرانی کرتا ہے۔ 
یہ ساتویں بار ہے جب کمیشن نے ہندوستان کو ’خاص تشویش کا باعث ملک ‘ نامزد کرنے کی سفارش کی ہے۔ سی پی سی ایسے ممالک ہیں جہاں مذہبی آزادی کی سنگین، مسلسل اور نمایاں خلاف ورزیاں ہوتی ہیں۔ اس بار کل۱۸؍ ممالک کو سی پی سی کے طور پر نامزد کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جن میں افغانستان، چین، ایران، پاکستان اور روس شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں مذہبی آزادی کی حالت ۲۰۲۵ء میں مزید خراب ہوئی۔ حکومت نے مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کو نشانہ بنانے والے نئے قوانین بنائے اور ان پر عمل درآمد کیا۔ مساجد، گرجا گھروں اور دیگر مذہبی مقامات پر حملے کئے گئے۔ ہندوتو قوم پرست ہجوم نے حملہ کیا، تشدد کو ہوا دی اور مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہراساں کیا، لیکن پولیس نے زیادہ تر معاملات میں کوئی کارروائی نہیں کی، کئی ریاستوں میں گائے ذبیحہ قوانین کے نام پر مسلمانوں پر حملے کیے گئے، ۱۲؍ ریاستوں میں تبدیلیٔ مذہب مخالف قوانین ہیں، جنہیں ۲۰۲۵ء میں مزید سخت کردیا گیا، ان سے قید کی سزاؤں میں اضافہ ہوا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK