بوبی دیول کی فلم ’’بندر‘‘ نے دوسرے دن ۹۰؍ فیصد اضافہ دکھایا، لیکن اعداد و شمار ایک تشویشناک تصویر پیش کرتے ہیں۔فلم دو دن میں صرف ۴۵ء۱؍ کروڑ روپے کما سکی ہے۔
EPAPER
Updated: June 08, 2026, 9:51 PM IST | Mumbai
بوبی دیول کی فلم ’’بندر‘‘ نے دوسرے دن ۹۰؍ فیصد اضافہ دکھایا، لیکن اعداد و شمار ایک تشویشناک تصویر پیش کرتے ہیں۔فلم دو دن میں صرف ۴۵ء۱؍ کروڑ روپے کما سکی ہے۔
انوراگ کشیپ کی کرائم ڈرامہ فلم ’’بندر‘‘ کو باکس آفس پر اپنی جگہ بنانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسرے دن ۹۰؍ فیصد اضافہ کے باوجود اصل کمائی انتہائی مایوس کن ہے، جس سے فلم کی تجارتی کامیابی پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔۵؍ جون ۲۰۲۶ء کوزی اسٹوڈیوز کے تحت ریلیز ہونے والی ا بوبی دیول اسٹارر فلم نے پہلے ہی ریلیز سے قبل ایک ہنگامہ خیز دور دیکھا تھا اور باکس آفس نے بھی اسے کوئی خاص تعاوننہیں دیا۔
ایک ایسا اضافہ جو حقیقت میں خوش فہمی پیدا کرتا ہے
ساکنلک کے مطابق’’بندر‘‘ نے دوسرے دنو ۱۲۵۷؍ شوز سے ۹۵؍ لاکھ روپے نیٹ کمائے، جس کے بعد دو دن کی مجموعی ہندوستانی خالص کمائی صرف۴۵ء۱؍کروڑ روپے ہو گئی۔ اگرچہ پہلے دن کے ۵۰؍ لاکھ کے مقابلے میں ۹۰؍ فیصد اضافہ فیصد کے لحاظ سے نمایاں لگتا ہے، لیکن اصل بنیاد اتنی کم تھی کہ اعداد و شمار اب بھی تشویشناک ہیں۔فلم کسی بھی ایک دن میں ایک کروڑ روپے کا ہندسہ عبور نہیں کر سکی، یہاں تک کہ ہفتے کے روز بھی جو عام طور پر باکس آفس کا سب سے مضبوط دن ہوتا ہے۔ دوسرے دن مجموعی آکیوپنسی۰۶ء۲۲؍ فیصد رہی جبکہ صبح کے شو صرف ۴۵ء۶؍ فیصد تک محدود رہے۔ بہتر کارکردگی دکھانے والے شہروں جیسے حیدرآباد (۳ء۳۱؍فیصد) اور بنگلورو (۸ء۲۶؍فیصد) بھی مجموعی نمبرس کو نمایاں طور پر بہتر بنانے میں ناکام رہے۔
یہ بھی پڑھئے:راکیش روشن نے’’کرش ۴‘‘ کیلئےآدتیہ چوپڑہ سے۵۰۰؍کروڑ مانگنےکی خبروں کومستردکردیا
آگے کا راستہ مشکل
صورتحال کو دیکھتے ہوئے کلیکشن کو مثبت انداز میں پیش کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ ’’بندر‘‘ کا مقابلہ کئی نئی ریلیزز سے تھا جن میں’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے ‘‘ ، ہالی ووڈ ہارر فلم ’’آبسیشن‘‘ اور رام چرن کی ’’پیدی‘‘ شامل ہیں جس نے واضح طور پر ناظرین کو دوسری طرف موڑ دیا۔
یہ بھی پڑھئے:ایرانی ٹیم کو صرف ورلڈ کپ میچوں کے دنوں میں ہی امریکی سرزمین پر داخلے کی اجازت
فلم کا’’اونلی اڈلٹس‘‘ سرٹیفکیٹ بھی اس کے ناظرین کے دائرے کو محدود کرتا ہے، جو مددگار ثابت نہیں ہوا۔ ریلیز سے پہلے کا دور بھی ہموار نہیں تھا۔ساکنلک کے مطابق زی اسٹوڈیوز نے عارضی طور پر ملٹی پلیکس اسکریننگ روک دی تھی کیونکہ آئی نوکس پی وی آر اور سنے پولسجیسے بڑے چینز نے غیر موزوں شو ٹائمنگ دیے تھے۔ فلمسازوں نے جان بوجھ کر۶۰۰؍اسکرینز کی محدود ریلیز کی منصوبہ بندی کی تھی، اس امید پر کہ مثبت زبانی تشہیر فلم کو آگے لے جائے گی۔ یہ حکمت عملی اسی وقت کام کرتی ہے جب ناظرین واقعی دلچسپی دکھائیں جو ابھی تک واضح طور پر نہیں ہوا۔