Inquilab Logo Happiest Places to Work

روس: انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کے سبب پیجر اور واکی ٹاکی کی فروخت میں اضافہ

Updated: March 13, 2026, 4:06 PM IST | Moscow

روس میں اس وقت انٹرنیٹ بلیک آؤٹ جاری ہے جس سے سروسیز اور کاروبار متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ماسکو ممکنہ طور پر وسیع پیمانے پر ویب سنسرشپ کی تیاری کر رہا ہے۔ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگ واکی ٹاکی اور پیجر استعمال کرنے لگے ہیں اور ان کی فروخت میں تیزی سے اضافہ ہو گیا ہے۔

Vladimir Putin.Photo:INN
ولادیمیر پوتن۔ تصویر:آئی این این

 روس کے لوگ ایک طرح سے ماضی کی طرف لوٹ رہے ہیں اور ایک دوسرے سے رابطے کے لیے پیجر اور واکی ٹاکی استعمال کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں بغیر کسی واضح وجہ یا وضاحت کے انٹرنیٹ بلیک آؤٹ دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ ماسکو اپنے شہریوں کی آن لائن سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے سنسرشپ کی تیاری کر رہا ہے۔ اچانک انٹرنیٹ کی بندش تقریباً ایک ہفتہ پہلے شروع ہوئی، جب مرکزی ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ سے شکایات موصول ہوئیں، جیسا کہ گارڈین نے رپورٹ کیا۔ زیادہ تر لوگوں کے موبائل انٹرنیٹ نے کام کرنا بند کر دیا اور وہ اپنی مطلوبہ ویب سائٹس اور ایپس تک رسائی حاصل نہیں کر سکے۔ کچھ لوگوں نے تو یہ بھی کہا کہ ان کا نیٹ ورک مکمل طور پر ختم ہو گیا اور وہ فون کال بھی نہیں کر پا رہے تھے۔ اس لیے لوگ اب پرانے طریقوں کی طرف واپس جا رہے ہیں۔ روسی میڈیا کے مطابق ای کامرس پلیٹ فار م روس وائلڈ بیریس  کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ واکی ٹاکی اور پیجر کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔ واکی ٹاکی کی فروخت میں ۲۷؍فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ پیجر کی فروخت ۷۳؍ فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ لوگ کاغذی نقشے بھی خرید رہے ہیں کیونکہ جیو لوکیشن ایپس کام نہیں کر رہیں۔ ان کی فروخت تین گنا ہو گئی ہے۔
روس میں انٹرنیٹ کی بندش
روس کے مختلف علاقوں میں کئی مہینوں سے انٹرنیٹ کی بندش ایک بار بار پیش آنے والا مسئلہ رہی ہے، جہاں موبائل انٹرنیٹ کو وسیع پیمانے پر بند کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم اب یہ مسئلہ اس لیے زیادہ نمایاں ہو گیا ہے کیونکہ روس کے مرکزی علاقوں کے لوگ بھی بلیک آؤٹ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس ہفتے حکام نے انٹرنیٹ بندش کے بارے میں کہا کہ یہ  سیکوریٹی  کے لیے ضروری ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اضافی اقدامات ضروری ہوں گے۔ روس پہلے ہی واٹس ایپ، فیس بک اور یوٹیوب کو بلاک کر چکا ہے اور ٹیلیگرام اگلا ہدف ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:میسی کی موجودگی میں ٹرمپ نے رونالڈو کی تعریف کی

روسی پارلیمنٹ کے اندر بھی انٹرنیٹ کام نہیں کر رہا
انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نے کورئیر سروسیز، ٹیکسی ایپس اور ریٹیل کاروبار کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ روس کے بزنس اخبار کومرسانت کے ایک اندازے کے مطابق ماسکو میں انٹرنیٹ بند ہونے سے روزانہ تقریباً  ایک ارب روبل (تقریباً۱۲۰؍ کروڑ روپے) کا نقصان ہو سکتا ہے۔ روسی پارلیمنٹ اسٹیٹ ڈوما کے ایک رکن نے بھی شکایت کی کہ وہ عمارت کے اندر موبائل فون استعمال نہیں کر پا رہے اور وائی فائی بھی کام نہیں کر رہا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا خیال ہے کہ ماسکو ممکنہ طور پر اپنے شہریوں کو بیرونی دنیا سے محدود کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جہاں انہیں صرف چند مخصوص ویب سائٹس تک رسائی دی جائے گی جبکہ باقی انٹرنیٹ بلاک کر دیا جائے گا۔ اسے وائٹ لسٹ سسٹم کہا جاتا ہے، جس میں صرف حکومت سے منظور شدہ ویب صفحات ہی دستیاب ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئے:ہالی ووڈ میں کام کی کمی، اداکار اب طبی تربیت میں ’’مریض‘‘ بن رہے ہیں

روس میں وسیع سنسرشپ کا خدشہ
کریملن کے مطابق دستیاب ویب سائٹس کی  وائٹ لسٹ  میں زندگی کے لیے ضروری تمام وسائل شامل ہوں گے۔ ان میں وہ پلیٹ فارمز شامل ہوں گے جہاں لوگ چیزیں خرید اور فروخت کر سکیں، آن لائن ادویات خرید سکیں اور دیگر ڈیلیوری سروسیز استعمال کر سکیں۔ تاہم ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ دراصل آن لائن سرگرمیوں کو محدود کرنے اور لوگوں کو عالمی واقعات سے دور رکھنے کی ایک چال ہو سکتی ہے۔ روس اس سے پہلے بھی انٹرنیٹ تک رسائی محدود کر چکا ہے، خاص طور پر اس وقت جب اس نے یوکرین کے ساتھ فوجی تصادم شروع کیا تھا۔ اس وقت روس کا کہنا تھا کہ یہ یوکرینی ڈرون حملوں کو روکنے کا ایک طریقہ ہے، لیکن ماہرین کے مطابق اس اقدام سے ڈرون حملوں کو روکنے میں کوئی خاص مدد نہیں ملی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK