اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اعزاز میں منعقد خصوصی اجلاس سیاسی تنازع کا شکار ہو گیا۔ اپوزیشن اراکین نے ہائی کورٹ کے صدر آئزک امیت کو مدعو نہ کرنے کے خلاف احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ تاہم، مودی کی تقریر سے قبل لوٹ آئے۔
EPAPER
Updated: February 26, 2026, 5:03 PM IST | Tel Aviv
اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اعزاز میں منعقد خصوصی اجلاس سیاسی تنازع کا شکار ہو گیا۔ اپوزیشن اراکین نے ہائی کورٹ کے صدر آئزک امیت کو مدعو نہ کرنے کے خلاف احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ تاہم، مودی کی تقریر سے قبل لوٹ آئے۔
بدھ کی شام کنیسٹ کے خصوصی اجلاس سے قبل سیاسی کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔ اپوزیشن جماعتوں نے ہائی کورٹ کے صدر آئزک امیت کو تقریب میں مدعو نہ کیے جانے پر شدید اعتراض کیا۔ جنوری ۲۰۲۵ء میں عدالت کے صدر منتخب ہونے کے بعد سے وزیر انصاف یاریو لیون اور حکومت کے بعض ارکان نے ان کے عہدے کو عملاً تسلیم نہیں کیا۔ اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ امیت کو خارج کرنا ریاستی اداروں کی تضحیک ہے۔ جب کنیسٹ کے اسپیکر عامر اوہانا اور وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے تقریر شروع کی تو اپوزیشن اراکین ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔
اپوزیشن لیڈر یائیر لپیڈ نے کہا کہ احتجاج ’’ریاستی وقار کے تحفظ‘‘ کے لیے ہے، اور بعد میں مودی سے مصافحہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ ’’یہ احتجاج آپ سے متعلق نہیں ہے۔‘‘ واک آؤٹ کے بعد خالی نشستوں کو نمایاں ہونے سے بچانے کے لیے سابق اتحادی اراکین کو مدعو کیا گیا تاکہ نشریات میں ایوان مکمل دکھائی دے۔ یش عطید پارٹی نے بیان جاری کیا کہ یہ ’’شرمناک فیصلہ‘‘ اسپیکر اوہانا کا تھا۔ موشے تور پاز (یش عطید) نے کہا کہ ’’کنیسٹ اسپیکر کے ابتدائی انتخابی مفادات اسرائیل کے خارجہ تعلقات کو متاثر نہیں کرنے چاہئیں۔‘‘ دوسری جانب اوہانا نے احتجاج کا براہ راست ذکر نہیں کیا اور اپنی تقریر میں مودی کو ’’اسرائیل کا قریبی دوست‘‘ قرار دیا۔ بعد ازاں انہوں نے مودی کو ’’میڈل آف کنیسٹ‘‘ سے نوازا۔
یہ بھی پڑھئے: مودی کا اسرائیل دورہ: کنیسٹ خطاب، دفاعی معاہدے اور خصوصی اعزاز
مودی کا خطاب
اپوزیشن اراکین مودی کی تقریر کے لیے ایوان میں واپس آئے۔ اپنے خطاب میں مودی نے کہا کہ ’’مَیں ۴ء۱؍ بلین ہندوستانیوں کی نیک تمنائیں لے کر آیا ہوں۔‘‘ انہوں نے ۱۷؍ ستمبر ۱۹۵۰ء کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:’’میں اسی دن پیدا ہوا تھا جس دن ہندوستان نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا۔‘‘
نیتن یاہو نے مودی کو ’’دوست سے بڑھ کر بھائی‘‘ قرار دیا اور ہند اسرائیل تعلقات کو ’’حقیقی اسٹریٹجک پارٹنرشپ‘‘ کہا۔ تاہم اپوزیشن جماعت بلیو اینڈ وائٹ نے اسے ’’ریاست کے لیے شرمناک لمحہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ داخلی سیاسی تنازع کو سفارتی تقریب پر حاوی نہیں ہونا چاہیے تھا۔