Inquilab Logo Happiest Places to Work

روبینہ میمن کو بیٹی کی شادی میں شرکت کی اجازت

Updated: January 04, 2021, 10:43 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

سال ۹۳ء بم دھماکوں کے جرم میں عمر قید کی سزا پانے والی خاتون کو ہائی کورٹ نے سیکوریٹی اخراجات برداشت کرنے کی شرط پر ۶؍دن کی پرول پر رہا کرنے کا حکم دیا

Farhana Shah
وکیل فرحانہ شاہ نے پرول دلانے میں اہم رول ادا کیا۔

 ممبئی کے ۱۲؍ مقامات پر سلسلہ وار بم دھماکوں کی سازش میں ملوث ہونے کے جرم میں عمر قید کی سزا پانے والی روبینہ میمن کو بامبے ہائی کورٹ نے بیٹی کی شادی میں شرکت کرنے کی اجازت دیتے ہوئے ۶؍ دن کی پرول پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔۸؍ جنوری کو درخواست گزار کی بیٹی کی شادی  ہےجبکہ ۶؍ جنوری کو روبینہ میمن کو جیل سے رہا کیا جائے گا ۔
 ۹۳ء بم دھماکوں کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں عمر قید کی سزا پانے والی روبینہ کی پرول کیلئے  دی گئی درخواست اور بامبے ہائی کورٹ سے ۶؍ دن کی پرول پر رہائی ملنے سے متعلق وکیل فرحانہ شاہ نے بتایا کہ ’’ کاغذی کارروائی پوری کرنے کے بعد روبینہ ۶؍ جنوری کو جیل سے رہا ہوں گی اور اپنی بیٹی کی شادی میں شرکت کریں گی ۔ روبینہ کی پرول ۱۱؍ جنوری کو ختم ہو گی ۔‘‘انہوں نے بامبے ہائی کورٹ کی ۲؍رکنی بنچ کے جسٹس ایس ایس شندے اور جسٹس ابھے آہوجا کے روبرو درخواست داخل کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ۸؍ اکتوبر ۲۰۲۰ءکو یروڈا جیل انتظامیہ کو درخواست گزار روبینہ میمن کی بیٹی کی شادی سے آگاہ کیا گیا اور پرول پر رہائی کی اپیل کی گئی تھی ۔
 روبینہ جو کہ ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے کلیدی ملزم ٹائیگر میمن کی سالی ہے ، کی وکیل نے ۲؍ رکنی بنچ کو بتایا کہ شادی سے متعلق ۳؍ ماہ قبل آگاہ کرنے کے باوجود جیل انتظامیہ درخواست منظورکئے جانے سے متعلق واضح جواب نہیں دے رہا تھا ۔انہوںنے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ کئی فون کال کرنے کے بعد ۱۱؍ نومبر ۲۰۲۰ء   کو بتایا گیا کہ ماہم پولیس اسٹیشن میں روبینہ میمن سے متعلق رپورٹ حاصل ہونے کے بعد درخواست پر فیصلہ کیا جائے گا ۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں ڈی آئی جی (جیل) کو ای میل کے ذریعے بھی آگاہ کیا گیا تھالیکن درخواست کو منظور نہیں کیا گیا ۔ 
  ایڈوکیٹ فرحانہ شاہ نے اس ضمن میں اس نمائندے سے بات چیت کے دوران بتایا کہ جیل انتظامیہ کے انکار کے بعد بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا جہاں دوران جرح ۲۸؍ دسمبر ۲۰۲۰ء کو وکیل استغاثہ نے اس شرط پر۲؍ دن کی پرول پر رہائی کو منظوری کرنے کی اپیل کی تھی کہ درخواست گزار کو پولیس کے جس دستہ کے ساتھ رہا کیا جائے گا، اس کے اخراجات وہ برداشت کریں گی ۔عدالت نے ۳۱؍ دسمبر ۲۰۲۰ء کو ۶؍ دن کی پرول کو منظوری دی تھی ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK