یوکرین پر روس کے حملے تیز ،عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام

Updated: September 26, 2022, 12:51 PM IST | Agency | Kyiv/New York/Moscow

کیف کی فوج کے مطابق ماسکوکی فوج نے فوجی اور شہریوں کے اہداف پر درجنوں میزائل داغے اور فضائی حملے کئے،۳۵؍ بستیوں کو نشانہ بنایا،جنوبی شہر اوڈیسا کے مرکز میں حملوں کیلئے ڈرون کا استعمال بھی کیا۔روس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنی کارروائیوں کا دفاع کیا ،کہا: روسی حملے کی مخالفت اور مذمت امریکہ اور اس کے زیر اثر ممالک تک ہی محدود ہے

Russian Foreign Minister Sergey Lavrov was addressing the United Nations General Assembly.Picture:AP/PTI
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف خطاب کرتےہوئے۔ تصویر:اے پی / پی ٹی آئی

 جہاں ایک طرف   یوکرین پر روس کے حملے تیز ہوگئے ہیں ، و ہیں دوسری طرف  اس معاملے میں لفظی جنگ میں بھی شدت آگئی ہے ۔ کیف نے ماسکوپر عام شہریوں کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ  روس  نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنی کارروائیوں کا دفاع کیا ۔   میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین کی فوج نے اتوار کو علی الصباح بتایا کہ روسی افواج نے گزشتہ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران ملک کے جنوبی حصے میں فوجی اور  شہریوں کے اہداف پر درجنوں میزائل اور فضائی حملے کئے۔ ان حملوں میں۳۵؍ بستیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ روس نے جنوبی شہر اوڈیسا کے مرکز میں حملوں کیلئے ڈرون کا استعمال بھی کیا۔ یوکرین کی فوج نے بتایا کہ اوڈیسا پر حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔دوسری جانب روس عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتا ہے۔
  اسی دوران روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی آر آئی اے کی رپورٹوں کے مطابق یوکرینی فورسیز نے خیرسون شہر کے ایک ہوٹل پر بمباری کی جس میں ۲؍ افراد ہلاک ہو گئے۔ روسی افواج نے اس جنوبی شہر پر جنگ کے ابتدائی دنوں سے قبضہ کر رکھا ہے۔
  قبل ازیں روس کے وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے سنیچر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ  روسی حملے کی مخالفت  اور مذمت امریکہ اور اس کے زیر اثر ممالک تک  ہی محدود ہے۔ واضح رہےکہ جنرل اسمبلی میں تقریباً۳؍ چوتھائی ممالک  جنگ بندی کے حامی ہیں۔ ان میںسے کچھ ممالک غیر جانبدار ہیں ، وہ صرف جنگ بندی کے خواہشمند ہیں۔  واضح رہےکہ روس نے۲۴؍ فروری کو یوکرین پر حملہ کیا جسے وہ ایک خصوصی فوجی آپریشن کہتا ہے۔ اس جنگ میں اب تک ہزاروں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور یوکرین میں  بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ ۱۹۶۲ء میں کیوبا میزائل بحران کے بعد مغرب اور روس کے  درمیان یہ سب سے بڑا تصادم ہے۔روسی قبضے میں آنے والے ۴؍ یوکرینی علاقوں میں روس سے الحاق کے معاملے پر ریفرنڈم جاری ہے۔ ماسکو کے حمایت یافتہ علاحدگی پسند یوکرین کے مشرقی علاقوں لوہانسک، ڈونیٹسک، جنوی میں خیرسون اور اس سے متصل زاپوریژیا کے کچھ علاقوں میں یہ ریفرنڈم کروا رہے ہیں۔ اس ریفرنڈم کے نتیجے میں ان علاقوں کو روس میںضم کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی اور اس میں سے کسی بھی علاقے میں فوجی حملہ، روس کی مرکزی سرزمین پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
 یوکرین اور اس کے مغربی اتحادیوں کا کہنا ہے کہ اس ریفرنڈم کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ زیر قبضہ علاقوں کے روس کے ساتھ الحاق پر ریفرنڈم’ `دھوکہ دہی‘ کے سوا کچھ نہیں   ہے۔ادھر صدر ولادیمیر پوتن کی طرف سے دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ اضافی فوج طلب کرنے کے  اعلان بعد روس میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان مظاہروں میں سیکڑوں افراد کو گرفتار  کیا جاچکا ہے۔ ایک مانیٹرنگ گروپ کے مطابق سنیچر سے اتوار تک۳؍ سو سے زائد مظاہرین کو دارالحکومت ماسکو میں جبکہ۱۵۰؍ کے قریب مظاہرین کو سینٹ پیٹرزبرگ میں گرفتار کیا گیا۔ اس گروپ کی اطلاعات کے مطابق۳۲؍ مختلف شہروں میں گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ ایسے فوجی جو رضاکارانہ طور پر ہتھیار ڈال  دیں یا لڑنے سے انکار کر دیں انہیں۱۰؍ برس تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق یوکرین میں لڑنے کیلئے۳؍ لاکھ تک اضافی فوجیوں کو طلب کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK