Updated: March 10, 2026, 10:03 PM IST
| Moscow
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک بیان میں کہا کہ روس روس قابل اعتبار شراکت دار ممالک کو تیل اور گیس کی فراہمی جاری رکھے گا، اس میں یورپ اور ایشیائی ممالک شامل ہیں، اس سے قبل ہنگری نے روسی تیل اور گیس کی سپلائی پر لگی پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
روسی صدر ولادمیر پوتن۔ تصویر: آئی این این
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے پیر کو کہا کہ’’ ماسکو ان ممالک کو توانائی کے وسائل (Energy Resources) کی فراہمی جاری رکھے گا جو ’قابل اعتماد شراکت دار‘ (Reliable Partners) ہیں۔‘‘پوتن نے مزید کہا کہ ،’’ہم قابل اعتماد شراکت دار ممالک کو توانائی کے وسائل فراہم کرتے رہیں گے۔ روسی کمپنیوں کو موجودہ صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعات کو زیادہ منافع بخش منڈیوں کی طرف منتقل کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ خام تیل کی قیمت بڑھ کر۱۲۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جس سے عالمی توانائی بحران (Global Energy Crisis) پیدا ہو گیا اور مغربی ایشیا کے جاری تنازع کے دوران حکومتیں متحرک ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ سے عالمی توانائی بحران، تیل و گیس قیمتوں میں خطرناک حد تک اضافہ
ماہرین کا کہنا تھا کہ عالمی معیشت کو۱۹۷۰ء کی دہائی کے بعد سب سے قابل ذکر خطرہ درپیش ہے کیونکہ خلیج میں بڑھتی ہوئی جنگ کی وجہ سے توانائی کی منڈیوں کو ترسیل کا شدید جھٹکا لگا ہے، جہاں ایران اور امریکہ-اسرائیل دونوں نے گزشتہ تین دنوں میں بڑے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔بعد ازاں پوتن نے کہا، ’’اگر یورپی کمپنیاں اور یورپی خریدار اچانک خود کو نئے سرے سے متعین کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں اور ہمیں سیاسی دباؤ سے پاک، طویل مدتی، پائیدار تعاون فراہم کرتے ہیں، تو آگے بڑھیں۔ ہم نے کبھی انکار نہیں کیا۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’ہم یورپ کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن ہمیں ان سے کچھ وضاحت کی ضرورت ہے کہ وہ ہمارے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار اور خواہشمند ہیں اور اس پائیداری اور استحکام کو یقینی بنائیں گے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’آبنائے ہرمز سے منسلک تیل کی پیداوار اگلے ماہ سے مکمل طور پر رکنے کا خطرہ ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران کا امریکہ اور اسرائیل پر ملک تقسیم کرکے تیل پر قبضے کی سازش کا الزام
دراصل یہ تبصرے ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان کی جانب سے یورپی یونین پر زور دینے کے گھنٹوں بعد آئے ہیں ، جس میں انہوں نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے قیمتوں میں اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے روسی تیل اور گیس پر لگی پابندیاں معطل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔یاد رہے کہ یورپی یونین نے۲۰۲۲ء میں روسی خام تیل کی سمندری درآمدات پر پابندی لگا دی تھی۔ اے ایف پی کے مطابق، یوکرین کے راستے ڈروزہبا تیل پائپ لائن کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے ہنگری اور سلوواکیہ کو روسی پائپ لائن برآمدات جنوری سے مؤثر طور پر روک دی گئی ہیں۔