آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے اقتدار کی تبدیلی کو مغربی طوفان قرار دے کرہندوستان میں اس کے امکان کو مسترد کردیا، انہوں نے کہا کہ اقتدار کی تبدیلی کا مطالبہ کرنے والی تحریکوں نے حالات میں موثر طور پر بہتری نہیں لائی۔
EPAPER
Updated: October 20, 2026, 5:14 PM IST | Nagpur
آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے اقتدار کی تبدیلی کو مغربی طوفان قرار دے کرہندوستان میں اس کے امکان کو مسترد کردیا، انہوں نے کہا کہ اقتدار کی تبدیلی کا مطالبہ کرنے والی تحریکوں نے حالات میں موثر طور پر بہتری نہیں لائی۔
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے منگل کو کہا کہ ہندوستان میں اقتدار کی تبدیلی نہیں ہوگی، حالانکہ انہوں نے بنگلہ دیش، فرانس اور البانیہ میں بدامنی کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ’’مغرب سے آنے والا طوفان‘‘ قرار دیا۔ناگپور کے ریشم باغ میدان میں آر ایس ایس کی ۱۰۱؍ویں سالگرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے، بھاگوت نے کہا کہ حکومتیں بدلنے سے کسی ملک کے مسائل ضروری طور پر حل نہیں ہوتے اور عالمی طاقتوں پر ہندوستان کو کمزور کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔انہوں نے کہا کہ تحریکوں کو معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کے بجائے حل تلاش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقتدار کی تبدیلی کا مطالبہ کرنے والی تحریکوں نے موثر طور پر حالات میں بہتری نہیں لائی۔
یہ بھی پڑھئے: آئرلینڈ: مقیم ہندوستانی تارکین وطن کا ایس آئی آر اورسی ای سی کیخلاف احتجاج
بھاگوت نے یہ بھی الزام لگایا کہ تنگ مفادات سے چلنے والی قوتیں مختلف ممالک میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا ، ’’دیکھئے فرانس یا البانیہ یا نیپال یا بنگلہ دیش میں کیا ہوا۔ وہ کہتے ہیں اقتدار بدلنے سے حالات بدل جائیں گے۔ لیکن ایسا کہیں نہیں ہوا، آر ایس ایس سربراہ نے مزید کہا ’’یہ طوفان مغرب سے اٹھا ہے، جو ہر قسم کے نظامی طرز عمل کے خلاف ہے۔‘‘ علاوہ ازیں بھاگوت نے کہا کہ ہندوستان میں بھی اسی طرح کی کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن ملک نے حالیہ دہائیوں میں ترقی کی ہے، ہندوستان درست پالیسی اور درست قیادت کے ساتھ آگے بڑھا ہے۔مزید برآں انہوں نے یہ بھی کہا کہ نوجوان نسل زیادہ قومی فخر کا مظاہرہ کر رہی ہے، جو ان کے بقول ہندوستان کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
بعد ازاں آر ایس ایس سربراہ نے الزام لگایا کہ ’’ایسی قوتوں کو ان لوگوں اور لیڈروں کی حمایت حاصل ہے جو ہندوستان کے موجودہ نظام کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ مسائل اور احتجاج کو ناگزیر تسلیم کرتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ’’ مظاہروں کا مقصد معاشرے کے اندر دشمنی پیدا کیے بغیر مسائل کو حل کرنا ہونا چاہیے۔مسائل برقرار ہیں، اور تحریکیں ہوتی ہیں۔ لیکن تحریکوں کا مقصد حل ہونا چاہیے۔ اس سے معاشرے میں بدنیتی پیدا نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں سستی شہرت کو اپنی عقل و دانش پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔ تحریک نہیں بلکہ پورے معاشرے کا عروج حل فراہم کرتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: انڈین یوتھ کانگریس کا ’ووٹ چوری کی راس لیلا‘ کے عنوان سےنکڑ ناٹک
ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا کہ ہندوستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والی قوتیں سماجی اختلافات کا فائدہ اٹھاتی ہیں، مظلومیت اور عدم اطمینان کے جذبات کو ہوا دیتی ہیں، اور لوگوں کو معاشرے سے دور کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوششیں نظام کے تئیں نفرت کو فروغ دے سکتی ہیں اور افراتفری پیدا کر سکتی ہیں۔بھاگوت نے یہ بھی الزام لگایا کہ کچھ عالمی طاقتیں ہندوستان کو مضبوط ہونے سے روکنا چاہتی ہیں کیونکہ یہ ان کے اثر و رسوخ کی پوزیشن کو چیلنج کر سکتا ہے۔ انہوں نے تقریب میں کہا، ’’وہ ہندوستان چاہتے ہیں لیکن ہندوستان کو طاقتور نہیں چاہتے، کیونکہ ان کے بڑے پن کو دھکا لگے گا۔‘‘