• Fri, 27 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملک میں تقریباً ۸۴۰۰۰۰؍ غیر قانونی تارکین وطن موجود ہیں: روسی وزیر اعظم

Updated: February 27, 2026, 4:09 PM IST | Moscow

روسی وزیر اعظم میخائل میشوستین نے ایک بیان میں کہا کہ ملک میں تقریباً ۸۴۰۰۰۰؍ غیر قانونی تارکین وطن موجود ہیں، میخائل نے غیر ملکی مزدور تارکین وطن پر سختی کرنے کے درمیان اس بات کا انکشاف کیا۔

Russian Prime Minister Mikhail Mishustin. Photo: X
روسی وزیراعظم میخائل میشوستین۔ تصویر: ایکس

روسی وزیراعظم میخائل میشوستین نے بدھ کو کہا کہ فروری کے اوائل کے اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً ۸۴۰۰۰۰؍ تارکین وطن اس وقت ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔پارلیمنٹ کے ایوان زیریں، ریاستی ڈوما، میں حکومت کی ۲۰۲۵ ءکی کارکردگی پر رپورٹ پیش کرتے ہوئے، میشوستین نے کہا کہ کابینہ ایسے حالات پیدا کرنے کے لیے کام کر رہی ہے جو غیر ملکی کارکنوں کو روس میں ملازمت کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کریں اور قانونی مسائل سے بچیں۔انہوں نے کہا،’’ ۲۰۲۵ ءمیں، کنٹرول شدہ افراد کا رجسٹر آخر کار شروع کر دیا گیا۔ یہ ہمارے کام کا ایک اہم شعبہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو روس میں غیر قانونی طور پر موجود ہیں۔ ۶ ؍فروری تک ان کی تعداد تقریباً ۸۴۰۰۰۰؍ ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی کنیسٹ میں ہنگامہ: مودی کے خطاب سے قبل اپوزیشن کا واک آؤٹ

دریں اثناء روسی وزیر اعظم کے مطابق، غیر قانونی تارکین وطن کو بعض مواقع پرپابندی کا سامنا ہے، بشمول نقل و حرکت، گاڑی چلانا، مالی لین دین، شادی، اور بینکنگ خدمات۔معیشت کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے، میشوستین نے کہا کہ حکومت افراط زر کی شرح میں اضافے کو روکنے میں کامیاب رہی ہے اور بیرونی دباؤ اور پابندیوں کے درمیان اقتصادی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات تیار کر رہی ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ سب سے مشکل صورتحال ہاؤسنگ اورعوامی خدمات کے شعبے میں ہے، جسے جامع جدید کاری کی ضرورت ہے۔میشوستین نے یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت تعلیمی نظام میں اصلاحات نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور آبادیاتی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ صحت کی دیکھ بھال کے شعبے کے بارے میں، انہوں نے صورتحال کو عام طور پر تسلی بخش قرار دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK