• Wed, 14 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران پر حملہ کا خطرہ شدید تر، امریکہ کو روس کا سخت انتباہ

Updated: January 14, 2026, 7:47 AM IST | Washington

اسلامی جمہوریہ میںحکومت کیلئے عوامی حمایت میں مظاہروں کے بیچ ٹرمپ نے  شرپسندوں کو احتجاج جاری رکھنے پر اُکسایا، ’’مدد پہنچ رہی ہے‘‘کا اعلان کیا، ایران سے گفتگو روک دی

Crowds gather at public demonstrations in support of the government in Iran
ایران میں حکومت کی حمایت میں عوامی مظاہروں میں امڈنے والی بھیڑ

ایران میں حکومت مخالف احتجاج  میں کمی اور حکومت کیلئے عوامی حمایت میں مظاہروں  کے بعد حالات معمول پر آتے نظر آرہے تھے،امریکہ جس کی جانب سےحملوں کی دھمکیاں دی جارہی تھیں، کی طرف سے بھی  نرمی  کا مظاہرہ کرتے ہوئے  اس بات کا اشارہ دیا جارہا تھا کہ وہ بات چیت  اور سفارتکاری کو ترجیح دیگا مگر امریکہ میں  منگل کی صبح (ہندوستان میں منگل کی شام کو) ٹرمپ کے تازہ پوسٹ نے صورتحال کو اچانک دھماکہ خیز بنا دیا۔ امریکی صدر نے ایران  سے ہر طرح کی گفتگو کا سلسلہ بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے  ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر کئے گئے پوسٹ میں ایران میں مظاہرین کو احتجاج جاری رکھنے کیلئے اُکسایا اور انہیں پیغام دیا کہ ’’مدد پہنچ رہی ہے، ( راستے میں ہے۔ )‘‘ا س بیچ جرمنی کے صدر فریڈرک مرز نے بھی یہ کہہ کر ہلچل مچادی کہ موجودہ ایرانی قیادت اپنے آخری مراحل میں ہے۔ 
 ایرانی حکام سے بات چیت منسوخ کردی: ٹرمپ
  صدر ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ انہوں نے مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت منسوخ کر دی ہے۔ امریکی صدر نے یہ نہیں بتایا کہ ایران میں مظاہرین کیلئے اس پیغام سے کہ’’مدد پہنچ رہی ہے‘‘ ان کی کیا مراد ہے تاہم یہ بیان ایران سے بات چیت پرآمادگی سے متعلق پیر کے بیان کے دوسرے دن آیا ہے۔  ان کے موقف میں اس اچانک تبدیلی کی کوئی وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پرمنگل کی صبح پوسٹ کیا کہ ’’محب وطن ایرانیو،احتجاج جاری رکھو۔ اپنے اداروں پر قبضہ کرلو!!! قاتلوں اور زیادتی کرنے والوں کے نام محفوظ کر لو۔ انہیں بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ میں نے ایرانی حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں اس وقت تک کیلئےمنسوخ کر دی ہیں جب تک مظاہرین کا بے معنی قتل بند نہیں ہو جاتا۔ مدد راستے میں ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں  نے اپنے پیغام  کے آخر میں ’ایم آئی جی اے‘ کا مخفف لکھا ہے۔ سمجھا جارہاہے کہ اس سے مراد  ’’میک ایران گریٹ اگین‘‘ ہے۔ 
حملے کی منصوبہ بندی حتمی مراحل میں : الجزیرہ
 ا س بیچ الجریزہ نے اپنے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ  امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی منصوبہ   بندی حتمی  مراحل میں  ہےتاہم حملہ کرنے یا کسی اور نوعیت کی کارروائی کرنے کے بارے میں ابھی کوئی  فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ حالانکہ ٹرمپ کے پوسٹ سے اندیشہ ہے کہ  وہ حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر الجزیرہ کے مطابق  امریکی صدر ابھی ایک  دن اور متبادلات پر  غور کر رہے ہیں۔ منگل کو  انہوں نے  وہائٹ ہاؤس میں اپنی قومی سلامتی ٹیم کے اراکین  کے ساتھ میٹنگ کی ہے ۔ ان تمام حالات کے درمیان وہائٹ ہاؤس کا مؤقف یہ ہے کہ ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور وہائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق یہی اب بھی صدر کی ترجیحی آپشن ہے۔
تہران نمٹنے کیلئے تیار ہے: ایرانی میجر جنرل 
 اس بیچ ایران کے میجر جنرل امیر حاتمی نے متنبہ کیا ہے کہ’’اسرائیل کے ساتھ ۱۲؍ روزہ جنگ کے بعد گزشتہ ۶؍ماہ میں کی گئی تیاریاں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کو درپیش خطرات سے نمٹنے کیلئے کافی ہیں۔‘‘ انہوں نے متنبہ کیا کہ ایران  ۲۰۲۵ء کی مذکورہ ۱۲؍ روزہ جنگ کے مقابلے میں اب زیادہ تیار ہے۔   اس سے قبل  ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اعلان کرچکے ہیں کہ ایران جنگ نہیں چاہتا مگر اس کیلئے تیار ہے۔ 
روس کا امریکہ کوفوجی کارروائی سے باز رہنے کا انتباہ
 منگل کو ٹرمپ کی جانب سے پھر بند لفظوں میں ایران کو دی گئی دھمکی کا تہران کے اتحاد ماسکو نے سخت نوٹس لیا ہے۔ روس نے ٹرمپ کے پیغام کو  ایران کی اندرونی سیاست میں’’تخریبی بیرونی مداخلت‘‘ سے تعبیر کیا اوراس کی شدید   مذمت کرتے ہوئے  کہا کہ’’ امریکہ کی جانب سے ملک کے خلاف نئے فوجی حملوں کی دھمکیاںقطعی طور پر ناقابلِ قبول ہیں۔‘‘ روسی   وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’’جو لوگ جون۲۰۲۵ء میں ایران کے خلاف کی گئی جارحیت کو دہرانے کیلئے  بیرونی طور پر بھڑکائے گئے انتشار کو بہانہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہیں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی بین الاقوامی سلامتی کے لیے ایسے اقدامات کے تباہ کن نتائج سے آگاہ ہونا چاہیے۔‘‘
مظاہروں میں ۲؍ ہزار ہلاکتوں کا دعویٰ
  اس بیچ مغربی میڈیا  نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں  مظاہروں   کے دوران ہونےوالی ہلاکتیں ۲؍ ہزار سے تجاوز کرگئی ہیں۔  تاہم  یہ واضح نہیں ہے کہ جب ایران میں انٹرنیٹ بند ہے تو انہیں  یہ اعدادوشمار کہاں سے مل رہے ہیں۔اس بیچ  ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’’تسنیم نیوز‘‘  نے منگل کو الزام لگایا کہ امریکہ نے اس کی انگلش  ویب سائٹ بند کردی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK