Updated: June 08, 2026, 9:51 PM IST
| Nicosia
یورپی یونین کے وزرائے دفاع کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کلاس نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ خطہ امن مذاکرات اور کمزور جنگ بندیوں کے مراحل میں پھنسا ہوا ہے۔ پورے خطے کو بڑے پیمانے پر جنگ کی واپسی کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔“
ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے کے پیشِ نظر، یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کلاس نے سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر جنگ کی واپسی پورے خطے کو تباہ کر دے گی۔ پیر کے دن نکوسیا، قبرصی میں یورپی یونین کے وزرائے دفاع کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کلاس نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ خطہ امن مذاکرات اور کمزور جنگ بندیوں کے مراحل میں پھنسا ہوا ہے۔ پورے خطے کو بڑے پیمانے پر جنگ کی واپسی کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔“
یہ بھی پڑھئے: جنگ، اسلحہ سازی معاشرہ کی ناکامی ہے، پائیدار امن ہتھیاروں سے ممکن نہیں: پوپ لیو
یورپی یونین نے ایران پر تاریخ میں پہلی بار جہاز رانی کی پابندیاں عائد کیں
اسی دن، یورپی یونین کے رکن ممالک نے آبنائے ہرمز کو بند کرکے جہاز رانی میں خلل ڈالنے میں ملوث ایرانی افراد اور اداروں کے خلاف پابندیوں کی منظوری دی۔ کلاس نے تصدیق کی کہ یہ پہلی بار ہے کہ یورپی یونین نے اپنے نئے ’فریڈم آف نیوی گیشن سینکشنز ریزیم‘ (جہاز رانی کی آزادی پر پابندیوں کا نظام) کو فعال کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو اسے دوبارہ نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ کیلئے یورپی یونین کے بحری مشن ’آپریشن ایسپائیڈز‘ (Operation Aspides) کی اہمیت کا بھی اعادہ کیا اور کہا کہ حالات سازگار ہوتے ہی یہ مشن آبنائے میں کام کرنے والے فرانسیسی اور برطانوی اتحاد میں شامل ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران اسرائیل کشیدگی:خامنہ ای نےکہا ’’صہیونی حکومت کے چند دن باقی ہیں‘‘
روس کے خلاف یوکرین کی امداد کا اعلان
روس کے حوالے سے، کلاس نے اعلان کیا کہ اگلے ہفتے ہونے والی فارین افیئرز کونسل (شورائے امورِ خارجہ) سے پہلے ان کے دفتر نے روس کے ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس (فوجی صنعتی نظام)، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں اور پروپیگنڈا کرنے والوں کو نشانہ بناتے ہوئے ۸۰ سے زائد نئی لسٹنگز (ناموں کو فہرست میں شامل کرنے) کی تجویز پیش کی ہے۔ اجلاس میں وزرائے دفاع نے یوکرین کیلئے متحد حمایت کا اعادہ کیا۔ کلاس نے تصدیق کی کہ یوکرین کیلئے یورپی یونین کا ۹۰ بلین یورو کا قرضہ تیار ہے، جس میں سے ۹ء۵ بلین یورو کی پہلی قسط خاص طور پر ڈرونز کیلئے مختص ہے اور اسے اسی ماہ جاری کیا جائے گا۔ اجلاس میں یوکرین کے ساتھ فضائی دفاع (ایئر ڈیفنس) پر گہرے صنعتی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔