روس کا کہنا ہے کہ ہندوستان نے تیل خریدنے میں ازسرنو دلچسپی دکھائی ہے، جبکہ ایران تنازع کےدرمیان آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے نتیجے میں تیل کی عالمی آمدورفت میں زبردست رکاوٹ پیش آرہی ہے۔
EPAPER
Updated: March 04, 2026, 10:08 PM IST | Moscow
روس کا کہنا ہے کہ ہندوستان نے تیل خریدنے میں ازسرنو دلچسپی دکھائی ہے، جبکہ ایران تنازع کےدرمیان آبنائے ہرمز کے بند ہونے کے نتیجے میں تیل کی عالمی آمدورفت میں زبردست رکاوٹ پیش آرہی ہے۔
روس نے منگل کو کہا کہ ہندوستان نے روسی خام تیل کی خریداری بڑھانے میں ازسرنو دلچسپی ظاہر کی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب عالمی تیل کی منڈی بحران کا شکار ہے۔ یہ بندش ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد تہران کے جوابی اقدامات کے نتیجے میں ہوئی ہے۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز نیا کا سب سے اہم تیل کی ترسیل کا بحری راستہ ہے،جو حملوں کے بعد ایران کے جوابی اقدامات کی وجہ سے بندش کا شکار ہے۔ خلیج فارس کو بین الاقوامی منڈیوں سے ملانے والے اس تنگ آبی گزرگاہ سے عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ اور قدرتی مائع گیس کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔دریں اثناء ماسکو میں ایک تقریب کے موقع پر سرکاری ٹی وی روسیا۱؍ سے بات کرتے ہوئے نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا، ’’جی ہاں، ہمیں ہندوستان کی جانب سے نئی دلچسپی کے اشارے مل رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران پر ۵؍ ہزار سے زائد گولہ بارود گرائے گئے ہیں: اسرائیلی فضائیہ
آبنائے ہرمز سے گزرنے والی آمدورفت پر کسی بھی طویل پابندی سے ہندوستان، چین اور جاپان جیسے بڑے درآمد کنندگان کو سپلائی میں خلل کا خطرہ ہے، جبکہ عالمی خام تیل کی قیمتیں بڑھنے کا اندیشہ ہے۔روس کے توانائی کے شعبے کی نگرانی کرنے والے نوواک نے اس امکان کو بھی مسترد نہیں کیا کہ یورپی یونین، توانائی کے موجودہ بحران کے پیش نظر روسی ہائیڈرو کاربن کی درآمدات پر اپنی پابندیوں پر نظرثانی کر سکتا ہے۔بعد ازاں ، توانائی کی بڑی کمپنی گیزپروم کی ملکیت والے روس کے این ٹی وی چینل نے خبر دی ہے کہ جنگ کے بڑھنے اور خلیجی ممالک میں تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے پر ایرانی حملوں سے ماسکو کو ان ’’بھاری چھوٹ‘‘ کو کم کرنے کا موقع مل سکتا ہے جو وہ ہندوستان سمیت ایشیائی خریداروں کو دے رہا ہے۔